رسولﷲؐ اور امیرالمومنین امام علیؑ کی حکومتوں کو درپیش چیلنجز کا تقابلی جائزہ

تاریخ یعقوبی 23/03/2019 112

نبی اکرمؐ نے مدینہ ہجرت کے ساتھ ہی حکومت کی بنیاد رکھی جس کی مدت 10 سال سے کچھ اوپر رہی جبکہ امام علیؑ کو نبی اکرمؐ کے 25 سال بعد حکومت ملی جس کی مدت 5 سال سے کم تھی۔ لیکن عجیب اتفاق ہے کہ دونوں شخصیات کی حکومتوں کو درپیش چیلنجز ایک دوسرے سے انتہائی مماثلت رکھتے تھے۔ ذیل میں دونوں حکومتوں کو درپیش چیلنجز کا موازنہ کیا جاتا ہے۔

جنگیں اور واضح دشمن:

رسولﷲؐ کے زمانے کی بڑی جنگیں بدر, احد, خیبر, خندق  اور حنین کے نام سے مشہور ہیں۔ غزوات, سریات اور وہ معرکے جن میں جنگ کی نوبت پیش نہ آئی کی مجموعی تعداد بہت زیادہ ہے۔

نبی اکرمؐ کے سامنے ایک واضح دشمن کفار مکہ کی صورت میں موجود تھا تو امام علیؑ کے سامنے شام کی حکومت کھڑی تھی۔ امام علیؑ کے زمانے کی بڑی جنگیں جمل, صفین اور نہروان تھیں۔ چھوٹے معرکے جیسے معاویہ کے بھیجے ہوئے دستوں کی سرکوبی جو آپ کے ماتحت علاقوں میں قتل و غارت اور لوٹ مار کی غرض سے وارد ہوتے تھے کی ایک تعداد نقل کی گئی ہے۔

احد و صفین, جیتی ہوئی جنگوں کا مختلف نتیجہ:

حضرت علیؑ کے زمانے کی سب سے بڑی جنگ صفین کے مقام پر لڑی گئی۔ صفین میں اہل بدر میں سے 70 افراد, تحت الشجرہ بیعت کرنے والوں میں سے 700 افراد اور دیگر مہاجرین و انصار میں سے 400 افراد حضرت علیؑ کے ساتھ تھے۔ جبکہ دوسری طرف معاویہ کے لشکر میں صرف دو انصاری نعمان بن بشیر اور مسلمہ ابن مخلد تھے۔ قریش مکہ اور بنو امیہ کے پرچم کو عظیم صحابی حضرت عمار یاسرؓ نے ایک ہی قرار دیا ہے۔ حضرت عمار یاسرؓ کے بارے میں رسول اکرمؐ نے خبر دی تھی کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔ حضرت عمار یاسرؓ صفین کے میدان معاویہ کے لشکر کے سامنے آئے اور فرمایا:

سنو میں ہوں عمار، یاسر کا بیٹا جس کی پہلی قربانی اسلام میں مشہور ہے، اور جس کی ماں کو محبت رسولؐ میں قتل کیا گیا، میں ﷲ اور اس کے رسولؐ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ ہم رسول کی زندگی میں اؚس علم کے ساتھ کہ جس کے نیچے میں کھڑا ہوں، اؙس پرچم والوں سے "تنزیل قرآن" پر لڑتے رہے, اور آج اؚسی پرچم کے نیچھے کھڑے ہو کر میں اؙس پرچم والوں سے "تاویل قرآن" پر لڑ رہا ہوں۔

حضرت عمار یاسرؓ 93 برس کی عمر میں جنگ صفین میں معاویہ کے خلاف حضرت علیؑ کی طرف سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔

اصحاب علیؑ جب جنگ کرتے ہوئے معاویہ کے قریب جا پہنچے تو معاویہ نے اپنا گھوڑا طلب کیا تاکہ اس پر سوار ہو کر بھاگ جائے, لیکن عمرو بن عاص نے اسے روکا اور ایک چال کے تحت قرآن کو نیزوں پر بلند کروایا کہ ہم تمہیں کتاب خداکی طرف بلاتے ہیں۔ حضرت علیؑ جو معاویہ اور اسکے لشکر کوپہلے دن سے قرآن کی طرف دعوت دے رہے تھے نے اپنے لشکر کو کہا, "یہ یقیناً فریب کاری ہے, یہ لوگ تو قرآن والے ہیں ہی نہیں"۔ البتہ امام علیؑ کے لشکر نے اس سے دھوکا کھایا اور آپ کو حکمیت پر مجبورکیا۔ نتیجتاً حضرت علیؑ ایک جیتی ہوئی جنگ کا مطلوبہ نتیجہ حاصل نہ کر سکے۔

اس جنگ کے آخر میں بازی کا پلٹ جانا ایسا ہی تھا جیسے مسلمان احد کے میدان میں فتح سمیٹ رہے تھے لیکن آخری  وقت میں رسول اکرمؐ کی ہدایت کے خلاف عمل کے نتیجے میں خالد بن ولید کو پہاڑی درے سے حملہ کرنے کا موقع مل گیا اور مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے۔

صلح حدیبیہ اور حکمیت صفین:

