حقوق زوجین: زوجہ کے فرائض

آفتاب حیدر نقوی 13/04/2018 413

ایک شخص نے رسول خداؐ کی خدمت میں عرض کی کہ میری بیوی جب میں گهر میں داخل ہوتا ہوں تو میرے استقبال کے لئے آتی ہے، جب گهر سے جاتا ہوں تو مجهے رخصت کرتی ہے، جب مجهے رنجیدہ دیکهتی ہے تو میری دلجوئی کرتی ہے اور کہتی ہے اگر تم رزق و روزی کے متعلق فکر مند ہو تو رنجیدہ نہ ہو کہ روزی کا ضامن تو خدا ہے اوراگر آخرت کے امور کے بارے میں سوچ رہے ہو تو خدا تمہاری فکر و کوشش اور ہمت میں اضافہ کرے۔ آپؐ نے فرمایا اس دنیا میں خدا کے کچھ خاص مقرب بندے ہیں اور یہ عورت بهی خدا کے ان خاص بندوں میں سے ہے۔ ایسی بیوی ایک شہید کے نصف ثواب سے بہرہ مند ہو گی۔

رسول اکرمؐ نے فرمایا،

عورت کے لئے فرض ہے کہ اپنے شوہر کے استقبال کے لئے گهر کے دروازے تک جائے، اور اس کو خوش آمدید کہے۔ اس کے لئے تولیہ اور طشت لائے اور اس کے ہاتھ دهلائے۔ آپؐ نے یہ بهی فرمایا ہے کہ، عورت کا جہاد یہ ہے کہ شوہر کی اچهی طرح دیکه بهال کرے۔ نیز فرمایا، عورت خدا کے حق کو ادا نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ بحیثیت شریک زندگی اپنے فرائض کو بخوبی ادا نہ کرے۔ آپؐ نے یہ بهی فرمایا: جس عورت کو اس حالت میں موت آ جائے کہ اس کا شوہر اس سے خوش اور راضی ہو اسے بہشت نصیب ہو گی۔

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں،

دنیا میں شائستہ بیوی سے بہتر کوئی چیز نہیں، ایسی بیوی جس کو دیکھ کر اس کے شوہر کا دل مسرور ہو جائے۔

عشق و محبت:

رسول اکرمؐ نے فرمایا،

تم میں سے بہترین عورتیں وہ ہیں جو عشق ومحبت کے جذبات سے مملو ہوں۔

فرمایا،

تم میں سے بہترین عورت وہ ہے کہ جب اپنے شوہر کو خشمگین دیکهے تو کہے میں تمہاری خواہشات کے سامنے سر جهکاتی ہوں جب تک تم راضی نہ ہو جاؤ گے میری آنکهوں سے نیند کوسوں دور رہے گی۔

امام علی رضاؑ فرماتے ہیں،

بعض عورتیں اپنے شوہروں کے لئے بہترین نعمت ہیں یعنی ایسی عورتیں جو اپنے شوہر سے عشق و محبت کا اظہار کریں۔

احترام:

رسول ﷲؐ نے فرمایا،

جو عورت اپنی زبان سے اپنے شوہر کو تکلیف پہنچاتی ہے اس کی نمازیں اور دوسرے اعمال قبول نہیں ہوتے، خواہ ہر روز، روزہ رکهے اور راتوں کو عبادت اور تہجد کے لئے اٹهے، غلاموں کو آزاد کرے یا اپنی دولت راہ خدا میں خرچ کرے۔ ایسی عورت جو بدزبان ہو اور اپنی بدزبانی سے اپنے شوہر کو رنج پہنچائے وہ پہلی عورت ہو گی جو دوزخ میں داخل ہو گی۔

رسول ﷲؐ نے فرمایا،

جو عورت اپنے شوہر کو دنیا میں تکلیف پہنچاتی ہے حوریں اس سے کہتی ہیں تجھ پر خدا کی مار، اپنے شوہر کو اذیت نہ پہنچا۔ یہ مرد تیرے لئے نہیں ہے۔ تو اس کے لائق نہیں۔ وہ جلد ہے تجھ سے جدا ہو کر ہماری طرف آ جائے گا۔

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں،

وہ عورت جو اپنے شوہر کا احترام کرے اور اس کو تکلیف نہ پہنچائے وہ خوش نصیب اور سعادت مند ہو گی۔

قناعت و تعاون:

