نبی اکرمؐ کی حیات مبارکہ کے چند گوشے

آفتاب حیدر نقوی 08/03/2018 382

پیغمبر اسلامؐ اپنی جوانی میں جب تجارت کیا کرتے تھے تو اس تجارت سے حاصل ہونے والی اپنی تمام آمدنی کو ﷲ کی راہ میں صدقہ کے طور پر غریبوں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ جب آپؐ اپنے تکامل کے آخری مراحل میں تھے اور ابھی نزول وحی کا آغاز نہیں ہوا تھا، آپؐ حرا کی پہاڑی پر جاتے اور ﷲ کی نشانیوں کا بغور جائزہ لیتے، جس کے نتیجے میں ذات حق کے مقابلے میں آپ کے خضوع اور خشوع میں روز بروز اضافہ ہوتا جاتا تھا اور اچھے اخلاقیات کی جڑیں آپ کے اندر مضبوط تر ہوتی جاتی تھیں۔ 

یہاں تک کہ 40 سال کی عمر میں آپ کا قلب سب سے زیادہ نورانی، خاشع اور وحی کو قبول کرنے والا تھا۔ اس مرحلے پر ﷲ نے آپؐ پر آسمانوں اور عالم غیب کے دروازوں کو کھول دیا۔ آپ فرشتوں کو دیکھتے اور ان سے گفتگو فرماتے تھے۔ یہاں تک کہ جبرائیل نازل ہوئے اور کہا "اقراء" اور وحی کا آغاز ہو گیا۔

بعثت کے پہلے مرحلہ (تین سال سے زیادہ عرصہ) میں جو کہ غیر اعلانیہ تھا ابھی رسول اکرمؐ صرف 30، 40 افراد کو ہی مسلمان بنا سکے تھے، کہ ارشاد ہوا "فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ۔ إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ" پس آپ اس بات کا واضح اعلان کر دیں جس کا حکم دیا گیا ہے اور مشرکین سے کنارہ کش ہو جائیں، ہم استہزاء کرنے والوں کے لئے کافی ہیں۔ اور اعلانیہ دعوت کا آغاز ہو گیا۔

بزرگان قریش اور مکے کے بااثر افراد کو اپنا مقام خطرے میں دکھائی دیا تو پہلے پہل لالچ دینے کی کوشش کی اور جناب ابو طالبؑ کی خدمت میں آئے اور کہا اگر آپ کا بھتیجا سرداری چاہتا ہے تو ہم اسے سرداری دینے کے لئے تیار ہیں۔ اگر اسے مال و دولت چاہئے تو ہم اسے اتنی مال و دولت دیں گے کہ وہ ہم سب سے زیادہ امیر ہو جائے گا۔ اگر وہ بادشاہ بننا چاہتا ہے تو ہم سب اسے اپنا بادشاہ ماننے کو تیار ہیں۔ لیکن وہ جو باتیں کہ رہا ہے وہ بند کر دے۔

حضرت ابوطالبؑ کو اپنے بھتیجے کی جان خطرے میں نظر آئی۔ پس آپؐ کی خدمت میں پہنچے اور بزرگان مکہ کا یہ پیغام آپؐ تک پہنچایا۔ آپؐ نے فرمایا چچا جان، اگر میرے ایک ہاتھ میں سورج اور دوسرے ہاتھ میں چاند رکھ دیا جائے کہ میں اپنا ہدف و مقصد ترک کر دوں تو بھی خدا کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا، یہاں تک کہ یا تو ﷲ تبارک و تعالی مجھے فتح سے ہمکنار کر دے اور یا ہم سب نابود ہو جائیں۔

یہ کہتے ہوئے چشم مبارک پیغمبرؐ میں آنسو آ گئے اور آپؐ اپنے مفام سے کھڑے ہو گئے۔ حضرت ابو طالبؑ نے ایمان کا یہ انداز اور پائیداری دیکھی تو فرمایا، بھتیجے اپنے ہدف کی جانب بڑھو اور جو چاہو کہو۔ خدا کی قسم میں تمہیں کسی چیز کے بدلے نہیں دے سکتا۔

رسول اکرمؐ اپنے ساتھیوں کو نصیحت کرتے تھے کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں لیکن تم اپنی جگہ سے نہ ہٹنا۔

اس کا ایک نمونہ یہ تھا کہ اوائل اسلام میں بے آب و گیاہ درے کی جلا دینے والی دھوپ میں خود رسول اکرمؐ، حضرت ابو طالبؑ اور حضرت خدیجہؑ اور دیگر مسلمان اپنے اہلخانہ کے ساتھ 3 سال گذار دیتے ہیں۔ یہ درہ حضرت ابو طالبؑ کی ملیکت تھا اور یہاں آنے کو انہوں نے ہی تجویز کیا تھا۔ 

یہاں آنے جانے کے تمام راستے بند تھے کہ انہیں کچھ کھانے پینے کو نہ مل سکے۔ ایام حرمت (جن میں جنگ نہیں کی جاتی تھی) میں مسلمان شہر کے اندر جا سکتے تھے لیکن ابو جہل، ابو لہب اور دوسرے سردان مکہ نے اپنے بیٹوں اور نوکروں کو یہ ہدایت کی تھی کہ اگر یہ کسی دوکان سے کچھ خریدناچاہیں تو تم فوراً اسے دگنی قیمت پر خرید لو اور انہیں خریدنے کا موقع نہ دو۔ 