جنگ صفین میں معاویہ کے لشکر کے سازش کے تحت قرآن کونیزوں پر بلند کرنے اور حضرت علیؑ کے لشکر کے دھوکا کھانے کے بعد حکمیت کو اختیار کیا گیا۔ دو افراد نے حکمیت کی قرارداد لکھی۔ معاویہ کے ساتھیوں نے حضرت علیؑ کا نام پہلے لکھنے اور ان کے ساتھ امیرالمومنین لکھنے پر جھگڑا کیا۔ یہاں تک کہ نوبت مارکٹائی پر آن پہنچی, تو حضرت علیؑ نے کہا:

ﷲ اکبر, رسولﷲؐ نے یوم حدیبیہ سہیل بن عمرو کے لئے لکھا, "یہ ہے وہ جس پر رسولﷲ کی صلح ہے" جس پر سہیل نے کہا اگر ہم یہ مانتے کہ آپ رسولﷲ ہیں تو آپ سے جنگ نہ کرتے۔ پس رسولﷲؐ نے اپنا نام اپنے ہاتھ سے مٹا دیا اور مجھ سے فرمایا تو میں نے پھر یہ لکھا, "محمد ابن عبدﷲ کی طرف سے", اور فرمایا, "میرا اور میرے باپ کا نام میری نبوت کو نہیں لے جاتے"۔ دیگر انبیاء نے بھی جس طرح لکھا, جس طرح رسولﷲؐ نے لکھا, میرا اور میرے باپ کا نام بھی میری امارت کو کہیں نہیں لے جاتے اور ان سے فرمایا تو انہوں نے لکھا, "علی ابن ابی طالب کی طرف سے"۔

امام علیؑ نے عبدﷲ ابن عباس کو خوارج کی طرف بھیجا جنہوں نے آپ کی حکومت میں فتنہ برپا کیا تھا۔   خوارج نے آپ سے بحث کی اور کہا کہ ہم نے علیؑ میں ایسے کاموں کا عیب پایا ہے جو سب مہلک ہیں۔ اور وہ یہ ہیں کہ جس روز (جنگ صفین کے بعد حکمیت کے موقع پر) انہوں نے معاویہ کے لئے لکھا اور اپنے نام کے ساتھ سے "امیر المومنین" محو کر دیا, روز صفین ہم ان سے برگشتہ ہو گئے لیکن انہوں نے اپنی شمشیر سے نہ مارا تاکہ ہم ﷲ کی طرف لوٹ آتے۔ نیز وہ حکمین کے فیصلے پر راضی ہو گئے جیسا کہ ان کا گمان ہے کہ وہ وصی رسول ہیں, پس وصیت کو ضائع کر دیا۔

پہلے سوال کے جواب میں امیرالمومنین علیؑ نے سہیل بن عمرو کا واقعہ بیان کیا اور فرمایا کہ رسولﷲؐ کی ذات میں بہترین نمونہ عمل ہے۔ مزید فرمایا, اور یہ جو تم نے کہا ہے کہ میں نے روز صفین تمہیں اپنی تلوار سے نہیں مارا تاکہ تم امر خدا کی طرف لوٹ آتے پس ﷲ عز و جل فرماتا ہے کہ اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور تمہاری تعداد بہت زیادہ تھی اور میں اور میرے اہل بیت بہت کم تعداد میں تھے۔ مزید فرمایا, اور یہ جو تم نے کہا ہے کہ میں نے حکمین کو فیصلے کے لئے قبول کر لیا تو یقیناً ﷲ عز و جل نے ایک خرگوش کے لئے کہ جو ایک چوتھائی درہم کے بکتا ہے حکم کو قبول کر لیا ہے اور فرمایا ہے کہ تم میں سے دو عادل شخص اس کے بارے میں حکم (فیصلہ) کریں اور اگر حکمین کتابﷲ کے مطابق فیصلہ کرتے تو میرے لئے جائز نہ تھا کہ میں ان دونوں کے فیصلے سے باہر نکلتا۔ مزید فرمایا, اور یہ جو تم نے کہا کہ میں وہی تھا اور میں نے وصیت ضائع کر دی, پس ﷲ عزوجل فرماتا ہے, لوگوں پر ﷲ کے لئے بیت کا حج واجب ہے, جسے بھی استطاعت ہو اور جو کافر ہو جائے تو یقیناً ﷲ عالمین سے بےنیاز ہے۔ اب بتاؤ کہ جو حج بیت انجام نہ دے تو کیا بیت کافر ہو جاتا ہے؟ اگر کسی میں استطاعت ہو اور وہ حج بیت کے لئے نہ جائے تو خود کافر ہو جاتا ہے۔ تم بھی مجھے چھوڑ دینے پر کافر ہو گئے  ہو نہ یہ کہ تمہارے چھوڑ جانے پر میں کافر ہوا ہوں۔

پس اسی روز خوارج میں سے 2 ہزار افراد واپس آ گئے۔

دھشت گردانہ کاروائیاں:

کھلی جنگوں سے بڑھ کے ایک بڑا خطرہ دہشت گردانہ کاروائیوں کا تھا جو ہر وقت سر پر منڈلا رہا ہوتا تھا۔