رسول ﷲؐ نے فرمایا،

ہر و ہ عورت جو اپنے شوہر سے نباہ نہ کرے اور جو کچھ اس کو خدا کی جانب سے ملا ہے اس پر قناعت نہ کرے اور اپنے شوہر سے سختی سے پیش آئے اور اسکی استطاعت سے زیادہ کی خواہش کرے، ایسی عورت کے اعمال قبول نہیں ہوں گے اور خدا اس پر عذاب نازل کرے گا۔ نیز فرمایا: خدا پر ایمان کے بعد کوئی نعمت اپنے شوہر کے ساتھ تعاون کرنے سے بڑھ کر نہیں ہے۔ نبی اکرمؐ یہ بهی فرماتے ہیں، تم میں سے بہترین عورت وہ ہے جو کم خرچ ہو۔

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں،

تم میں سے بہترین عورت وہ ہے کہ جب اس کا شوہر کوئی چیز خرید کر لائے تو اس کا شکریہ ادا کرے اور اگر نہ لائے تو راضی رہے۔

بردباری:

ﷲ کے رسولؐ نے فرمایا،

جو عورت اپنے شوہر کی بداخلاقیوں کے مقابلے میں صبر و بردباری سے کام لیتی ہے خداوند عالم اس کو حضرت آسیہؑ جیسا ثواب عطا کرے گا۔ نیز فرمایا: بری عورت اپنے شوہر کے عذر کو قبول نہیں کرتی اور اس کی خطاؤں کو معاف نہیں کرتی۔ امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں، تم جو عورت اپنے شوہر سے کہے کہ تم نے میرے ساتھ کوئی بهلائی نہیں کی تو اس کے تمام اعمال باطل اور بے وقعت ہو جائیں گے۔ نیز فرمایا: عورت کا جہاد یہی ہے کہ اپنے شوہر کی اذیتوں کے مقابلے میں بردباری سے کام لے۔

حیاء:

وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَىٰ عَوْرَاتِ النِّسَاءِ ۖ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ ۚ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (نور۔31)
ترجمہ: مسلمان عورتوں سے کہو کہ وه بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ﻇاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو ﻇاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں، اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ﻇاہر نہ کریں، سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں۔ اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیده زینت معلوم ہوجائے، اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ

رسول ﷲؐ نے فرمایا،

جو شوہر دار عورت اپنے شوہر کے علاوہ غیر مرد پر ہوسناک نگاہ ڈالے پروردگار عالم کے شدید غیظ و غضب کا شکار ہو گی۔ نیز فرمایا: جو عورت خوشبو لگا کر باہر جائے، جب تک گهر واپس نہ آجائے رحمت خدا سے دور رہتی ہے۔ آپؐ نے یہ بهی فرمایا: تم میں سے بہترین عورت وہ ہے جو اپنے شوہر کی اطاعت گزار ہو اس کے لئے آرائش کرے لیکن اپنا بناؤ سنگهار غیروں پر ظاہر نہ کرے اور تم میں سے بدترین عورت وہ ہے جو اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں زینت کرے۔

ﷲ کے رسولؐ نے فرمایا،

تم میں سے بہترین عورت وہ ہے جس کے زیادہ بچے ہوں، شوہر سے محبت کرنے والی، پاکدامن اور باحیا ہو، اپنے رشتہ داروں کے مقابلے میں تسلیم نہ ہو لیکن اپنےشوہر کی مطیع و فرمانبردار ہو۔ اپنے شوہر کے لئے آرائش کرے، خود کو غیروں سے محفوظ رکهے۔ اپنے شوہر کی بات سنے اور اس کی اطاعت کرے۔ جب دونوں تنہا ہو تو اس کے ارادے پر عمل کرے لیکن ہر حال میں شرم و حیا کا دامن ہاتھ سے نہ چهوڑے۔
پهر فرمایا: تم میں سے بدترین عورت وہ ہے جو اپنے رشتہ اروں کی اطاعت کرے لیکن اپنے شوہر کی بات پر توجہ نہ دے۔ کینہ ور اور بانجھ ہو۔ برے کاموں سے پرہیز نہ کرے۔ شوہر کی غیرموجودگی میں زینت و آرائش کرے اور خلوت میں شوہر کی خواہشات کو رد کرے۔ اس کے عذر کو قبول نہ کرے اور اس کے گناہوں کو معاف نہ کرے۔

بناؤ سنگهار:

امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں، عورت پر لازم ہے کہ اپنے جسم میں خوشبو لگائے اپنا بہترین لباس پہنے۔ بہترین طریقے سے زیب و زینت کرے اور اسی حالت میں صبح اور رات کو اپنے شوہر سے ملے۔

امام جعفر صادقؑ

فرماتے ہیں، عورت کو آرائش و زیبائش ترک نہیں کرنا چاہئے ایک گلوبند ہی کیوں نہ ہو۔ ہاتھوں کو بهی سادہ نہیں رکهنا چاہئے، چاہے تهوڑی سی مہندی ہی لگا لے۔ جتی کہ بوڑهی عورتوں کو بهی زینت و آرائش ترک نہیں کرنا چاہئے۔

