دو قومی اور ایک وطنی نظریہ

آفتاب حیدر نقوی 27/01/2013 115
هُوَ الَّذي أَرسَلَ رَسولَهُ بِالهُدىٰ وَدينِ الحَقِّ لِيُظهِرَهُ عَلَى الدّينِ كُلِّهِ وَلَو كَرِهَ المُشرِكونَ
ترجمہ: وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اسے اور تمام مذاہب پر غالب کر دے اگرچہ مشرکین ناخوش ہوں

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو ایک نظریہ کی بنیاد پر قائم ہوا جسے دو قومی نظریہ کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس نظریہ کی بنیاد خالصتاً مذھبی اور اسلامی ہے۔ ویسے تو اسرائیل کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ اسکی بنیاد میں بھی یہودیوں کی اسی قسم کی ضرورت کارفرما تھی اور اس حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح سے پاکستان کا وجود منصفانہ اور منطقی ہے اسی طرح سے یہودیوں کو بھی اپنے لئے علیحدہ مملکت کا حق ہے۔ بات کہیں اور نہ نکل جائے یہاں بس اتنا عرض کر دوں کہ پاکستان پہلے سے موجود تھا اور صرف بھارت سے سرحدیں علیحدہ کی گئی ہیں، جبکہ اسرائیل کے لئے وہاں کی مقامی آبادی کو بے دخل اور ہمسایہ ممالک کی زمینوں پر قبضہ جما کے پوری دنیا سے یہودیوں کو لا کے بسایا گیا ہے اس قسم کی مملکت کے وجود کو کوئی چیز جواز فراہم نہیں کر سکتی۔ ہاں بقول جناب محمود احمدی نژاد اگر یہ ملک کسی جنگل میں بسا لیا جاتا تو ہمیں یہودیوں کے کہیں رہنے اور ملک بنانے پر کوئی اعتراض نہیں۔

آج سے 72 سال پہلے لاہور میں مسلم لیگ کے ایک جلسہ میں قرارد پاکستان پیش کی گئی اور اس قرارداد کی پیروی میں مملکت خدا داد کا حصول ایک عظیم نعمت غیر مترقبہ ہے کہ جو لاکھوں مسلمانوں کی پیہم کوشش کے نتیجے میں انہیں رب ذوالجلال کی طرف سے عطا ہوئی۔ البتہ آج ایک دفعہ پھر یہ سوچنےکی ضرروت ہے کہ کیا جب اس عظیم واقعہ کو 100 سال گذر جائیں گے (یعنی 2047ء میں) تو کیا اس نظرئیے کی افادیت اسی طرح سے قائم رہے گی۔ کیا نئے زمانے کی ضروریات  کے مطابق ہمیں نئے سماجی اور معاشرتی اصولوں کو نہیں اپنانا چاہئے۔

البتہ اس سے یہ نہ سمجھا جائےکہ پاکستان کی بنیاد کسی غلط اصول پر رکھی گئی ہے اسلئے پہلے ایک جائزہ 2 قومی نظریہ کا لیتے ہیں اور اسکے بعد اگلی صدی کے نظریہ یعنی 1 وطنی نظریہ کی طرف بڑھیں گے۔

  • اسلام ایک عملی مذھب ہے جو خالی کتابوں کے پڑھنے اور تقریریں کرنے/ سننے کی بجائے انسان کو اپنے آفاقی اصولوں کو معاشرہ میں لاگو کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ پس ایسے معاشرہ کا قیام کہ جہاں مسلمان طاقت میں ہوں اور اپنی مرضی کے اصولوں کو لاگو کر سکیں اسلام کی بنیادی ضرورت ہے۔ 1947ء میں مسلمان ہندوستان میں اقلیت میں تھے اور ہندو اپنی عددی برتری کی بنیاد پر درج ذیل میں سے ایک کام کرتے جبکہ یہ دونوں کام اسلام کی مصلحت کے خلاف تھے۔
    1. یا تو وہ ایسی بنیاد رکھتے کہ جس میں متحدہ ہندوستان ایک ہندو ملک کے طور پر متعارف ہوتا اور مسلمان اقلیت میں گنے جاتے
    2. یا جیسے کہ اب ہے کہ برصغیر ایک سیکولر ملک ہوتا
  • انگریزوں کے دور میں مسلمان تعلیم اور اقتصاد کے میدانوں میں ہندؤوں سے بہت پیچھے تھے اور اگر پاکستان نہ بنتا تو متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی وہی حالت ہوتی جو اب ہندوستان میں ہے کہ ابھی تک مسلمان ہندؤوں سے ہر میدان میں بدرجہا پیچھے ہیں۔ اور انکا موازنہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں سے کسی طور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ بالخصوص اقتصادی میدان میں پاکستان اور بنگلہ دیش میں بسنے والے مسلمان جتنے خوشحال ہیں اس سطح پہ ہندوستان کے مسلمان شائد آئندہ 100 برسوں میں بھی نہ آ سکیں۔
  • علیحدہ وطن (پاکستان، بنگلہ دیش)ق نے مسلمانوں کو عزت، وقار اور خودداری کے بےمثال دولت سے سرفراز کیا۔ انہیں ایک سماجی حیثیت سے نوازا اور اپنے ملک میں انہیں پہلے درجے کے شہری ہونے کے فخر سے معمور کیا ورنہ آج بھی ہندوستان میں مسلمانوں کو شودر کےبرابر یا اس سے بھی کم درجہ پر رکھا جاتا ہے۔
  • ایک ملک کہ جس میں مسلمان اقلیت میں ہوں حتماً انکا رہن سہن اس ملک میں بسنے والی اکثریت کے زیر تابع آجانا تھا۔ اور جس طرح آج دہلی میں خواتین درندوں کے رحم و کرم پر ہیں اور کوئی انکی عزت کی حفاظت کی ضمانت دینے کو  تیار نہیں، اسی طرح سے مسلمانوں کی ثقافت، انکا رہن سہن اور انکی اقدار اگر اس درجہ متاءثر نہ بھی ہوتیں تو کم از کم بری طرح سے خراب ضرور ہوتیں۔
  • ہندوستان کا ایک اور چہرہ بابری مسجد، درگاہ حضرت بل، گجرات کے فسادات، سمجھوتہ ایکسپریس آتشزدگی اور دل دہلا دینے والے بیسیوں واقعات ہیں، کہ جہاں مسلمانوں کی جان، مال اور ناموس کو بری طرح سے پامال کیا جاتا ہے اور حکومتی مشینری اس سارے معاملے میں چپ سادھے رہتی ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش میں مسلمان ایک دوسرے کو قتل کریں تو کریں وگرنہ انہیں کوئی اور کچھ کہنے کی جراءت نہیں کر سکتا۔ یہ طاقت، یہ تحفظ اور یہ امن و سکون ایک عظیم نعمت ہے کہ جو دوقومی نظریہ کے ثمرات میں سے ایک ہے۔