ہون بن حزیمہ کے دو گروہوں عضل اور دیش کے چند افراد رسولﷲؐ کے پاس آئے اور کہنے لگے: یا رسولﷲؐ ہم اسلام کو مانتے ہیں۔ آپؐ ہمارے ساتھ اصحاب بھیجیں جو ہمیں احکام دین اور قرآن پڑھنے کی تعلیم دیں۔ پس رسول خداؐ نے چند اصحاب کو بھیجا۔ یہ افراد ہذیل کے پانی کے مقام رجیع پر تھے کہ ایک آدمی ہذیل کے پاس پہنچا اور کہنے لگا: محمدؐ کے چند ساتھی یہاں موجود ہیں, کیا تم چاہتے ہو کہ ہم انہیں پکڑ لیں, ان کا اسلحہ اور کپڑے لے لیں اور انہیں قریش کے ہاتھ بیچ دیں؟ پس انہوں نے ان صحابہ کو قتل اور قید کر لیا۔

اس طرح ابو براء نے رسولﷲؐ سے درخواست کی کہ اپنے صحابہ میں سے چند افراد اس کے پاس بھیجیں تاکہ انہیں دین کی تعلیم دیں۔ رسول خداؐ نے فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ بنو عامر انہیں قتل کردیں گے۔ ابوبراء نے کہا کہ وہ میری پناہ میں ہوں گے۔ اس پر آپؐ نے منذر بن عمرو کواپنے انتیس صحابہ کے ساتھ جو تمام کے تمام بدری تھے اس کے پاس بھیجا۔ عامر بن طفیل نے ان پر حملہ کر کے قتل کر دیا اور بنی سلیم کے تین قبیلے اس کے ہمراہ تھے۔ اسی وجہ سے رسولﷲؐ نے ان پرلعنت کی۔

دوسری طرف, معاویہ نے نعمان بن بشیر کو بھیجا۔ اس نے حضرت علیؑ کی طرف سے عین التمر کی مسلح گارڈ کے کمانڈر مالک بن کعب ارحبی پر حملہ کر دیا۔ اس پر حضرت  علیؑ نے لوگوں کو اکٹھا کیا اور ان سے کہا, اے اہل کوفہ! اپنے بھائی مالک بن کعب کی فریاد کو پہنچو کہ نعمان بن بشیر نے ایک چھوٹے سے گروہ کے ساتھ اس پر حملہ کر دیا ہے, شائد ﷲ ظالموں کے کنارے کوکاٹ دے۔ انہوں نے سستی کی اور باہر نہ نکلے۔ حضرت علیؑ منبر پر آئے اور فرمایا, اے اہل کوفہ! کیا جب بھی کوئی شامی دستہ سامنے آئے تو تم میں سے ہر مرد اپنے گھر میں بند ہو جائے اور بجو اور سوسمار کی طرح اپنے بل میں گھس جائے اور اپنے گھر میں چھپ جائے؟

جب آپ اپنے گھر چلےگئے تو عدی بن حاتم اٹھے اور کہنے لگے: وﷲ یہ ہے مدد نہ کرنے کا قبیح عمل۔ اس کے بعد وہ حضرت علیؑ کے پاس آئے اور کہا, اے امیرالمومنین! قبیلہ طے کے ہزار مرد میرے ساتھ ہیں اور وہ میری نافرمانی نہیں کرتے۔ اگر آپ چاہیں تو انہیں لے چلوں۔ آپؑ نے فرمایا, خدا تجھے جزائے خیر دے, اے ابوطریف۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ اہل شام کی تلواروں کے سامنے ایک قبیلے کو بھیجوں لیکن اب نخیلہ کی طرف روانہ ہو جاؤ۔ پس عدی نکل کھڑے ہوئے اور لوگ بھی ان سے جا ملے اور شام کی سرحد فرات کے کنارے جا پہنچے۔

اسکے بعد سفیان بن عوف نے انبار پر حملہ کر دیا اور اشرس بن حسان بکری کو قتل کر یا۔ حضرت علیؑ نے سعید بن قیس کو اس کے تعاقت میں بھیجا۔ جب اسے سعید کے پہنچنے کا احساس ہوا تو وہ واپس چلا گیا۔ سعید عانات تک اس کے پیچھے گیا لیکن اسے نہ پایا۔

معاویہ نے بسر بن ابی ارطاة اور ایک قول کے مطابق ابن ارطاة عامری کو تین ہزار افراد کے ساتھ روانہ کیا کہ مدینے داخل ہو جاؤ اور وہاں کے لوگوں کو شہر سے نکال باہر کرو, اور جس کسی کی پاس سے گذرو اسے ڈراؤ۔ جو ہماری زیر فرمان نہ آئیں ان میں سے جس کسی کا مال ہاتھ چڑھے لوٹ لو اور اہل مدینہ کو سمجھا دو کہ تو ان کی جان لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پھر مکہ پہنچو اور وہاں کسی سے تعرض نہ کرو۔ مکہ اور مدینہ کے مابین لوگوں کو خوف و دہشت میں مبتلا کرو۔ پس بسر نکلا اور جس عرب قبیلے کے پاس سے گذرتا معاویہ کے حکم پر عمل کرتا۔ یہاں تک کہ مدینہ آ پہنچا۔ مدینہ کے عامل ابو ایوب انصاری تھے۔ وہ مدینہ سے نکلے گئے اور بسر شہر میں داخل ہو گیا۔ وہ منبر پر چڑھا اور کہنے لگا: اے اہل مدینہ تمہاری لئے بری مثال ہے۔

