معیشت اور انسانی اقدار

آفتاب حیدر نقوی 16/05/2012 115

آج صبح انٹرنیٹ پر خبر پڑھی کہ پاکستان آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے رحمن ملک سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ انہیں نیٹو سپلائی لائن کی جلد بحالی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

یہ خبر پڑھنے کے بعد عجیب احساسات کا شکار ہوا کہ کیا معیشت کی کچھ اقدار بھی ہونی چاہئیں یا نہیں؟ انسان کو روپیہ کمانے کے لئے کس حد تک جانے کی اجازت ہونی چاہئیے؟ کیا نیٹو کو تیل اور دیگر اشیاء کی فراہمی ان کی قتل و غارتگری میں امداد کے مترادف نہیں؟

اس کے ساتھ جب اپنے گرد و پیش پر نظر دوڑائی تو مجھے اپنی معاشرہ کی بہت ساری برائیوں کے پیچھے یہی حوس نظر آئی۔ منشیات فروش کو بھی بس روپیہ چاہئیے چاہے اس کے لئے اسے انسانی زندگیوں کو تباہ و برباد اور معاشرہ کے نظام کو تہ و بالا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ برائی کے اڈے چلانے والوں کو بھی چاہے با عفت لڑکیوں بہلا پھسلا کے، مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اور یہاں تک کہ اغواء کر کے بھی اپنا کام چلانا پڑے تو بھی انہیں بس روپیہ چاہئیے۔ گذشتہ چند سالوں میں ننگی اور بیہودہ سی ڈیز/ ڈی وی ڈیز اور کیبل کے کاروبار نے جتنی ترقی کی ہے اسکے پیچھے بھی یہی بے مہار روپیہ طلبی تھی۔ (نوٹ: کیبل میں حرج نہیں اگر اچھے چینلز کے ساتھ ہو) انسانی اقدار اتنی زوال پذیر ہو چکی ہیں کہ روپے کے خاطر کوئی کسی کو قتل بھی کر سکتا ہے نہیں بلکہ انسانیت اس حد تک مفقود ہو چکی ہے کہ لوگوں کو قتل کرنا ایک پیشہ بن جائے اور کوئی بھی روپیہ دے کے کسی کو قتل کروا دے۔ روپیہ دے کے خود کش بمبار خریدے اورجہاں مرضی استعمال کئے جا سکیں۔

بہت ساری انگریزی اور دوسری زبانوں کی فلمیں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں کہ جن میں بیہودگی کا عنصر نہ ہونے کے برابر ہے لیکن وہ ہیں انتہائی اعلی معیار کی فلمیں اور یقیناً انہوں نے اچھی کمائی بھی کی ہو گی۔ پتہ نہیں ہمارے فلمسازوں اور ڈرامہ سازوں کو کس نے یہ پٹی پڑھائی ہے کہ جب تک آپ بیہودگی اور ننگے پن کی انتہاء کو نہیں چھوئیں گے آپ کمائی نہیں کر سکتے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ فلمساز اور ڈرامہ ساز، بیہودہ تھیٹر چلانے والے، بڑے پیمانے پر سی ڈیز/ڈی وی ڈیز کا کاروبار کرنے والے، منشیات فروش، جسم فروشی کے مراکز چلانے والے، جعلی ادویات کا کاروبار کرنے والے، ملاوٹ کرنے والے، ذخیرہ اندوزی کرنے والے، عوام کے مال کو لوٹ ک مال سمجھ کے اندھا دھندہ کرپشن کرنے والے سیاستدان اور بیوروکریٹ یہ تمام لوگ اگر ارب پتی نہ ہوں تو کم از کم  کروڑ  پتی ضرور ہوتے ہیں اور اگر یہ لوگ جائز ذرائع سے ہلکی سی بھی کوشش کریں تو اپنے لئے اچھے کاروبار مرتب کر سکتے ہیں لیکن روپے کو جلد سے جلد دو گنا، چار گنا، آٹھ گنا اور ان گنا کرنے کی حوس انسان کو انسانیت کے دائرے سے باہر لے جاتی ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ بیچارہ اس ذلت سے دوچار ہونے کے بعد دوسروں کو انسان نہیں سمجھ رہا ہوتا۔

امام علیؑ کی زندگی سے ایک واقعہ سے رہنمائی لے جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ امام علیؑ مسجد میں نماز کے لئے جانے لگے تو اپنا گھوڑا باہر موجود کسی شخص کے حوالے کر گئے کہ اس کا خیال رکھے۔ امامؑ جب نماز سے واپس آئے تو چند درہم نکالے کہ اس شخص کو حق زحمت کے طور پر دوں گا لیکن دیکھا تو وہ شخص آپؑ کے گھوڑے کی زین چوری کر کے لے جا چکا تھا۔ خیر امامؑ گھوڑا لے کر چل پڑے کہ راستے میں بازار میں آپ کی وہی چوری شدہ زین برائے فروخت موجود تھی۔ آپ نے دوکاندار سے استفسار کیا تو اس نے بتلایا کہ ابھی کوئی شخص مجھے اتنے درہم میں  فروخت کر گیا ہے۔ دیکھا تو یہ اتنے ہی درہم تھے جو امامؑ نے اس شخص کو ہدیہ کرنے کے لئے نکالے تھے۔ وہی درہم امامؑ نے دوکاندار کو دے کر زین دوبارہ خرید لی۔ تو اگر وہ شخص تھوڑی دیر صبر کر لیتا تو جو پیسہ اس نے حرام ذریعہ سے کمایا وہی پیسہ جائز ذریعہ سے اس کے ہاتھ آنے والا تھا۔

اگر اعتماد ہو کہ روزی رساں ذات ذوالجلال ہے تو پھر حوس کس بات کی۔ پھر ہر جائز ناجائز ذریعہ اختیار کرنے کی سوچ کیوں۔ پھر بے صبری کیوں۔ جو آپ کا مقدر ہے وہ آپ کے اس دنیا سے جانے سے پہلے آپ تک پہنچ کے رہے گا۔ آپ کا کام صرف جائز طریقے سے محنت کرنا ہونا چاہئیے۔ باقی خدا کا کم ہے وہ اس پر چھوڑ دیں۔ خود خدا بننے کی کوشش نہ کریں۔

متعلقہ تحاریر