 اس ساری بحث سے یہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ دو قومی نظریہ اس دور کی اہم ضرورت تھا اور ہم آج ہندوستان کے ساتھ برابری کی بنیاد پر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر عزت اور وقار سے بات کرتے ہیں تو یہ اسکے علاوہ ممکن نہیں تھا۔ لیکن اب ذرا حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے تصویر کے دوسرے رخ کو بھی دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ ان 72 سالوں میں حالات کیا رخ اختیار کر چکے ہیں اور ہمیں نئے زمانے کے مطابق اپنی حکمت عملی کو کس طرح سے ڈھالنا چاہئے۔

  • برصغیر یا جنوبی ایشیا میں مسلمان آج اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں اپنی تعداد کے اعتبار سے اگر اکثریت نہیں ہیں تو کم از کم اقلیت بھی نہیں کہے جا سکتے۔ آج کے نقشہ میں اس خطہ میں 3 بڑے ملکوں ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں بسنے والے مسلمان، ہندؤوں کی عددی برتری کو چیلنج کر رہے ہیں۔
  • آج کے برصغیر کے مسلمان معاشی لحاظ سے بہت مضبوط ہیں۔ یہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالک ہیں، کارخانہ دار ہیں، زمیندار ہیں، تاجر ہیں اور پوری دنیا میں اپنا ایک مقام اور شناخت رکھتے ہیں۔
  • آج کے برصغیر کے مسلمان علمی لحاظ سے بہت آگے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف پوری دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں سے کسب فیض کیا ہے بلکہ اعلی تعلیمی اور تحقیقی اداروں کے قیام اور علوم و فنون میں خاطر خواہ پیش رفت سے آج دنیا میں ایک مقام رکھتے ہیں۔
  • آج کے برصغیر کے مسلمان حکومتیں چلانے کا عملی تجربہ رکھتے ہیں اور جمہوریت، صدارتی نظام، مارشل لاء، ایمرجنسی اور بہت سارے سیاسی نظاموں کا مزہ چکھ چکے ہیں کہ شائد ہی کسی ملک کے رہنے والے باشندے اپنی زندگیوں میں ایک ساتھ اتنے سارے سیاسی نظاموں سے بہرہ مند ہوئے ہوں۔

یہاں 1 وطنی نظریہ کی بحث جنم لیتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اب برصغیر کے مسلمان اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ اب ہم متحدہ ہندوستان میں برابری کی سطح پر عزت، وقار اور امن و سکون کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں درجذیل معروضات پیش کی جا رہی ہیں۔

