نہج البلاغہ: خطبہ 112

نہج البلاغہ 17/11/2020 229

ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے حمد کو نعمتوں سے اورنعمتوں کو شکریہ سے ملا دیا ہے۔ ہم نعمتوں میں اس کی حمد اسی طرح کرتے ہیں جس طرح مصیبتوں میں کرتے ہیں اوراس سے اس نفس کےمقابلہ کے لئے مدد کے طلب گار ہیں جو اوامر کی تعمیل میں سستی کرتا ہے اور نواہی کی طرف تیزی سے بڑھ جاتا ہے۔ ان تمام غلطیوں کے لئے استغفار کرتے ہیں جنہیں اس کے علم نے احاطہ کررکھا ہے اور اس کی کتاب نے جمع کر رکھا ہے۔ اس کا علم قاصر نہیں ہے اور اس کی کتاب کوئی چیز چھوڑنے والی نہیں ہے۔

ہم اس پر اسی طرح ایمان لائے ہیں جیسے غیب کا مشاہدہ کرلیا ہو اوروعدہ سے آگاہی حاصل کرلی ہو۔ ہمارے اس ایمان کے اخلاص نے شرک کی نفی کی ہے اور اس کے یقین نے شک کا ازالہ کیا ہے۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔ وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور حضرت محمد (ص) اس کے بندہ اور رسول ہیں۔ یہ دونوں شہادتیں وہ ہیں جو اقوال کو بلندی دیتی ہیں اور اعمال کو رفعت عطا کرتی ہیں۔ جہاں یہ رکھ دی جائیں وہ پلہ ہلکا نہیں ہوتا ہے اور جہاں سے انہیں اٹھا لیا جائے اس پلہ میں کوئی وزن نہیں رہ جاتا ہے۔

اللہ کے بندو! میں تمہیں تقویٰ الٰہی کی وصیت کرتا ہوں جو تمہارے لئے زاد راہ ہے اور اسی پر آخرت کا دارومدار ہے۔ یہی زاد راہ منزل تک پہنچانے والا ہے اوریہی پناہ گاہ کام آنے والی ہے۔ اسی کی طرف سب سے بہتر داعی نے دعوت دے دی ہے اوراسے سب سے بہتر سننے والے نے محفوظ کرلیا ہے۔ چنانچہ اس کے سنانے والے نے سنادیا اوراس کے محفوظ کرنے والے نے کامیابی حاصل کرلی۔ اللہ کے بندو!اسی تقویٰ الٰہی نے اولیاء خداکو محرمات سے بچا کر رکھا ہے اوران کے دلوں میں خوف خدا کو لازم کردیا ہے یہاں تک کہ ان کی راتیں بیداری کی نذر ہوگئیں اوران کے یہ تپتے ہوئے دن پیاس میں گزر گئے۔ انہوں نے راحت کو تکلیف کے عوض اورسیرابی کو پیاس کے ذریعہ حاصل کیا ہے۔ وہ موت کو قریب تر سمجھتے ہیں تو تیز عمل کرتے ہیں اور انہوں نے امیدوں کو جھٹلا دیا ہے تو موت کونگاہ میں رکھا ہے۔ پھریہ دنیا تو بہرحال فنا اور تکلیف, تغیر اورعبرت کامقام ہے۔ فنا ہی کانتیجہ ہے کہ زمانہ ہر وقت اپنی کمان چڑھائے رہتا ہے کہ اس کے تیر خطانہیں کرتے ہیں اور اس کے زخموں کا علاج نہیں ہو پاتا ہے۔ وہ زندہ کو موت سے صحت مند کو بیماری سے اورنجات پانے والے کو ہلاکت سے مار دیتا ہے۔ اس کاکھانے والا سیر نہیں ہوتا ہے اور پینے والا سیراب نہیں ہوتا ہے۔ اور اس کے رنج و تعب کا اثر یہ ہے کہ انسان اپنے کھانے کا سامان فراہم کرتا ہے, رہنے کے لئے مکان بناتا ہے اور اس کے بعداچانک خدا کی بارگاہ کی طرف چل دیتا ہے۔ نہ مال ساتھ لے جاتا ہے اور نہ مکان منتقل ہو پاتا ہے۔

