نہج البلاغہ: خطبہ 23

آفتاب حیدر نقوی 06/06/2018 260

ہر شخص کی قسمت میں جو کم یا زیادہ ہوتا ہے اسے لے کر فرمان قضا آسمان سے زمین پر اس طرح نازل ہوتے ہیں جس طرح بارش کے قطرات۔ لہذا اگر کوئی شخص اپنے کسی بھائی کے اہل و مال و نفس میں فراوانی و وسعت پائے تو یہ چیز اس کے لئے کبیدگی خاطر کا سبب نہ بنے۔ جب تک کوئی مسلمان مرد کسی ایسی ذلیل حرکت کا مرتکب نہیں ہوتا کہ جو ظاہر ہو جائے تو اس کے تذکرہ سے اسے آنکھیں نیچی کرنا پڑیں اور جس سے ذلیل آدمیوں کی جراءت بڑھے, وہ اس کامیاب جواری کی مانند ہے جو جوئے کے تیروں کا پانسہ پھینک کر پہلے مرحلے میں ہی ایسی جیت کا متوقع ہوتا ہے جس سے اسے فائدہ حاصل ہو اور پہلے نقصان ہو بھی چکا ہو تو وہ دور ہو جائے۔

اسی طرح وہ مسلمان جو بددیانتی سے پاک ہو, دو اچھائیوں میں سے ایک کا منتظر رہتا ہے۔ یا ﷲ کی طرف سے بلاوا آئے تو اس شکل میں ﷲ کے یہاں کی نمتیں ہی اس کے لئے بہتر ہیں اور یا ﷲ تعالی کی طرف سے (دنیاوی) نعمتیں حاصل ہوں تو اس صورت میں اس کے لئے مال بھی ہے اور اولاد بھی اور پھر اس کا دین اور عزت نفس بھی برقرار ہے۔ بےشک مال و اولاد دنیا کی کھیتی اور عمل صالح آخرت کی کشت زار ہے اور بعض لوگوں کے لئے ﷲ ان دونوں چیزوں کو یکجا کر دیتا ہے۔ جتنا ﷲ نے ڈرایا ہے اتنا اس سے ڈرتے رہو اور اتنا اس سے خوف کھاؤ کہ تمہیں عذر نہ کرنا پڑے۔عمل بےریا کرو اس لئے کہ جو شخص کسی اور کے لئے عمل کرتا ہے ﷲ اس کو اسی کے حوالہ کر دیتا ہے۔ ہم ﷲ سے شہیدوں کی منزلت, نیکوں کی ہمدمی اور انبیاء کی رفاقت کا سوال کرتے ہیں۔

اے لوگو! کوئی شخص بھی اگرچہ وہ مالدار ہو اپنے قبیلے والوں اور اس امر سے کہ وہ اپنے ہاتھوں اور زبانوں سے اس کی حمایت کریں بےنیاز نہیں ہو سکتا اور وہی لوگ سب سے زیادہ اس کے پشت پناہ اور اسکی پریشانیوں کو دور کرنے والے اور مصیبت پڑنے کی صورت میں اس پر شفیق و مہربان ہوتے ہیں۔ ﷲ جس شخص کا سچا ذکر خیر لوگوں میں برقرار رکھتا ہے تو یہ اس مال سے کہیں بہتر ہے جس کا وہ دسروں کو وارث بنا جاتا ہے۔

دیکھو تم میں سے اگر کوئی شخص اپنے قریبیوں کو فقر و فاقہ میں پائے تو ان کی احتیاج کو اس امداد سے دور کرنے سے پہلو تہی نہ کرے جس کے روکنے سے کچھ بڑھ نہ جائے گا اور صرف کرنے سے اس میں کچھ کمی نہ ہو گی۔ جو شخص اپنے قبیلے کی اعانت سے ہاتھ روک لیتا ہے تو اس کا تو ایک ہاتھ رکتا ہے لیکن وقت پڑنے پر بہت سے ہاتھ اس کی مدد سے رک جاتے ہیں۔ جو شخص نرم خو ہو وہ اپنی قومی محبت ہمیشہ باقی رکھ سکتا ہے۔

متعلقہ تحاریر