بچے دن رات بھوک سے بلک کر روتے تھے اور ان کی آوازیں سن کر بعض کفار قریش کے دل بھی پسیج جاتے تھے، لیکن اپنے سرداروں کے خوف سے خاموش بیٹھ جاتے تھے اور ان کی کوئی مدد نہیں کرتے تھے۔ دوسری طرف مسلمانوں کا یہ عالم تھا کہ ان کے بچے بھوک سے تڑپ کر ان کے سامنے جان دے دیتے تھے اور یہ ان کے لئے کچھ نہیں کر سکتے تھے۔

تاریخ ابن اسحق میں مرقوم ہے:

حضرت خدیجہ کے مرنے کے بعد اسی سال حضرت ابو طالب بھی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ واقعی پیغمبرؐ پر زندگی اس قدر تنگ ہو گئی جس کا بیان ناممکن ہے۔ پیغمبرؐ اپنی آخری عمر تک جب بھی جناب خدیجہ کا نام لیتے تھے آپ کے آنسو جاری ہو جاتے۔ جناب عائشہ کہتی تھیں، ایک بوڑھی عورت اس لائق تو نہ تھی، کیا بات ہے؟ 

آپ فرماتے تم سمجھتی ہو میں خدیجہ کی شکل و صورت کے لئے روتا ہوں؟ خدیجہ کہاں اور تم اور دوسری بیویاں کہاں۔ دونوں میں کوئی مقابلہ ہو ہی نہیں سکتا۔

ابوطالبؑ کے بعد مکہ رہنا ممکن نہیں تها۔ پس آپؐ نے ہجرت کا ارادہ کیا۔ رسول اکرمؐ نے مدینہ پہنچتے ہی اپنی پوزیشن واضح کر دی تھی۔ اس زمانے میں مدینہ مختلف محلوں میں اس طرح سے تقسیم تھا کہ ہر محلہ کسی نہ کسی قبیلے سے متعلق تھا۔ آپؐ کی اونٹنی جس محلے میں داخل ہوتی اس قبیلے کا بزرگ اونٹنی کی مہار تھام کے کہتا، اے ﷲ کے رسولؐ یہیں ٹھہر جائیے، ہمارا گھر، ہماری زندگی، ہماری دولت سب آپ پر نثار۔ آپؐ فرماتے تھے آگے سے ہٹ جائیے، "انھا مامورہ"، یعنی یہ ﷲ کے حکم سے چل رہی ہے۔ یہاں تک کہ یہ اونٹنی مختلف محلوں سے گزرتی ہوئی بنی نجار کے محلے تک پہنچ گئی کہ آپؐ کی والدہ ماجدہ جناب آمنہؑ کا تعلق بھی اسی محلے سے تھا۔

یہ آپ کے ننھیال تھے، پس انہوں نے آگے بڑھ کے کہا، اے ﷲ کے رسول ہم آپ کے رشتہ دار ہیں، ہماری جانیں آپ پر قربان۔ آپ یہاں پر اتر جائیے۔ آپؐ نے کہا نہیں۔ سامنے سے ہٹ جائیے اور راستہ دیجئے، یہ سواری حکم کی پابند ہے۔

یہاں تک کہ یہ سواری چلتے ہوئے مدینہ کے غریب محلے میں بیٹھ گئی۔ لوگوں نے دیکھا کہ یہ ابو ایوب انصاریؓ کا گھر ہے۔ جناب ابو ایوب انصاریؓ اور ان کے اہل خانہ باہر آئے، رسولؐ کا سامان اٹھایا اور اندر چلے گئے اور نبی اکرمؐ ایک مہمان کی حیثیت سے گھر میں داخل ہو گئے۔

رسول اکرمؐ نے مدینہ کے قبائل کے سرداروں، رئیسوں اور قرابتداروں کی دعوت ٹھکرا کے سب پر واضح کر دیا کہ آپ کا معیار معاشرت یہ باتیں نہیں اور جو طبقہ زیادہ محروم اور مظلوم تھا وہ اب آپؐ کی رحمت کا زیادہ حقدار ہو گا۔

مدینہ میں حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے گھر کے سامنے بےکار زمین کا ایک ٹکڑا تھا۔ آپؐ کے دریافت کرنے پر بتایا گیا کہ یہ زمین 2 یتیم بچوں کی ہے۔ آپؐ نے اپنی جیب سے رقم دے کے یہ زمین خرید لی اور فرمایا کہ یہاں مسجد تعمیر ہو گی۔

مسجد یعنی اسلام کی عبادتی، اجتماعی، حکومتی اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز یعنی لوگوں کے اجتماع کی جگہ۔ اسلامی معاشرے کو ایسے مرکز کی ضرورت تھی لہذا تعمیر شروع ہو گئی۔