اس کے تغیرات کا حال یہ ہے کہ جسے قابل رحم دیکھا تھا وہ قابل رشک ہو جاتا ہے اور جسے قابل رشک دیکھا تھا وہ قابل رحم ہو جاتا ہے۔ گویا ایک نعمت ہے جو زائل ہوگئی اور ایک بلاء ہے جو نازل ہوگئی۔ اس کی عبرتوں کی مثال یہ ہے کہ انسان اپنی امیدوں تک پہنچنے والا ہی ہوتا ہے کہ موت اس کے سلسلہ کو قطع کردیتی ہے اور نہ کوئی امید حاصل ہوتی ہے اور نہ امید کرنے والا ہی چھوڑاجاتا ہے۔ اے سبحان اللہ! اس دنیا کی خوشی بھی کیا دھوکہ ہے اور اس کی سیرابی بھی کیسی تشنہ کامی ہے اور اس کے سایہ میں بھی کس قدردھوپ ہے۔ نہ یہاں آنے والی موت کو واپس کیا جا سکتا ہے اور نہ کسی جانے والے کو پلٹایا جاسکتا ہے۔ سبحان اللہ! زندہ مردہ سے کس قدر جلدی ملحق ہو کر قریب تر ہو جاتا ہے اورمردہ زندہ سے رشتہ توڑ کر کس قدر دور ہو جاتا ہے۔ (یاد رکھو) کوئی شے شر سے بدتر نہیں سوائے اس کے عذاب کے اورخیر سے بہتر کوئی شے نہیں سوائے اس کے ثواب کے۔ دنیا میں ہرشے کا سننا اس کے دیکھنے سے عظیم تر ہوتا ہے اورآخرت میں ہر شے کا دیکھنا اس کے سننے سے بڑھ چڑھ کر ہوتا ہے لہٰذا تمہارے لئے دیکھنے کے بجائے سننا اور غیب کے مشاہدہ کے بجائے خبر ہی کو کافی ہو جانا چاہیے۔ یاد رکھو کہ دنیا میں کسی شے کا کم ہونا اور آخرت میں زیادہ ہونا اس سے بہتر ہے کہ دنیا میں زیادہ ہو اورآخرتمیں کم ہو جائے کہ کتنے ہی کمی والے فائدہ میں رہتے ہیں اور کتنے ہی زیادتی والے گھاٹے میں رہ جاتے ہیں۔ بیشک جن چیزوں کا تمہیں حکم دیا گیاہے ان میں زیادہ وسعت ہے بہ نسبت ان چیزوں کے جن سے روکا گیا ہے اور جنہیں حلال کیا گیا ہے وہ ان سے کہیں زیادہ ہیں جنہیں حرام قراردیا گیا ہے لہٰذا قلیل کو کثیر کے لئے اور تنگی کو وسعت کی خاطرچھوڑ دو۔ پروردگار نے تمہارے رزق کی ذمہ داری لی ہے ۔ اور عمل کرنے کاحکم دیا ہے لہٰذا ایسا نہ ہو کہ جس کی ضمانت لی گئی ہے اس کی طلب اس سے زیادہ ہو جائے جس کو فرض کیا گیا ہے۔ خدا گواہ ہے کہ تمہارے حالات کو دیکھ کر یہ شبہ ہونے لگتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ شائد جس کی ضمانت لی گئی ہے وہی تم پرواجب کیا گیا ہے۔ اور جس کاحکم دیا گیا ہے اسی کو ساقط کردیا گیا ہے۔

خدا را عمل کی طرف سبقت کرو اور موت کے اچانک وارد ہو جانے سے ڈرواس لئے کہ موت کے واپس ہونے کی وہ امید نہیں ہے جس قدر رزق کے پلٹ کرآجانے کی ہے۔ جو رزق آج ہاتھ سے نکل گیا ہے اس کے کل اضافہ کا امکان ہے لیکن جو عمرآج نکل گئی ہے اس کے کل واپس آنے کا بھی امکان نہیں ہے۔ امید آنے والے کی ہو سکتی ہے جانے والے کی نہیں اس سے تو مایوسی ہی ہو سکتی ہے۔ اللہ سے اس طرح ڈرو جو ڈرنے کاحق ہے اور خبردار اس وقت تک دنیا سے نہ جانا جب تک واقعی مسلمان نہ ہوجائو۔

متعلقہ تحاریر