متعہ

آفتاب حیدر نقوی 11/11/2014 331

متعہ اور اس طرح کے بعض موضوعات پر تو یوں معلوم ہوتا ہے بعض لوگوں کا سارا دین شیعہ دشمنی پر ہی مبنی ہے۔ جیسے اہل سنت کی کتب میں بہت ساری احادیث جعلی اور ضعیف ہیں اسی طرح سے شیعوں کی کتب میں بھی ہیں۔ اب اگر کوئی صحیح راستے سے جانا چاہے گا تو صحیح احادیث کی بنیاد پر تنقید کرے گا اور اگر فتنہ پرور ہو گا تو موضوعی اور ضعیف احادیث کو استدلال کی بنیاد قرار دے گا۔ متعہ کو زنا کے طور پر پروپیگنڈا کرنے والوں کے لئے میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ قرآن نے جن سے نکاح کو حرام قرار دیا ہے ان سے متعہ بھی جائز نہیں ہے۔ متعہ مکمل شرائط کے ساتھ ہے جس میں نکاح، حق مہر، تنسیخ نکاح اور قریباً 4 ماہ کی عدت بھی شامل ہے۔  جس خاتون سے متعہ کیا جائے گا اس کو قریب 4 ماہ کی عدت گذارنا ہو گی جس کے بعد وہ دوبارہ نکاح دائمی یا متعہ کر سکے گی۔ ایسی صورت میں شیعہ دشمنوں کے اس پروپیگنڈا کی قلعی کھلی جاتی ہے کہ متعہ گھنٹہ بھر کے لئے یا ایک رات کے لئے کیا جاتا ہے۔

فقط محرم بنانے کی غرض سے متعہ ہو تو سکتا ہے (اس میں شرط عائد ہوتی ہے کہ جنسی تعلق قائم نہیں کیا جائےگا، اور یہ متعہ صرف محرمیت قائم کرنے کے لئے ہے) لیکن اس متعہ کے لئے بھی لڑکی کے ولی کی اجازت شرط ہے۔ اگر لڑکی کا باپ اور دادا یا جو بھی ولی ہو وہ اجازت دیں تو محرمیت کے لئے متعہ ہو سکتا ہے۔ البتہ کنواری لڑکی سےمتعہ ویسے بھی منع کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متعہ شیعوں کے اپنے درمیان بھی رائج نہیں ہے۔ اور صرف کتابوں کی حد تک محدود ہے، البتہ صیہونی اور سعودی ایجنٹ جن کا کام صرف شیعوں پر کیچڑ اچھانا ہوتا ہے وہ ان روایتوں سے خوب کام لیتے ہیں۔ حتی متعہ شیعہ اکثریتی علاقوں یعنی ایران، عراق، بحرین، لبنانی وغیرہ میں بھی 1400 سالوں میں رائج نہیں ہو سکا، حالانکہ انہیں کسی کا خوف نہیں تھا۔

سپاہ صحابہ کے پروپنگڈے نے لوگوں کو شیعیت سے بدظن کر دیا ہے۔ حالانکہ یہی چیز اہل سنت میں بھی ہے البتہ دوسرے نام سے۔  ملاحظہ فرمائیں نکاح مسیار

 اور جہاد بالنکاح تو مسیار سے بھی بہت آگے کی چیز ہے جس کو کسی طور سے شریعت محمدی سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ اس وقت بحث دوسرے کی منفی چیزوں کو بیان کرنا نہیں بلکہ صرف اپنی درستگی واضح کرنا ہے۔

پھر متعہ قرآن سے ثابت ہے۔ حضرت عمر کا ایک بہت معروف قول ہے

متعتان كانتا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم. أنا أنهى عنهما متعة النساء ومتعة الحج

یا دوسری عبارت میں

متعتان كانتا على عهد رسول الله وأنا احرمهما واعاقب عليهما

یعنی رسول خدا (ص) کے زمانے میں دو متعہ تھے میں ان دونوں کو حرام کرتا ہوں اور ان پر سزا دوں گا۔ یعنی متعة النساء ومتعة الحج پر۔

البتہ ان دونوں کا قرآن میں تذکرہ سورة البقرة : 196 اور سورة النساء : 24 سے دیکھا جا سکتا ہے۔

شیعہ یہ کہتے ہیں کہ جس چیز کو رسول خداؐ نے حلال قرار دیا ہے اس کو عمر کیسے حرام کر سکتے ہیں۔ آپ گوگل میں صرف لفط "متعتان" لکھیں تو وہ ساری کہانی خود ہی بیان کر دے گا۔

متعہ کے بارے میں اعتدال پسندی کے ساتھ درج ذیل تشریح کو دیکھنا چاہئے۔

  • متعہ آج تک شیعوں میں عملی طور پر رائج نہیں ہوا
  • متعہ کے لئے ولی کی اجازت شرط ہے
  • متعہ کنواری لڑکی سے کرنا مکروہ ہے
  • متعہ بدکار اور بازاری عورت سے بھی نہیں کرنا چاہئے
  • متعہ کی عدت بھی نکاح دائم کی عدت جیسی ہے
  • متعہ سے ہونے والی اولاد کی ذمہ داری باپ پر اسی طرح سے ہوتی ہے جیسے نکاح دائم سے ہونے والی اولاد کی۔
  • متعہ ایسے ہی ہے جیسے آپ شادی کریں اور پھر طلاق دے دیں۔

متعلقہ تحاریر