آپؐ نے مسجد کی تعمیر کے لئے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا، بلکہ اپنی جیب سے رقم خرچ کی، جبکہ ان 2 بچوں کے سرپر باپ کا سایہ تھا نہ کوئی اور ان کا حمایتی و طرفدار۔ سب سے پہلے خود نبی اکرمؐ نے اپنے ہاتھ سے زمین کی کھدائی شروع کی۔ آپؐ تعمیراتی کام میں اس طرح مشغول ہوئے کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے ہوئے لوگ بھی یہ کہتے ہوئے کام میں شامل ہو گئے کہ نبیؐ کام کریں اور ہم ییٹھے رہیں؟

اسلام کا پیغام روحانیت اور معنویت کا پیغام ہے۔ یہ دلیل اور استدلال کا پیغام ہے۔ یہ سعادت مند اور تابناک زندگی گذارنے کی دعوت ہے۔ مدینہ میں جب حکومت اسلامی کا قیام عمل میں آیا تو یہاں غیر مسلم بھی رہ رہے تھے۔ یہاں جو یہودی رہ رہے تھے ان کے ساتھ حضور اکرمؐ نے معاہدہ کیا جس کے تحت وہ آرام و سکون کی زندگی گذارنے کے مستحق تھے۔ لیکن انہوں نے سازشیں شروع کر دیں، معارضانہ رویہ اپنایا، خیانتیں کیں، پیٹھ پر خنجر گھونپنا چاہا، لہذا آپ ان کے مقابلے میں کھڑے ہو گئے۔ اگر مدینہ کے یہودی یہ سب نہ کرتے تو آپؐ شائد ان کے خلاف کوئی اقدام نہ کرتے۔

رسول اکرمؐ اپنا ہر کام انتہائی نظم و ضبط سے انجام دیتے تھے اور آپؑ نے ہر کام کے لئے مسئولین/ذمہ داران تعین کئے تھے۔ یہاں تک کہ باوجود اس کے آپ خود مدینہ میں موجود ہوتے تھے، آپ نے مدینہ کا گورنر جناب عتاب بن اسید جو ایک ذہین اور بہادر جوان تھے کو نامزد کیا اور لوگوں کو تاکید کی کہ ان کی کمسنی کی وجہ سے انکی مخالفت نہ کریں کیوں کہ "ہمیشہ (عمر میں) بڑا افضل نہیں ہوتا، بلکہ افضل وہی ہے جو (عظمت میں) بڑا ہو۔

ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ حضور اکرمؐ نے اپنی ساری زندگی بنو امیہ کو کوئی ذمہ داری نہیں سونپی، لیکن نبی اکرمؐ کے صرف 30 سال بعد حکومت اسلامی کے تمام چھوٹے بڑے عہدے بنو امیہ کے ہاتھ میں آ چکے تھے، اور یہ وہ مرحلہ تھا کہ جہاں ابوسفیان کی اولاد کو کربلا جیسا دلدوز سانحہ برپا کرنے کی ہمت ہوئی۔ اور نواسہ رسولؐ کو قتل کر دیا اور ان کی خواتین اور بچوں کو قیدی کر کے بازاروں میں نشان عبرت کے طور پر پھرایا گیا۔

امام حسن مجتبیؑ روایت کرتے ہیں کہ میں اپنے نانا رسولﷲؐ کے ساتھ تھا کہ ایک یہودی آیا جو پہلے آنے والی کتابوں کا اپنے کو عالم سمجھتا تھا۔ کہنے لگا کہ آپ نبی ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ میرے اس سوال کا جواب یا کوئی نبی دے سکتا ہے یا اسکا وصی، اور سوال یہ ہے کہ،

ابراھیمؑ نے کعبہ کے 4 گوشے کیوں بنائے، اس کو مربع کیوں کیا ؟
فرمایا: اس کو مربع اس لئے کیا کہ 4 کلموں پر بنایا، اور وہ 4 کلمے ہیں،

سبحن ﷲ، والحمد للہ، ولا الہ الا ﷲ، وﷲ اکبر۔
اس نے پوچھا کہ کس سے اکبر (بڑا) ہے،
فرمایا: کہ اس سے اکبر ہے کہ اس کا وصف بیان کیا جا سکے اور تعریف کی جا سکے۔

پوچھا، لا الہ الا للہ خود کہے ؟
فرمایا: اس کے لئے ہے کہ اپنی یکتائی کا اعلان خود کرے، اس لئے کہ اگر خود نہ کہے تو عقل کے لئے یہ ممکن ہی نہیں۔

پوچھا: پھر الحمد للہ ؟
فرمایا: اس لئے کہ وہ جان رہا تھا کہ تعریف کسی سے نہ ہو سکے گی تو ذات واجب نے اپنے آپ کو اس قابل قرار دیا کہ خود اپنی آپ تعریف کرے۔

پوچھا: سبحن ﷲ ؟
فرمایا: خدا کو علم تھا کہ بندے اس کی بہت سی باتوں کو جھوٹ قرار دیں گے، اور بہت سی باتوں کی تکذیب کریں گے۔ لہذا کہا کہ ﷲ پاک ہے۔

متعلقہ تحاریر