اطاعت:

ﷲ کے رسولؐ سے ایک عورت نے پوچها کہ بیوی پر شوہر کے کیا فرائض عائد ہوتے ہیں، تو فرمایا: اس کی اطاعت کرے اور اس کے حکم کی خلاف ورزی نہ کرے۔

رسول ﷲؐ نے فرمایا،

اچهی عورت اپنے شوہر کی بات پر توجہ دیتی ہے اور اس کے کہنے کے مطابق عمل کرتی ہے۔ نیز فرمایا: بدترین عورتیں وہ ہیں جو بانجھ، غلیظ، ضدی اور نافرمان ہوں۔ آپؐ نے یہ بهی فرمایا: جو عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر گهر سے جاتی ہے تو تمام آسمانی فرشتے اور جن و انس اس وقت تک اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ واپس نہیں آ جاتی۔

البتہ بیوی چند حالتوں میں شوہر کی اجازت کے بغیر گهر سے باہر جا سکتی ہے اور شوہر کو حق نہیں کہ اسے روکے۔

  1. دین کے ضروری مسائل (جیسے طہارت، نماز، روزہ وغیرہ) سیکهنے کے لئے گهر سے باہر جانا
  2. استطاعت کی صورت میں حج کے لئے سفر کرنا
  3. قرض ادا کرنے کے لئے گهر سے باہر جانا، جبکہ باہر جائے بغیر یہ ممکن نہ ہو۔

امور خانہ داری:

نبی اکرمؐ نے فرمایا،

تم میں سے بہترین عورت وہ ہے جو اپنے بدن میں خوشبو لگائے، کهانا پکانے کے فن میں ماہر ہو اور زیادہ خرچ نہ کرے۔ ایسی عورت کا شمار خدا کے عمال میں ہو گا اور خدا کے عامل کو کبهی بهی شکست اور پشیمانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ نیز فرمایا، اپنے شوہر کی نسبت عورت کا فرض ہے کہ گهر کے چراغ کو روشن کرے اور اچهی و عمدہ غذائیں تیار کرے۔

حضرت ام سلمہؓ نے نبی اکرمؐ سے پوچها: عورت کے گهر میں کام کرنے کی کس قدر فضیلت ہے؟ فرمایا:

ہر وہ عورت جو امور خانہ داری کے سلسلے میں اصلاح کی خاطر اگر کوئی چیز ایک جگہ سے اٹها کر دوسری جگہ رکھ دے، خدا اس پر رحمت کی نظر فرمائے گا اور جو شخص خدا کا منظور نظر ہو جائے عذاب الہی میں گرفتار نہیں ہو گا۔ جب عورت حاملہ ہوتی ہے تو خدا اس کو اس شخص کا سا اجر عطا فرماتا ہے جو اپنے نفس اور مال کے ساتھ خدا کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔ جس وقت وہ بچے کو جنم دیتی ہے تو اس سے خطاب ہوتا ہے کہ تمہارے گناہ معاف کر دئیے گئے اپنے اعمال پهر سے شروع کرو۔ جب اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے ہر مرتبہ دودھ پلانے کے عوض اس کے نامہ اعمال میں ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب لکها جاتا ہے۔

امانت داری:

نبی اکرمؐ نے فرمایا،

بیوی اپنے شوہر کے اموال کی نگہبان اور امانت دار ہوتی ہے۔

ایک عورت نے نبی اکرمؐ سے سوال کیا کہ شوہر کے تئیں بیوی کے کیا فرائض ہیں؟ آپؐ نے فرمایا:

اس کی مطیع ہو۔ اس کے کہنے کی خلاف ورزی نہ کرے۔ اور بغیر اس کی اجازت کے اسکی کوئی چیز کسی کو نہ دے۔

امام علی رضاؑ فرماتے ہیں،

انسان کے لئے نیک اور شائستہ شریک زندگی سے بڑھ کر اور کوئی سود مند چیز نہیں۔ ایسی بیوی کہ جب اس کی طرف نگاہ کرے تو اسے خوشی و شادمانی حاصل ہو۔ اسکی غیرموجودگی میں اپنے نفس اور اس کے مال کی حفاظت کرے۔

پردہ پوشی اور رازداری:

ارشاد باری تعالی ہے:

هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ (بقره – 187)
ترجمہ: وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔

لباس انسان کے عیوب کو چهپاتا ہے اور میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب ہونے کی وجہ سے ایک دوسری کی عیوب سے بهی قطعی طور پر آشنا ہوتے ہیں۔ پس ذمہ دار ٹهہرائے گے ہیں کہ ایک دوسرے کی پردہ پوشی کریں۔

شوہروں کی ذمہ داریوں سے متعلق آرٹیکل اس لنک پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ تحاریر