اللہ تعالیٰ اس بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو پورے امن واطمینان سے تھی اس کی روزی اس کے پاس بافراغت ہر جگہ سے چلی آرہی تھی۔ پھر اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کفر کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے بھوک اور ڈر کا مزه چکھایا جو بدلہ تھا ان کے کرتوتوں کا۔ (نحل-112)

خبردار, ﷲ نے یہ مثال تمہارے لئے دی ہے۔ بسر نے مدینہ کے گھر برباد کر دئیے پھر مکہ روانہ ہو گیا۔ پھر چلتا رہا یہاں تک کہ یمن پہنچ گیا۔ یمن میں حضرت علیؑ کے عامل عبیدﷲ بن عباس تھے, جو بسر کے آنے سے پہلے عبدﷲ بن عبدالمدان حارثی کو اپنا قائم مقام بنا کر یمن سے نکل گئے۔ بسر نے عبدﷲ اور اس کے بیٹے کو قتل کر دیا اور عبیدﷲ کے دو بیٹوں جو کمسن تھے کو بھی قتل کر دیا۔ اس کے بعد وہ نجران, جیشان گیا, قتل و غارت کی اور آگ لگائی۔ خبر حضرت علی تک پہنچ گئی۔ آپ خطبے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا:

اے لوگو! تمہارا پہلا نقص یہ ہے کہ تہارے اہل خرد اور اہل نظر چلے گئے وہ کہ جو بات کرتے تھے, سچ کرتے تھے اور انجام دیتے تھے۔ میں نے تمہیں مسلسل آشکار و پنھاں پکارا, تمہیں شب و روز آواز دی لیکن میری پکار نے تمہارے گریز اور فرار کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کیا۔یقیناً یہ اسلام کے لئے ذلالت اور دین کے لئے ہلاکت کی بات ہے کہ ابوسفیان کا بیٹا رذیل و شریر لوگوں کو پکارتا ہے اور وہ اس پر لبیک کہتے ہیں۔ اور میں تمہیں پکارتا ہوں اور تم میں اتنی صلاحیت نہیں کہ توجہ دے سکو۔ یہ بسر ہے جو یمن میں جا پہنچا ہے اور اس سے قبل وہ مکہ و مدینہ کو پامال کر چکا ہے۔

اس پر جاریہ بن قوامہ سعدی کھڑا ہوا اور کہا: اے امیرالمومنین! ﷲ آپ کی قربت کو ہم سے نہ چھینے, آپ کا ادب و نصیحت کس قدر عمدہ ہے اور وﷲ آپ کتنے اچھے امام ہیں۔ ان دشمنوں کے خلاف میں تیار ہوں۔ بعد ازاں وہب بن مسعود خثعمی کھڑا ہوا اور کہنے لگاے, اے امیرالمومنین! میں بھی جاؤں گا۔ پس جاریہ اور وہب بن مسعود دو, دو ہزار کے لشکر کے ساتھ نکلے, اور حضرت علیؑ نے ان دونوں سے فرمایا کہ بسر جہاں کہیں ہو اسے تلاش کریں اور جب اکٹھے ہوں تو لوگوں کا سربراہ جاریہ ہو گا۔ یہ لشکر بسر کے تعاقب میں نکلے۔ حجاز و یمن کے لوگوں سے دوبارہ حضرت علیؑ کے لئے بیعت لی, لیکن بسران سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

ہجرت مدینہ اور ہجرت کوفہ:

رسول اکرمؐ نے مشکل حالات میں مکہ کو ترک کیا جب کہ اس وقت مکہ میں رہ کر دشمن سے مقابلہ اور دین کی تبلیغ کا کام مشکل تر ہو گیا تھا۔ اسی طرح سے حضرت علیؑ کو مدینہ ترک کرنا پڑا اور کوفہ کو اپنا دارالخلافہ قرار دینا پڑا کیوں کہ اس وقت کا ایک بڑا خطرہ شام کی حکومت تھی جس کے سد باب کے لئے شامی سرحد کے نزدیک کے علاقہ کو مرکز قرار دینا فوجی حکمت عملی کے تحت انتہائی ضروری تھا۔

قرابتداری اور خاندانی دشمنیاں:

