شرح صدر اور تصویب ۔ اثبات امامت فی القرآن

آفتاب حیدر نقوی 14/11/2014 435

قرآن کریم میں دو مخلتف جگہوں پر 8 آیات ایک خاص ترتیب سے آئی ہیں۔ پہلے سورہ طہ میں 25 سے 32 نمبر آیات ہیں کہ جو حضرت موسیؑ کی دعا سے شروع ہوتی ہیں کہ اے میرے رب مجھے شرح صدر عطا کر اور کار نبوت میں آسانی اور امداد کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ ان آیات کا اختتام خدا سے اس گذارش پر ہے کہ میرے اہل (خاندان) سے میرا وزیر قرار دیں جو میرے بھائی ہارون ہیں۔ (گویا وزیر خلیفہ کا تعین ﷲ کا اختیار ہے اور نبی خود بھی اس کا تعین نہیں کرتے)۔

اسی ترتیب سے سورہ شرح آتی ہے کہ جہاں آغاز نبی اکرمؐ کو یہ جتلاتے ہوئے کیا جاتا ہے کہ کیا ہم نے تمہیں شرح صدر عطا نہیں کی۔ اور پھر اسی طرح سے کار نبوت میں آسانی فراہم کئے جانے کے ادعا کے بعد کہا جاتا ہے کہ مناسب وقت پر اپنے وصی کا اعلان کر دیں (اور اسی کی تعمیل میں رسول اکرمؐ نے مقام غدیر خم میں مولا علیؑ کی ولایت کا اعلان کیا)

ذیل میں دونوں 8 آیات کا ترجمه ملاحظہ ہو۔

بسمﷲالرحمن الرحیم بسمﷲالرحمن الرحیم
موسیٰؑ نے کہا اے میرے پروردگار! میرا سینہ میرے لئے کھول دے کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھول دیا
اور میرے کام کو مجھ پر آسان کر دے اور تجھ پر سے تیرا بوجھ ہم نے اتار دیا
اور میری زبان کی گره بھی کھول دے جس نے تیری پیٹھ توڑ دی تھی
تاکہ لوگ میری بات اچھی طرح سمجھ سکیں اور ہمنے تیرا ذکر بلند کر دیا
اور میرا وزیر میرے کنبے میں سے کر دے پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے
یعنی میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے
تو اس سے میری کمر کس دے پس جب تو فارغ ہو تو عبادت میں محنت کر (یا وصی کا اعلان کر)
اور اسے میرا شریک کار کر دے اور اپنے پروردگار ہی کی طرف دل لگا

متعلقہ تحاریر