حضرت علیؑ

آفتاب حیدر نقوی 08/03/2018 456
اور اگر مومنوں میں سے کوئی دو فریق آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو۔ اور اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع لائے۔ پس جب وہ رجوع لائے تو وہ دونوں فریق میں مساوات کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف سے کام لو۔ کہ خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے (حجرات-9)

یہاں سے ایک تاریخی غلطی کا ازالہ ہوتا ہے۔ رسول اکرمؐ کے بعد صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کے ادوار آپس کی جنگوں اور چپقلشوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ حتی حضرت علی اور امیر معاویہ کے درمیان ایک جنگ (صفین) اتنی بڑی تھی کہ 6 مہینے جاری رہی اور طرفین سے 90 ہزار افراد قتل ہوئے۔ حضرت علیؑ کے منصب خلافت پر فائز ہوتے ہی سلطنت اسلامیہ 2 حصوں میں تقسیم ہو گئی اور یزید ملعون کے دور میں کئی حصوں میں تقسیم ہو گئی اور جگہ جگہ بغاوتوں کے علم بلند ہوئے۔

غلطی یہ ہے کہ ہمارے مسلمان اس وہم کا شکار ہیں کہ ہمارا موقف ان تمام مسائل کے بارے میں ہمیشہ مبھم رہنا چاہئے اور کبھی واضح موقف نہیں اپنانا چاہئے۔ ہم کون ہوتے ہیں بھلا ان شخصیات کے بارے میں فیصلہ دینے والے، جیسے جملات اکثر سننے کو ملتے ہیں۔ یا پھر اس مسئلے کو ﷲ پر چھوڑ دینے کا کہا جاتا ہے لیکن کبھی اپنے ہاتھ میں بھی لے لیا جاتا ہے اور علی معاویہ بھائی بھائی جیسے نعرے بھی بلند ہوتے ہیں۔

قرآن ایک واضح اصول بیان کر رہا ہے کہ جب کبھی مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو پہلا کام یہ ہے کہ صلح کرواؤ۔ اور اگر صلح نہ ہو سکے تو تعین کرو کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کون ہے۔ زیادتی کرنے والا کون ہے اور زیادتی کا شکار کون۔ اور پھر زیادتی کرنے والے گروہ سے لڑو، یہاں تک کہ وہ حکم خدا کی طرف پلٹ آئے۔ یعنی ہمارا کام نیوٹرل (معتدل) رہنا نہیں ہے۔ ہمارا اس مسئلے میں چاہے براہ راست کوئی لینا دینا نہ ہو، لیکن قرآن کہتا ہے کہ اگر ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کر رہا ہو تو تمہارا کام ہے کہ زیادتی کرنے والے سے لڑو۔

جب ابو ہریرہ اور ابو الدرداء امیرالمومنین حضرت علیؑ کے پاس معاویہ کا یہ خط لے کر پہنچے کہ قاتلان عثمان کو ان لوگوں کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ (معاویہ) انہیں سزا دے سکے تو امام علیؑ نے فرمایا:

جو کچھ معاویہ نے کہا ہے وہ تم نے مجھ تک پہنچا دیا ہے اب میری باتیں غور سے سنو اور انہیں معاویہ تک پہنچا دو۔
عثمان بن عفان دو حالت سے خارج نہیں، یا تو پیشوائے ہدایت تھا کہ ایسی صورت میں اس کا خون بہانا حرام، اس کی مدد کرنا واجب اور اس کے حکم سے روگردانی کرنا گناہ تھا اور امت کو اس کی مدد سے گریز نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اور یا وہ پیشوائے ضلالت و گمراہی تھا کہ ایسی صورت میں اس کا خون بہانا جائز اور اس کی حکومت کو قبول کرنا اور اس کی مدد کرنا حرام تھا۔
بالاخر وہ ان دو حالتوں سے خارج نہیں۔ لیکن حکم خدا اور حکم اسلام کی رو سے کسی امام اور پیشوا کے دنیا سے رخصت ہو جانے یا قتل ہو جانے کی صورت میں، چاہے وہ گمراہ ہو یا اہل ہدایت، ظالم ہو یا مظلوم، اسکا خون مباح ہو یا حرام، مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ کسی قسم کی کاروائی نہ کریں اور کوئی نیا پروگرام تشکیل نہ دیں اور کسی عمل کا آغاز نہ کریں جب تک کہ وہ اپنے لئے کسی پاکدامن عالم، پارسا، قضاوت کے مسائل اور سنت نبویؐ سے آگاہ امام و پیشوا کا انتخاب نہیں کر لیتے، جو ان کے امور کا منتظم اور ان کے درمیان حکومت و قضاوت کرنے والا ہو۔ جو ظالم سے مظلوم کے حق کو واپس لینے کی سکت رکھتا ہو اور سرحدوں کے حفاظت کرے اور بیت المال کی جمع آوری کا بندوبست کرے، حج کو منظم طور پر بپا کرے اور زکوہ جمع کرے۔
تو جس پیشوا کے بارے میں وہ معتقد ہیں کہ مظلومانہ طور پر قتل کیا گیا ہے اس کے فیصلےکے لئے اس جدید پیشوا کے پاس جائیں۔ پس اگر وہ مقتول پیشوا مظلوم ہوا تو اس کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا کہ صاحبان اس کے حق (قصاص/دیت وغیرہ) کو لیں اور اگر مقتول ظالم ہوا تو دیکھا جائے گا کہ اس صورت میں حکم کیا ہے۔

(پس اے معاویہ تمہارے لئے ضروری ہے کہ قتل عثمان کے مسئلہ کو چھیڑنے سے پہلے حکومت اسلامی کو تسلیم کرو اور اسکی بیعت کرو جس کی بیعت تمام لوگوں نے کی ہے اور اس بہانے کو آڑ بنا کر بغاوت اور اپنی حکومت کی راہ ہموار نہ کرو)

وہ ایک صوبے کا گورنر تھا جس نے امیرالمومنینؑ کی بیعت سے انکار کر دیا تھا۔ جس طرح سے ہم آج باغیوں سے سلوک کرتے ہیں اسی طرح امام علیؑ نے بھی اس کی سرکوبی کے لئے جنگ کی اور ان جنگوں میں لاکھوں لوگ ہلاک اور شہید ہوئے۔ اسی سلسلے کی ایک جنگ (صفین) میں امام علیؑ کی طرف سے لڑتے ہوئے حضرت عمار یاسرؓ شہید ہوئے کہ جن کے بارے میں رسول اکرمؐ نے خبر دی تھی (اور آپ کی بات سچی ہے) کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔ عمار یاسرؓ کے الفاظ آج بهی صفین کے میدان میں گونجتے ہیں جو انہوں نے معاویہ کے لشکر کے روبرو کہے۔

سنو میں ہوں عمار، یاسر کا بیٹا جس کی پہلی قربانی اسلام میں مشہور ہے، اور جس کی ماں کو محبت رسولؐ میں قتل کیا گیا، میں ﷲ اور اس کے رسولؐ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ ہم رسول کی زندگی میں اؚس علم کے ساتھ جس کے نیچے میں کھڑا ہوں، اؙس پرچم والوں سے لڑتے رہے تنزیل قرآن پر، اور آج اؚسی پرچم کے نیچھے کھڑے ہو کر میں اؙس پرچم والوں سے لڑ رہا ہوں تاویل قرآن پر۔

حضرت عمار یاسرؓ 94 برس کی عمر میں جنگ صفین میں معاویہ کے خلاف حضرت علیؑ کی طرف سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔

امام علیؑ کی شخصیت پر ایک ظلم یہ کیا جاتا ہے کہ انہیں بعض لوگ ایک لیت و لعل سے کام لینے والا کنفیوز شخص کے طور پر پیش کرتے ہیں گویا سمجهانا چاہ رہے ہوں کہ کیوں قاتلان عثمان بچ گئے؟ حالانکہ آپ حدود خدا کی اجراء میں ذرہ برابر غفلت اور کوتاہی نہیں برتتے تهے اور اس سلسلے میں کسی نقصان کی پروا نہیں کرتے تهے۔ نجاشی نامی ایک شاعر جس کا شمار امیر المومنین علیؑ کے چاہنے والوں اور آپ کے مداحوں میں سے ہوتا تھا جس نے جنگ صفین میں اپنے بہترین اشعار کے ذریعے لوگوں کو معاویہ کے خلاف جنگ پر ابھارا تھا اور جو اخلاص اور اپنے سابقہ کارناموں کی وجہ سے مشہور تھا۔

اس نے ماہ رمضان میں ایک مرتبہ شراب پی اور جب امیرالمومنینؑ کو اطلاع ملی تو آپؑ نے لوگوں کے سامنے اس پرحد جاری کی۔ نجاشی کا خاندان امیرالمومنینؑ کی خدمت میں آیا اور کہا یا علیؑ آپ نے تو ہمیں بے آبرو کر دیا، وہ تو آپ کے چاہنے والوں میں سے تھا (یعنی آج کی اصطلاح میں آپؑ کی پارٹی سے تھا)۔ آپؑ نے فرمایا میں نے تو فقط جو حد واجب ہو گئی تھی جاری کی ہے۔

البتہ نجاشی نے امیرالمومنینؑ کے ہاتھ سے کوڑے کھانے کے بعد کہا کہ اگر ایسا ہے تو میں آج کے بعد معاویہ کے بارے میں شعر کہوں گا۔ یہ کہ کر امیرالمومنینؑ سے جدا ہو گیا اور معاویہ کے کیمپ سے ملحق ہو گیا۔

البتہ یہ سوال ہنوز باقی ہے کہ جب امام علیؑ کی شہادت کے 6 ماہ بعد پوری کی پوری سلطنت اسلامیہ کا انتظام معاویہ کے ہاتهوں میں آ گیا تو اس نے قاتلان عثمان کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ جہاں تک امام علیؑ کا معاملہ ہے تو وہ اس نظریہ کے حامل ہیں کہ اپنے ایک عہدنامہ میں جو انہوں نے مالک اشتر کو مصر کی گورنری دیتے وقت دیا تھا میں تحریر کرتے ہیں۔

خبردار مالک، کہیں اس حکومت کے آنے کے بعد کہیں یہ خیال نہ آئے کہ میں بھی بڑا ہوں۔ کہیں اس (ﷲ) کے جبروت سے مشابہت پیدا کرنے کی کوشش نہ کرنا، اس لئے کہ ذات واجب ہر جبار کو ذلیل کر دیتی ہے اور ہر سرکش کو تباہ کر دیتی ہے۔

مصر کے حالات خراب تھے اور حضرت ابو بکر کے بیٹے حضرت محمد جن کو امام علیؑ نے پہلے مصر کا گورنر بنایا تھا کو شہید کر دیا گیا تھا اور مالک اشتر کو بھی مصر پہنچنے سے پہلے معاویہ کے کارندوں نے شہید کر دیا تھا، البتہ امام علیؑ کا یہ عہد نامہ آج بھی مصر کے خزانہ میں موجود ہے۔

شیعہ اور اہلسنت میں یہی فرق ہے۔ شیعہ کہتے ہیں کہ ہمیں تعین کرنا ہے کہ تاریخ اسلام کی داخلی جنگوں میں زیادتی کرنے والے کون تھے اور ان کے خلاف اپنا موقف واضح کرنا ہے۔ اور اہلسنت برادران قائل ہیں کہ ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ ظالم کون تھا اور مظلوم کون۔ یہ کام ﷲ کے حوالے ہونا چاہئے وہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

ویسے ﷲ کو چاہئے تھا کہ حکم دیتا کہ اس دنیا میں قاضی یا جج کی کرسی پر اس کے سوا کوئی اور نہیں بیٹھ سکتا ۔ ۔ ۔ ?

متعلقہ تحاریر