فاطمة الزهراؑ ۔ سیدة نساءالعلمین

آفتاب حیدر نقوی 09/03/2018 275

ایک حدیث جسے عائشہ بنت طلحہ نے حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے، فرماتی ہیں:

میں نے رسولﷲؐ سے مشابه گفتار و کلام میں اور شکل و شمائل میں فاطمہؑ سے بڑه کر کسی کو نہیں دیکها۔ جب آپؑ رسولﷲؐ کے پاس آتیں تو آپؑ کے والد گرامی انہیں خوش آمدید کہتے اور ان کے ہاتهوں کو چومتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹهاتے۔ اور جب پیغمبر گرامیؐ اپنی بیٹی کے ہاں جاتے تو وہ ان کے لئے کهڑی ہوتیں، انہیں خوش آمدید کہتیں اور ان کے ہاته چومتیں۔

بخاری نے نقل کیا ہے:

فاطمة بَضْعَة منّی فمن أغضبها أغضبنی۔
فاطمہ میرا ٹکڑا ہے، جس نے انهیں ناراض کیا اس نے مجهے ناراض کیا   (صحیح بخاری، ج 5، ص 21)

رسولﷲؐ نے فرمایا: برتر خواتین یہ ہیں

  • حضرت مریمؑ
  • حضرت آسیہؑ
  • حضرت خدیجہؑ
  • حضرت فاطمهؑ
(مسند احمد حنبل، ج 1، ص 293، مستدرک الصحیحین حاکم، ج 3، ص 160)

امام جعفر صادقؑ اپنے آباءواجداد سے روایت کرتے ہیں، حضرت فاطمه الزہرا کا بیان ہے کہ جب یہ آیہ مبارکہ نازل ہوئی:

لَّا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا
تم اپنے درمیان رسول کو ایسے نہ پکارو جیسے ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔

تو میں نے بهی اپنے والد گرامی کو "یا رسول ﷲ" سے خطاب کرنا شروع کر دیا، اور "یا ابة" یعنی "اے میرے بابا جان" سے خطاب چهوڑ دیا۔ آپ میری طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا:

اے فاطمہ! یہ آیت نہ آپ کے لئے ہے اور نہ آپ کے خاندان اور آپ کی نسل کے لئے ہے۔ آپ مجھ سے ہیں اور میں آپ سے ہوں۔ یہ آیت ان لوگوں سے مخاطب ہے جو قریش کے بے ادب اور گستاخ لوگ ہیں۔ اور جب آپ مجهے "یا ابة" سے خطاب کرتی ہیں تو میرے قلب کو تازگی ملتی ہے اور آپکا رب راضی ہوتا ہے۔ پهر آپؐ نے میری پیشانی کو چوم لیا۔ (المناقب ابن غزالی شافعی، ص 364)

امام حسنؑ فرماتے ہیں کہ ایک رات (شب جمعہ) میری مادر گرامی حضرت فاطمہ الزہراؑ عبادت میں مشغول ہو گئیں اور صبح تک عبادت کرتی رہیں یہاں تک کہ سپیدہ سحری نمودار ہو گئی۔ امام حسنؑ فرماتے ہیں کہ میں پوری رات سنتا رہا میری والدہ تمام مومنین و مومنات، مسلمانوں اور دنیائے اسلام کے عمومی مسائل کے حل کے لئے دعا کرتی رہیں اور جب صبح ہوئی تو میں نے عرض کیا مادر گرامی پوری رات جس طرح دوسروں کے لئے دعا کرتی رہی ہیں اس طرح اپنے لئے کیوں دعا نہیں کی؟

حضرت فاطمہ الزہراؑ نے فرمایا، بیٹے پہلے پڑوسی پھر گھر والے۔

حضرت فاطمه زہراؑ کی ایک کنیب "ام ابیها" ہے یعنی اپنے والد کی ماں۔ اس کی وجہ آپ کی انتہائی شفقت اور محبت ذات رسولﷲؐ سے بیان کی گئی ہے کہ اس قدر محبت صرف ایک ماں ہی اپنے بچے سے کر سکتی ہے۔ یہ بهی جناب زہراؑ کی عظمت ہے کہ آیه مباہلہ میں جہاں ارشاد ہوا:

فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا (آل عمران ۔ 61)

میں جہاں "وَنِسَاءَنَا" جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے یعنی کہ ہم اپنی عورتوں کو لائیں گے، تو حضرت رسول خداؐ صرف اپنی ایک ہی عورت یعنی جناب زہراؑ کو لے کر گئے۔ یہیں سے اندازہ ہوتا ہے کہ بهلے امهات المومنین کا اپنا درجہ ہے لیکن جو درجہ جناب زہراؑ کو حاصل ہے وہ کسی اور کو نہیں۔ یہاں سے ایک اور غلط فہمی کا بهی ازالہ ہو جاتا ہے کہ اگر رسول اکرمؐ کی اور بهی بیٹیاں ہوتیں تو لازماً ساتھ لے کر جاتے کیوں کہ لانے کے لئے عورتوں کے بارے جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے جو کم از کم 3 پر صادق آتا ہے۔

سوره ھل اتی (سورہ انسان) آپ اہلبیت کی شان میں اس وقت نازل ہوئی جب حضرات حسنینؑ کے بیمار ہونے پر آپ نے جناب رسول خداؐ کے کہنے پر 3 روزے رکهنے کی نذر مانی۔ بچوں کے صحت یاب ہونے پر سب گهر والوں نے روزے رکهے لیکن ہر روز افطاری کا سامان بالترتیب یتیم، مسکین اور اسیر کو دے دیا اور خود بهوکے رہے۔ اس سوره کی آٹهویں آیت اسی واقعہ کا ذکر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

وَ یُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْکیناً وَ یَتیماً وَ أَسیراً

حضرت علیؑ نے جناب زہراؑ سے پوچها کہ ایک عورتوں کے لئے بہترین چیز کیا ہے۔ حضرت زہراؑ نے فرمایا:

ان کے لئے بہترین چیز یہ ہے کہ نہ وہ کسی مرد کو دیکهیں اور نہ کوئی مرد انہیں دیکهے۔

آپ فرماتی ہیں کہ میں نے جناب رسول خداؐ سے سنا، آپؐ نے فرمایا:

جمعہ کے دن ایسی ساعت ہے کہ جب مسلمان ﷲ عز و جل سے سوال کرے تو وہ اس کی دعا کو قبول کرتا ہے۔

آپؑ نے پوچها کہ وہ کونسی گهڑی ہے۔ رسولﷲؐ نے فرمایا: جب سورج کا نصف حصہ مغرب میں غروب ہو چکا ہو اور اس کا نصف حصہ ابهی باقی ہو۔

متعلقہ تحاریر