آسمانی شادی

آفتاب حیدر نقوی 01/03/2018 418

حضرت فاطمه زہراؑ کی خواستگاری کے لئے حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور عبدالرحمن بن عوف تشریف لائے لیکن سب کو جواب منفی میں ملا۔ بالاخر امام علیؑ کی خواستگاری کو جناب رسول خداؐ اور جناب زہراؑ نے شرف قبولیت بخشا۔ رشتہ طے ہو جانے کے بعد حضرت رسول خداؐ نے امام علیؑ سے فرمایا: کیا آپ کے پاس ضروری اخراجات کی رقم ہے کہ جس سے آپ کی شادی کے مراحل طے کئے جا سکیں؟

امام علیؑ نے عرض کی: یا رسول ﷲ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ آپؐ میرے تمام احوال سے واقف ہیں۔ میرے پاس ایک تلوار، ایک زرہ اور ایک اونٹ ہے۔

رسولﷲؐ نے فرمایا: یا علیؑ، یہ تینوں چیزیں قیمتی اور کام کی ہیں۔ جہاں تلوار کی بات ہے تو اس کے بغیر چارہ نہیں۔ آپؑ اس کے ساتھ ﷲ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں۔ جہاں اونٹ کی بات ہے تو وہ بهی ضروری ہے، کہ آپ اس کے ذریعے پانی اپنے گهر میں لاتے ہیں اور اپنی کهجوروں کو دیتے ہیں، اسی پر سفر کرتے ہیں اور اس سے باربرداری کا کام لیتے ہیں۔ میں آپ کی شادی آپ کی زرہ کے ذریعہ کرنا چاہتا ہوں اور اس کی قیمت پر راضی ہوں۔ جائیے اسے بازار میں بیچ کر اس کی قیمت میرے پاس لے آئیے۔

یہ زرہ جو حضرت علیؑ کو جنگ بدر کے مال غنیمت سے حاصل ہوئی تهی، 500 درہم میں بیچی گئی۔ ﷲ کے رسولؐ نے اس رقم کو تین حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک تہائی سے جہیز کے عنوان سے وسائل خریدے۔ ایک تہائی سے عروسی کے لوازمات خریدے اور ایک تہائی حضرت امیر علیہ السلام کو واپس کر دئیے کہ اس سے ولیمہ کا انتظام کیا جا سکے۔

جہیز کا سامان جب لایا گیا اور رسول اکرمؐ نے اسے دیکها تو فرمایا،

"اے پروردگار! اس خاندان پر اپنی رحمت اور خیر و برکت نازل فرما جن کے عروسی کے برتن مٹی کے ہیں۔"

حضرت زہراؑ نے اپنے والد سے عرض کی کہ اے ﷲ کے رسولؐ لوگوں کی بٹیوں کا حق مہر بهی درہم و دینار ہو اور ﷲ کے رسول کی بیٹی کا حق مہر بهی اسی طرح ہو تو پهر میرے اور ان کے درمیان کیا فرق باقی رہ جائے گا۔ آپؐ کی بارگاہ میں گذارش ہے کہ آپ بارگاہ خاوندی میں دعا فرمائیں کہ وہ میرا مہر، آپکی امت کے گناہگاروں کی شفاعت قرار دے۔ ادهر ابهی بات ختم نہیں ہوئی تهی کہ جبرائیل امین شفاعت کی دستاویز لے کر نازل ہوئے جس پر تحریر تها، "ﷲ تعالی نے فاطمہ زہراؑ کے مہر کو ان کے والد گرامی کی امت کے گناہگاروں کی شفاعت قرار دیا ہے"

پس رسولﷲؐ کے حکم پر امام علیؑ نے ولیمہ کے کهانے کا انتظام کیا جوکہ گوشت، روٹی، کهجور اور گهی پر مشتمل تها۔ نبی اکرمؐ نے اپنے دست مبارک سے کهجور اور گهی کو مخلوط کر دیا تاکہ ایک قسم کا حلوہ بن جائے۔ نبی اکرمؐ کے دست مبارک کی برکت تهی کہ اس کهانے کو کہ جو آج ہمارے حساب سے شائد چند لوگوں کے لئے کافی ہو کو پورے مدینہ اور گردونواح کے لوگوں نے سیر ہو کے کهایا اور اپنے ساتھ بهی لے گئے اور کهانا ختم نہیں ہوا۔

ولیمہ کے بعد رخصتی کا مرحلہ آیا جس میں نبی اکرمؐ نے اپنی خاندان کی عورتوں اور مردوں کو ساتھ رکها اور خود چل کر بارات کو امام علیؑ کے گهر پہنچایا۔

اسباق:

  • ۔ شادی انتہائی سادگی سے انجام پائی اور بیٹی کے باپ پر کوئی مالی بوجھ نہیں تها۔
  • ۔ جہیز، بارات کے لوازمات اور ولیمہ کا انتظام سب دولہا کی طرف سے کیا گیا تها۔
  • ۔ شادی کی بدلے دولہا سے کسی اضافی رقم کا مطالبہ نہیں کیا گیا تها۔ 
  • ۔ صرف مذکورہ چیزوں کا خرچ دولہا پر ڈالا گیا تها جو کہ بہت کم تها اور دولہا کے بس میں تها۔ 
  • ۔ جہیز سب مٹی کے برتنوں پر مشتمل تها، حالانکہ اس زمانے میں بهی معاشرے میں قیمتی ساز و سامان و زیورات و جواہرات کا رواج موجود تها۔
  • ۔ شادی کے موقع پر دولہن کے والد نے باراتیوں کو کهانا نہیں کهلایا۔ بلکہ یہ وہی ولیمہ کا کهانا تها جو دولہا کی طرف سے تها اور شادی سے پہلے دیا گیا تها۔

متعلقہ تحاریر