  • چونکہ مسلمان برصغیر میں اقلیت میں نہیں رہے لہذا اب انہیں 1 وطن کے قیام کی طرف بڑھنا چاہئے تاکہ وہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو دوبارہ حاصل کرنے کی طرف قدم بڑھائیں اور اپنی سرحدوں کو پاکستان اور بنگلہ دیش سے نکال کر اپنے آپکو دنیا کے سب سے بڑے ملک کے طور پر متعارف کروائیں۔
  • مسلمان اور ہندو اگر برابری کی بنیاد پر کسی سمجھوتے پر متفق ہوں تو اسے قبول کرنا چاہئے کیوں کہ بالاخر خدا کے وعدہ کے مطابق ایک روز سب لوگ حق کی طرف متوجہ ہوں گے اور مسلمانوں کو اس دن کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کا سوچنا چاہئے۔
  • رسول اکرمؐ کی آفاقی تعلیمات کو دنیا کی اس بڑی آبادی تک پہنچانے میں اگر یہ سرحدیں رکاوٹ ہیں تو یہ ایک اسلامی فریضہ بنتا ہے کہ انہیں مٹا دیا جائے اور اسلام کے لازول پیغام کو نہ صرف زبانی برصغیر کے ہر فرد تک پہنچایا جائے بلکہ عملی طور پر انہیں اسلام کے بے مثال سماجی اور معاشرتی اصولوں کو لمس کرنے کا موقع دیا جانا جائے تاکہ وہ اطمینان قلب کے ساتھ دین حق کی طرف قدم بڑھا سکیں۔
  • 1 وطن ہونے کا بڑا فائدہ اس خطہ کے عوام کو یہ ہو گا کہ ان کے بجٹ کا وہ بڑا حصہ جو دفاع اور جنگوں پر خرچ ہوتا ہے وہ انکی فلاح و بہبود پر خرچ ہو گا۔ لمبی چوڑی فوجوں کی ضرورت ختم ہو جائے گی اور یہ قومیں حالت جنگ سے نکل کر ترقی کی نئی منازل کو چھوئیں گی۔
  • برصغیر کے ممالک جو اس وقت ایک دوسرے کے خلاف پراکسی جنگوں میں مصروف ہیں، 1 وطن بننے کے بعد امن کا قیام ان سب کی مشترکہ ذمہ داریوں میں آئے گا اور عوام ہی سب سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گے کہ جیسے اب سب سے زیادہ پس رہے ہیں۔
  • 1 وطن کا سب سے زیادہ فائدہ بھارت کے مسلمانوں اور بالخصوص مظلوم کشمیریوں کو ہو گا کہ جنہیں قیام پاکستان کے بعد سے وطن دشمن سمجھا اور سلوک کیا جاتا ہے۔ 1 وطن میں یہ 20 کروڑ مسلمان سکون اور اطمینان کا سانس لیں گے اور باغی، جاسوس اور وطن دشمن جیسے القابات سے نجات پائیں گے۔
  • خدا اور اس کے رسولؐ کا وعدہ حق ہے اور ایک دن آئے گا کہ جب پوری دنیا پر امام مہدی (عج) کی حکومت قائم ہو گی۔ تو ہمیں سمجھنا چاہئے کہ علیحدہ علیحدہ ملک اس عالمی حکومت کے ھدف کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں یا 1 وطن۔

اس ساری بحث کے بعد کہیں دو قومی نظریہ کی نفی متصور نہ ہو اس لئے واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اسلام کے علاوہ باقی تمام ادیان کے پیروکاروں کے ساتھ ہم مل کر تو رہ سکتے ہیں لیکن ان کے اعتقادات، رسوم و رواج، ثقافت اور طرز معاشرت اور ان کے زندگی کے اصول انکے اپنے لئے ہیں اور مسلمان ان تمام چیزوں میں ڈیڑھ ہزار سال سے دنیا میں اپنا ایک منفرد اور اعلی مقام رکھتے ہیں۔ ہاں ہم نے ہی دنیا کو تہذیب سکھائی ہے اور اعلی انسانی اقدار کی تربیت دی ہے۔ پس ہم جہاں بھی اور جس قوم کے ساتھ رہیں گے اپنی امت محمدیؐ کی حیثیت اور شناخت کے ساتھ رہیں گے اور دوسروں کو اس عظیم پیغمبرؐ کے نقش قدم پر چلنے کی دعوت دیتے رہیں گے۔

اسی بناء پر میرے خیال میں 2047ء میں برصغیر کو پھر سے متحد کر دینا چاہئیے۔ نئے ملک کا نام "پاک بھارت" ہو جس میں اسلام اور ہندو مت دو سرکاری مذاہب کے طور پر اعلان کئے جائیں جبکہ اقلیتوں کے تحفظ کا اعادہ کیا جائے۔ اگر پہلے مرحلے میں یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم یورپی یونین کی طرز پر جنوبی ایشیا کی یونین قائم کر دی جائے۔ اقبال کے دو قومی نظریہ کے بعد اقبال کے ہی اس نظریے کو آگے لے کے بڑھنا چاہئے کہ

چين و عرب ہمارا ، ہندوستاں ہمارا 
مسلم ہيں ہم ، وطن ہے سارا جہاں ہمارا

خداوندا محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرما کہ اگر وہ نہ ہوتے تو ہم انسانیت کے ان اعلی منازل کو درک تک نہ کر سکتے تھے۔ خدایا اسلام اور مسلمانوں کو بصیرت، اتحاد اور جہد مسلسل کی نعمتوں سے نواز۔ مالک اپنی آخری حجت حضرت امام مہدیؑ کا جلد ظہور فرما کہ کائنات میں چھائے مایوسی کے اندھیرے انہیں کے وجود نورانی سے چھٹ سکتے ہیں۔ معبود تو ہی ولی نعمت ہے اور قدرت تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔

متعلقہ تحاریر