نبی اکرمؐ نے جب مکہ فتح کیا تو ﷲ نے دن کی ایک ساعت کے لئے مکہ اپنے نبیؐ کے لئے حلال کر دیا۔ رسولﷲؐ نے 5 مردوں اور 4 عورتوں کے علاوہ سب کو پناہ دے دی اور فرمایا کہ اگر یہ کعبہ کے پردوں سے بھی چمٹے ہوں تو انہیں قتل کر دو۔ ان میں سے ایک عبدﷲ بن سعد بن ابی سرح عامری تھا جو پہلے رسولﷲؐ کا کاتب تھا اور بعد میں مکہ چلا گیا اور کہتا تھا: جیسی باتیں محمدؐ کرتا ہے ویسی باتیں تو میں بھی کرتا ہوں۔ ﷲ کی قسم محمدؐ نبی نہیں ہے۔ وہ مجھے کبھی کہتا تھا کہ لکھ "عزیز حکیم" اور میں لکھ دیتا "لطیف خبیر" اور اگروہ نبی ہوتاتو اسے علم ہو جاتا۔ حضرت عثمان جو اس کے رضاعی بھائی تھے انہوں نے اسے پناہ دے دی, اور رسولﷲؐ کے پاس لے آئے اور اس کے بارے میں رسولﷲؐ سے بات کی۔ رسولﷲؐ خاموش رہے۔ پھر فرمایا: تم لوگوں نے اسے قتل کیوں نہیں کر دیا۔ تو صحابہ نے عرض کی کہ ہم منتظر تھے کہ آپؐ کوئی اشارہ فرماتے۔ آپؐ نے فرمایا: یقیناً انبیاء اشارے سے قتل نہیں کیا کرتے۔

جب رسولﷲؐ مکہ میں تھے تو آپؐ نے خالد بن ولید کو بنی جذیمہ ابن عامر کی طرف بھیجا۔ انہوں نے جاہلیت میں بنی مغیرہ کو نقصان پہنچایا تھا, اور عوف (عبدالرحمن کے والد) کو قتل کیا تھا۔ عبدالرحمن بن عوف اور بنی سلیم کے کچھ لوگ خالد بن ولید کے ساتھ تھے۔ بنی سلیم نے جاہلیت میں ربیعہ بن مکدم کو قتل کیا تھا۔ جذل بن طعان باہر نکلا اور اس نے ربیعہ کے خون کے بدلے بنی سلیم کے مالک بن شرید کو قتل کر دیا۔ جذیمہ کو خبر ملی کہ خالد بنی سلیم کے ساتھ آئے ہیں۔ پس خالد نے ان سے کہا کہ اسلحہ رکھ دو۔ انہوں نے کہا ہم ﷲ اور اس کے رسول کے خلاف اسلحہ نہیں اٹھاتے اور ہم مسلمان ہیں۔ پس اگر انہوں نے تمہیں زکوة کے لئے بھیجا ہے تو یہ ہمارے اونٹ اور بھیڑیں ہیں انہیں پکڑ لو۔انہوں نے کہا: اپنا اسلحہ رکھ دو۔ وہ کہنے لگے سچ یہ ہے کہ ہم ڈرتے ہیں کہ تم ہمیں زمانہ جاہلیت کے کینے میں پکڑ لو گے۔ پس خالد ان سے واپس آ گئے۔ قبیلے کے مردوں نے آذان کہی اور نماز پڑھی۔ جب وقت سحر ہوا تو گھوڑے ان پر چڑھ دوڑے, ان کے جنگی مردوں کو خالد نے قتل کر دیا اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا۔ رسولﷲؐ تک خبر پہنچی تو فرمایا: خدایا! خالد نے جو کچھ کیا میں اس سے بری اور بیزار ہوں۔ آنحضرتؐ نے حضرت علیؑ کو بھیجا۔ انہوں نے جو کچھ ان سے لیا تھا وہ انہیں لوٹا دیا اور اس کے ساتھ مقتولین کی دیت اور اضافی مال بھی ادا کیا۔ عبدالرحمن بن عوف نے کہا: وﷲ وہ مسلمان تھے اور خالد نے انہیں قتل کر دیا۔ خالد بن ولید نے کہا: میں نے تو انہیں تمہارے باپ عوف بن عبد عوف کے بدلے میں مارا ہے۔ عبدالرحمن نے کہا: نہیں! تو نے انہیں اپنے چچا فاکہ بن مغیرہ کے بدلے میں قتل کیا ہے۔

اسی طرح حضرت علیؑ کی خلافت کے دوران معاویہ نے عبدﷲ بن مسعدة بن حذیفہ بن بدرفزاری کو ایک ہزار سات سو سواروں کا ایک دستہ دے کر بھیجا اور اسے حکم دیا کہ مدینہ اور مکہ کا ارادہ کرے۔ حضرت علیؑ کو خبر ہوئی تو مسیب بن نجبہ فزاری کو بھیجا اور اس سے کہا: ای مسیب! تو ان افراد میں سے ہے کہ جن کی اہلیت, مردانگی اور خیر خواہی پر مجھے یقین ہے۔ پس تو اس قوم کی طرف روانہ ہو اور اگرچہ وہ تمہارے اپنے قبیلے میں سے ہوں ان کی گوشمالی کر۔ مسیب نے کہا: اے امیرالمومنین میرے لئے سعادت ہے کہ میں آپ کے ثقہ افراد میں سے ہوں۔ پھر وہ قبیلہ ہمدان, طی وغیرہ کے 2 ہزار افراد کے ساتھ نکلا اور دشمن سے جنگ کی یہاں تک کہ ابن مسعدہ کو گرفتار کر لیا۔ البتہ قبیلہ و قرابتداری کا لحاظ کرتے ہوئے انہیں ڈھیل دی جس کی وجہ سے وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اس پر عبدالرحمن بن شبیب نے کہا: اس مسیب! وﷲ ان کے معاملے میں تو نے دھوکا دیا ہے اور امیرالمومنین سے خیانت کی ہے۔ مسیب حضرت علیؑ کے پاس واپس آ گیا تو آپ نے اس سے کہا: اے مسیب! تو تو میرے خیر خواہوں میں سے تھا پھر بھی تو نے ایسا کام کیا ہے۔ لہذا اسے چند روز قید میں رکھا۔ پھر اسے رہا کر کے کوفہ کی زکوة اکٹھی کرنے پر مامور کر دیا۔

