نہج البلاغہ: خطبہ 136/146, طلحہ و زبیر

نہج البلاغہ 17/11/2020 152

خدا کی قسم ان لوگوں نے نہ میری کسی واقعی برائی کی گرفت کی ہے اورنہ میرے اور اپنے درمیان انصاف سے کام لیا ہے۔ یہ ایک ایسے حق کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کو خود انہوں نے نظر انداز کیا ہے اورایسے خون کابدلہ چاہتے ہیں جس کو خود انہوں نے بہایا ہے۔ اگرمیں اس معاملہ میں شریک تھا تو ایک حصہ ان کا بھی ہوگا اور اگر یہ تنہا ذمہ دار تھے تو مطالبہ خود انہیں سے ہونا چاہیے اور سب سے پہلے انہیں اپنے خلاف فیصلہ کرنا چاہیے۔

میرے ساتھ میری بصیرت ہے, نہ میں نے اپنے کو دھوکہ میں رکھا ہے اور نہ مجھے دھوکہ دیا جا سکا ہے۔ یہ لوگ ایک باغی گروہ ہیں جن میں میرے قرابتدار بھی ہیں اور بچھو کا ڈنک بھی ہے اور پھرحقائق کی پردہ پوشی کرنے والے شبہے بھی ہیں۔ حالانکہ مسئلہ بالکل واضح ہے اور باطل اپنے مرکز سے ہٹ چکا ہے اور اس کی زبان شور و شغب کے سلسلہ میں کٹ چکی ہے۔

خدا کی قسم میں ان کے لئے ایسا حوض چھلکائوں گا جس سے پانی نکالنے والا بھی میں ہی ہوں گا۔ یہ نہ اس سے سیراب ہو کر جا سکیں گے اور نہ اس کے بعد کسی تالاب سے پانی پینے کے لائق رہ سکیں گے ۔

تم اس طرح بیعت بیعت پکارتے ہوئے میری طرف بڑھے جس طرح نئی بیاہی ہوئی بچوں والی اونٹنیاں اپنے بچوں کی طرف۔ میں نے اپنے ہاتھوں کو اپنی طرف سمیٹا تو تم نے انہیں اپنی جانب پھیلایا۔ میں نے اپنے ہاتھوں کو تم سے چھیننا چاہا لیکن تم نے انہیں کھینچنا ۔

خدایا ان دونوں نے میرے حقوق کو نظر اندازکیا ہے اور مجھ پر ظلم ڈھایا ہے اور میری بیعت کو توڑ دیا ہے اور میرے خلاف لوگوں کو اکسایا ہے, لہذا جو گرہیں انہوں نے لگائی ہیں تو انہیں کھول دے اور جو انہوں نے بٹا ہے اسے مضبوط نہ ہونے دے۔ اور انہیں ان کی امیدوں اور کرتوتوں کا برا نتیجہ دکھا۔ میں نے جنگ کے چھڑنے سے پہلے انہیں باز رکھنا چاہا اور لڑائی سے قبل انہیں ڈھیل دیتا رہا لیکن انہوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی اور عافیت کو ٹھکرا دیا۔

یہ دونوں امر خلافت کے اپنی ہی ذات کے لئے امید وار ہیں اور اسے اپنی ہی طرف موڑنا چاہتے ہیں۔ ان کا اللہ کے کسی وسیلہ سے رابطہ اور کسی ذریعہ سے تعلق نہیں ہے۔ ہر ایک دوسرے کے حق میں کینہ رکھتا ہے اورعنقریب اس کا پردہ اٹھ جائے گا۔ خدا کی قسم اگر انہوں نے اپنے مدعا کو حاصل کرلیا تو ایک دوسرے کی جان لے کرچھوڑیں گے اور اس کی زندگی کا خاتمہ کردیں گے۔ دیکھو باغی گروہ اٹھ کھڑا ہوا ہے تو راہ خدا میں کام کرنے والے کہاں چلے گئے جب کہ ان کے لئے راستے مقرر کردئیے گئے ہیں اور انہیں اس کی اطلاع دی جا چکی ہے؟

میں جانتا ہوں کہ ہر گمراہی کا ایک سبب ہوتا ہے اور ہر عہد شکن ایک شبہ ڈھونڈ لیتا ہے لیکن میں اس شخص کے مانند نہیں ہو سکتا ہوں جو ماتم کی آواز سنتا ہے۔ موت کی سنانی کانوں تک آتی ہے۔ لوگوں کا گریہ دیکھتا ہے اور پھر عبرت حاصل نہیں کرتا۔

متعلقہ تحاریر