دولتِ اسلامیہ بمقابلہ امارت اسلامی

آفتاب حیدر نقوی 20/12/2015 234

داعش اور طالبان کی لڑائی کا بیان قرآن نے ان الفاظ میں کیا ہے:

(اے رسولؐ) یہ سب جمع ہو کر بھی تم سے (بالمواجہہ) نہیں لڑ سکیں گے مگر بستیوں کے قلعوں میں (پناہ لے کر) یا دیواروں کی اوٹ میں (یعنی گوریلا جنگ)۔ ان کا آپس میں بڑا رعب ہے۔ تم شاید خیال کرتے ہو کہ یہ اکھٹے (اور ایک جان) ہیں مگر ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں، یہ اس لئے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں۔ (سورہ حشر۔14)

دنیا آج دہشت گردی کی تعریف پر متفق نہیں ہے لیکن ہمارے لئے قرآن نے واضح کر دیا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کی خاص نشانی یہ ہو گی کہ ان کے دل آپس میں جڑے ہوئے نہیں ہوں گے۔ پس یہ آج ایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں۔ سپاہ صحابہ کے لوگ ایک دوسرے کو مارتے ہیں تو ان کا جھگڑا دوسرے گروہوں سے بھی ہے۔ القاعدہ بھی داعش سے برسرپیکار ہے تو طالبان بھی ان کا قلع قمع کرنا چاہتے ہیں۔

ذیل میں درج شدہ خبریں بی بی سی سے لی گئی ہیں۔

طالبان اور دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے متعدد بار ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر حملہ کر کے وہاں قابض ہونے کی کوشش کی ہے۔ دونوں تنظیموں کے جنگجوؤں کے درمیان زیادہ تر لڑائیاں ننگرہار، ہلمند، فرح اور زابل صوبوں میں ہوئی ہیں، جس میں دونوں جانب سے سینکڑوں جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔ رواں برس دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے ننگرہار کے علاقے میں دس طالبان کے سر قلم کر دیے تھے۔ اِسی سال جون میں پاکستان کے شہر پشاور میں طالبان کے عبوری گورنر مولوی میر احمد گُل کو قتل کر دیا گیا تھا، اُن کے قتل کے بارے میں بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ اِس کے پیچھے دولت اسلامیہ کا ہاتھ ہے۔

دونوں تنظیموں کے درمیان لڑائی کا آغاز جنوری 2015 میں اُس وقت ہوا، جب دولت اسلامیہ نے افغانستان میں اپنی شاخ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ طالبان ملا محمد عمر کو امارت اسلامیہ افغانستان کا امیرالمومنین سمجھتے تھے جبکہ دولتِ اسلامیہ افغانستان کی جانب سے مئی میں جاری کی گئی ویڈیو میں واضح الفاظ میں یہ کہا گیا تھا کہ دنیا میں دو خلافتیں نہیں ہو سکتیں اور ایک اہل خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

دولت اسلامیہ نے اپنے بیانات، تشہیری ویڈیوز اور طالبان پر پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے مفادات کو فروغ دینے کے الزامات لگاتے ہوئے اُن کی بھر پور مخالفت کی ہے۔ طالبان کے لیے بدترین صورت حال یہ ہے کہ اُن کے اپنے کارکن بڑے پیمانے پر اُن سے انحراف کر کے دولت اسلامیہ میں شامل ہو رہے ہیں۔ دولت اسلامیہ جنگجوؤں کی بھرتی کے لیے جارحانہ انداز میں مہم چلا رہی ہے، اُور اِن کا ہدف وہ مسلح کمانڈر ہیں جنھیں نکالا گیا یا دیوار سے لگا دیا گیا تھا۔ یہ جولائی میں طالبان کے سابق امیر ملا محمد عمر کی ہلاکت کے بعد ملا اختر منصور کی نئے رہنما کی حیثیت سے تعیناتی کے بعد اقتدار کے حصول کے لیے جاری اندرونی کشمکش کا بھی فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔

کچھ واقعات میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے اپنے مخالفین کو دردناک طریقوں سے قتل کیا۔ اگست میں جاری کی گئی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں ضلع اچِن کی پہاڑی پر دس افراد کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر اُنھیں دوڑا رہے ہیں، پھر اِن افراد کو زمین پر پہلے سے موجود دھماکہ خیز مواد سے بھرے ہوئے گڑھوں پر بیٹھنے پر مجبور کیا گیا۔ ’توحید کے مرتدوں سے بدلہ‘ کے عنوان سے جاری ویڈیو میں دھماکے کے بعد اُن کے جسم کے اڑتے ہوئے حصوں اور مٹی کو بھی دکھایا گیا ہے۔ ننگرہار صوبے کے کئی علاقوں میں دولتِ اسلامیہ نے شہریوں کو نئے بھرتی ہونے والے جنگجوؤں کے لیے بیویاں فراہم کرنے کو کہا اور علاقے میں سگریٹ کی فروخت اور پینے پر پابندی لگا دی ہے۔ دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے اپنے ہزاروں مخالفین کے گھروں کو لوٹا اور اُنھیں نذر آتش کر دیا اور جو خالی تھے اُن پر قبضہ کر لیا۔

افغانستان میں دولتِ اسلامیہ کے ظہور سے طالبان کی بالادستی شدید خطرے میں ہے۔ لیکن یہ کئی جگہوں پر اُن کے لیے مددگار بھی ہے۔ طالبان رہنما پہلے ہی خطے کے کئی مالک سے مذاکرات کررہے ہیں، اور اُنھیں اِس بات کی یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ وہ دولتِ اسلامیہ کو افغانستان میں قدم جمانے اور اُن کے استحکام کے لیے خطرہ نہیں بننے دیں گے۔ طالبان دولتِ اسلامیہ کے ساتھ لڑائی میں مصروف ہیں اور اُن کے ساتھ ساتھ وہ طالبان سے علیحدہ ہونے والے دھڑوں سے بھی لڑ رہے ہیں۔

متعلقہ تحاریر