قبائل کا منحرف ہونا, اور لوگوں کا دین سے پھر جانا:

بنی قریظہ کا رسولﷲؐ کے ساتھ امن معاہدہ تھا جو انہوں نے توڑ دیا اور قریش سے جا ملے۔ جب خندق والے دن قریش شکست کھا کر واپس چلے گئے تو آپؐ نے حضرت علیؑ کو مہاجرین کا علم دے کر بنی قریظہ کی جانب روانہ کیا اور قسم دے کر کہا کہ نماز عصر بنی قریظہ میں جا کر پڑھنا۔ آنحضرتؐ اپنے حمار پر سوار ہوئے اور جبان کے پاس پہنچے تو حضرت علیؑ نے آپ سے ملاقات کی اور کہا: یا رسولﷲؐ ان کے پاس نہ جائیے۔ آپؐ نے فرمایا میرا خیال ہے کہ انہوں نے بدتمیزی کی ہے۔ کہا: ہاں یا رسولﷲؐ۔ کہا جاتا ہے کہ آپؐ نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ جس سے پہاڑ شگافتہ ہو گیا یہاں تک کہ انہوں نے آپؐ کو دیکھا۔ آپؐ نے فرمایا: اے طاغوت کے پجاریو, اے بندروں اور سوروں کے چہرو! ﷲ تمہارے ساتھ (برا) کرے, اور اس نے کیا۔ اس پر انہوں نے کہا: اے ابالقاسم, آپ تو ناسزا کہنے والے نہ تھے۔ پس آپؐ رک گئے اور پیچھے کو لوٹ آئے۔ پس جنگ اور محاصرہ کے ذریعہ سے بنی قریظہ کو سرنگوں کیا گیا۔

امیرالمومنین حضرت علیؑ کے دور حکومت میں خریت بن راشد ناجی نے اپنے ساتھیوں کے ایک گروہ کے ساتھ خروج کیا۔ کوفہ میں انہوں نے تلواریں نکالیں اور کچھ لوگوں کو قتل کر دیا۔ لوگوں کے پیچھا کرنے پر وہ اپنے ساتھیوں سمیت کوفہ سے باہر چلا گیا۔ جس شہر سے گذرتے اس کے بیت المال کو لوٹ لیتے یہاں تک کہ عمان کے ساحل تک پہنچ گئے۔ اور عمان کے لئے حضرت علیؑ کے گورنر حلو بن عوف ازدی کو قتل کر دیا اور اسلام سے پھر گئے۔ حضرت علی نے معقل بن قیس ریاحی کو اس علاقے میں بھیا۔ اس نے خریت بن شاد اور اس کے ساتھیوں کو قتل کر دیا اور بنی ناجیہ کو گرفتار کر لیا۔ مصقلہ بن ہبیرہ شیبانی نے انہیں خرید لیا۔ کچھ قیمت ادا کی اور پھر معاویہ کے پاس بھاگ گیا۔ حضرت علیؑ کے حکم پر اس کا گھر منہدم کر دیا گیا اور بنی ناجیہ کو آزاد کرنے کا حکم دے دیا۔

ساتھیوں کا عدم تعاون:

صلح حدیبیہ کے بعد رسولﷲؐ نے مسلمانوں سے فرمایا: اپنے سر منڈوا دیں اور قربانی کے اونٹ حرم سے باہر ہی نحر کر دیں, لیکن انہوں نے نہ مانا اور بیشتر افراد شک میں پڑ گئے۔ لہذا رسولﷲؐ نے خود سر منڈوا لیا اور قربانی کی اور مدینہ واپس لوٹ گئے۔ واقعہ قرطاس بھی اسی سلسلہ کی ایک مثال ہے۔

اسی طرح امیرالمومنین حضرت علیؑ کے زمانے میں جب ضحاک بن قیس نے قطقعانہ پر حملہ کر دیا اور آنحضرتؑ کو اس کے پہنچنے اور ابن عمیش کو قتل کرنے کی خبر پہنچی۔ آپؑ خطبے کے لئے کھڑے ہوئےاور فرمایا, اے اہل کوفہ! اس لشکر کے خلاف نکلو جس نے کچھ لوگوں کو قتل کر دیا ہے اور مرد صالح ابن عمیش کی طرف جاؤ اور اپنی حدود کی حفاظت کرو اور اپنے دشمن کے خلاف جنگ کرو۔ انہوں نے حامی نہ بھری تو فرمایا, اے اہل عراق! میری خواہش تھی کہ تمہارے آٹھ افراد کے بدلے اہل شام میں سے ایک میرے پاس ہوتا۔ ان پر افسوس ہے کہ وہ کس صبر و استقامت کے ساتھ ظلم کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور تم پر افسوس کہ میرے ساتھ نکلتے ہو اور پھر جب چاہتے ہو مجھ سے فرار اور گریز کر جاتے ہو۔ پس وﷲ میں شہادت کا امیدوار ہوں کہ جو میرے سر پر منڈلا رہی ہے, کیونکہ میرے لئے تمہیں چھوڑ جانا بہت بڑی راحت ہے, کیونکہ میں تمہارے ساتھ یوں رہا ہوں جیسے ناتجربہ کار نواجوان اونٹوں کے ساتھ رہا جاتا ہے, یا تم ایسے بوسیدہ لباسوں کی طرح ہو جنہیں ایک طرف سے سیا جائے تو وہ دوسری طرف سے پھٹ جاتے ہیں۔

اس پر حجر بن عدی کندی کھڑے ہو گئے اور بولے: اے امیرالمومنین! ﷲ اسے بہشت کے قریب نہ کرے جو آپ کی قربت کو پسند نہیں کرتا۔ آپ کو تو ﷲ ہی کی طرف لوٹنا ہے, پس یقیناً حق منصور و کامیاب ہے, اور شہادت بہترین پھول ہے۔ مخلص افراد کو میرے ساتھ چلنے کی دعوت دیں اور اپنی مہارت سے میری مدد کریں, ﷲ انسان اور اس کے اہل کے لئے مددگار ہے۔ یقیناً شیطان اکثر انسانوں کے دلوں سے جدا نہیں ہوتا یہاں تک کہ ان کی روحیں ان کے جسموں سے جدا ہو جاتی ہیں۔

حضرت علیؑ نے فرمایا, ﷲ تجھے شہادت سے محروم نہ رکھے۔ یقیناً میں جانتا ہوں کہ تو مردان شہادت میں سے ہے۔ حضرت علیؑ مسجد میں بٹیھ گئے اور لوگوں کو اکٹھا ہونے کی دعوت دی۔ 4 ہزار افراد اکٹھے ہو گئے۔ حجر نے ان کے ہمراہ دشمن کو شکست سے دوچار کیا البتہ ضحاک بچ بھاگنے میں کامیاب رہا۔

رفقاء کی شہادت:

سیدالشہداء امیر حمزہؓ کی شہادت مشہور ہے جس پر رسول اکرمؐ نے فرمایا: اے چچا تیری مصیبت میرے لئے ہر مصیبت سے زیادہ ہے۔ آنحضورؐ نے آپ پر 75 تکبیریں کہیں۔ ایک اور شہادت جس نے آنحضرتؐ کو انتہائی مغموم کیا جناب جعفر بن ابیطالبؑ کی شہادت تھی۔ ہجرت کے آٹھویں سال آپؐ نے حضرت جعفر, زید بن حارثہ اور عبدﷲ بن رواحہ کو لشکر دے کر روم سے جنگ کے لئے شام بھیجا۔ اس جنگ کو موتہ (بلقاء/دمشق کا نواحی علاقہ) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ رسولﷲؐ حالانکہ مدینہ میں ہی موجود تھے لیکن آپ نے اپنے ساتھیوں کو شام میں جعفر اوران کے ساتھیوں کی شہادت کی خبر دی۔ آپ نے فرمایا: ﷲ نے جعفر کو (جن کے دونوں بازو شہادت سے پہلے قلم ہوئے تھے) زبرجد کے دو پر عطاء کئے ہیں جن کے ذریعہ سے وہ جنت میں جہاں چاہتے ہیں پرواز کرتے ہیں۔ آپؐ بہت بے چین ہوئے اور فرمایا: جعفر جیسے شہید پر نوحہ کناں عورتوں کو گریہ کرنا چاہئے۔

جنگ صفین میں حضرت عمار بن یاسرؓ کی شہادت امیرالمومنین حضرت علیؑ کے لئے انتہائی جانگداز تھی اور آپ نے اپنے اس بھائی کے لئے گریہ کیا۔ اسی طرح محمد بن ابی بکرؓ اور مالک اشترؓ کی شہادت پر آپ بہت بےتاب اور غمزدہ ہوئے۔ محمد بن ابی بکر امام علیؑ کی طرف سے مصر کے گورنر تھے, جنہیں عمرو بن عاص کے لشکر نے قتل کیا تھا (عمرو بن عاص کو معاویہ نے مصر پر قبضہ کرنے کا اختیار دیا تھا)۔ انہوں نے آپ کی لاش کی بےحرمتی اس انداز سے کی کہ اسے ایک گدھے کی کھال میں ڈال کر آگ لگا دی۔ اور مالک اشتر کو جب کہ وہ مصرکی طرف رواں دواں تھے راستے میں دھوکے سے زہر دے کر شہید کر دیا گیا۔ ان دونوں کی شہادت کی خبر ملنے پر بھی امیرالمومنین حضرت علیؑ نے فرمایا: رونے والیوں کو تیرے جیسے پر نوحہ کرنا چاہئے اے مالک,ا ور مالک جیسا کہاں ہے؟ اور محمد بن ابی بکر کو یاد کرتے ہوئے فرمایا: وہ میرے لئے ایک بیٹے کی طرح تھا جبکہ میرے بیٹے کے لئے اور میرے بھتیجے کے لئے بھائی کی طرح۔

عمال کی خیانت:

سورہ حجرات کی چھٹی آیت ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ جب قبیلہ بنی مصطلق مسلمان ہو گیا تو رسولﷲؐ نے ولید کو بھیجا کہ ان سے زکوة وصول کر لائیں۔ دور جاہلیت میں ولید اور بنی مصطلق کے درمیان شدید دشمنی تھی۔ جب ولید ان کے علاقہ میں پہنچا اور اہل قبیلہ اس کے استقبال کو آگے بڑھے تو ولید ڈر گیا اور گمان کیا کہ وہ اسے قتل کرنے کے لئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ لہذا یہ وہیں سے واپس آگیا اور رسولﷲؐ کو یہ خبر دی کہ ان لوگوں نے زکوة دینے سے انکار کر دیا ہے۔ رسول اکرمؐ یہ خبر سن کر سخت ناراض ہوئے اور ابھی ان لوگوں کی سرکوبی کے لئے ایک دستہ روانہ کرنے کا سوچ ہی رہے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی کہ "اے ایمان والو جب کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تم اسکی تحقیق کر لیا کرو, کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو گزند پہنا دو پھر اپنے کئے پر پشیمانی اٹھاؤ"۔

حضرت علیؑ کو خبر ملی کہ نعمان بن عجلان, بحرین کا مال لے گیا ہے۔ پس آپ نے اسے لکھا۔ جب حضرت علیؑ کا خط اس تک پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ وہ آگاہ ہو چکے ہیں, تو اس نے مال اٹھایا اور معاویہ سے جا ملا۔

عبدﷲ ابن عباس جو بصرہ کے گورنر تھے کے بارے میں خبر ملی کہ انہوں نے بیت المال سے دس ہزار درہم لے لئے ہیں۔ لہذا حضرت علیؑ نے انہیں لکھا اور حکم دیا کہ رقم واپس کر دیں۔ بات نہ ماننے پر انہیں دوسرا مکتوب لکھا اور ﷲ کی قسم دی کہ وہ رقم ضرور واپس کر دیں۔ جب عبدﷲ ابن عباس نے رقم واپس کر دی تو حضرت علیؑ نے انہیں لکھا:

آدمی اس چیز کو پاکر خوش ہو جاتا ہے جو اس کے ہاتھ میں آنا ہی نہ چاہئے تھی اور اسے کھو کر پریشان ہو جاتا ہے جو اسے ملنی ہی نہ چاہئے تھی۔ لہذا دنیا میں سے جو کچھ تیرے ہاتھ آئے اس پر زیادہ خوش نہ ہو جا اور جو کچھ دنیا میں سے ہاتھ سے چلا جائے اس پر زیادہ پریشان نہ ہو اور اپنی ہمت کو بعد از مرگ کے لئے قرار دے۔ والسلام۔

عبدﷲ ابن عباس کہا کرتے تھے کہ کسی وعظ و نصیحت کا مجھ پر اتنا اثر نہیں ہوا جتنا امیرالمومنین کے اس کلام کا۔

لشکر اسامہ اور لشکر امام حسنؑ:

رسول اکرمؐ نے اپنی رحلت سے قریب 2 ہفتے قبل اسامہ بن زید بن حارثہ کو مہاجرین و انصار کے لشکر کی قیادت سونپی اور انہیں فرمایا کہ شام کا قصد کریں, وہی جگہ جہاں ان کے والد شہید ہوئے تھے۔ حضرات ابوبکر و عمر بھی لشکر والوں میں سے تھے۔ ایک گروہ نے باتیں بنانا شروع کیں اور کہنے لگے: ایک نوجوان اور 17 سال لڑکا ہے۔ اس پر رسولﷲؐ نے فرمایا:
اگر اس وقت تم اسامہ پر اعتراض کر رہے ہو تو اس سے پہلے تم اس کے باپ پر بھی اعتراض کر چکے ہو, جبکہ دونوں امارت کی اہلیت رکھتے ہیں۔

لشکر کے روانہ ہونے سے پہلے رسولﷲؐ بیمار ہو گئے اور اسامہ جرف میں ٹھہر گئے۔ پس جب آپ کی بیماری زیادہ ہو گئی تو فرمایا "لشکر اسامہ کو روانہ کرو" اور یہ بات آپؐ نے متعدد مرتبہ ارشاد فرمائی۔ رسول اکرمؐ کی بار بار تاکید کے باوجود نامعلوم وجوہات کی بناء پر لشکر اسامہ روانہ نہیں ہوا اور آنحضرتؐ کی وفات کے فوراً بعد اسی لشکر میں شامل شخصیت جسے آنحضرتؐ کے حکم کے مطابق شام میں ہونا چاہئے تھا, مدینہ میں خلیفہ بن گئے۔

اسی طرح امام علیؑ اپنے آخری دنوں میں معاویہ کے خلاف لشکر کشی کی تیاری میں مصروف تھے اور جس لشکر کو آپ نے آمادہ کیا تھا اسے آپؑ کی شہادت کے بعد امام حسنؑ نے سنبھالا۔ اس لشکر نے بھی امام حسنؑ کے ساتھ عہد نہیں نبھایا اور مجبوراً آپ کو معاویہ کے ساتھ جنگ بندی اور حکومت سے وقتی دستبرداری کا معاہدہ کرنا پڑا۔

متعلقہ تحاریر