بنی اسرائیل اور گائے

آفتاب حیدر نقوی 25/11/2015 363

سورہ بقرہ قرآن کی سب سے بڑی سورہ ہے اور اس میں بیان شدہ گائے کا قصہ انتہائی سبق آموز ہے۔

حضرت موسیؑ کے زمانے میں ایک شخص نے اپنے چچازاد بھائی کو قتل کر کے اس کی لاش ایک مومن کے راستے میں رکھ دی اور خود اس کے انتقام کے لئے کھڑا ہو گیا۔ خدا نے حضرت موسیؑ کو حکم دیا کہ لوگ ایک گائے کو ذبح کریں اور اسکا کچھ حصہ مقتول کی لاش پر ماریں تاکہ وہ قاتل کی خبر دے۔

اس موقع پر اگر بنی اسرائیل حکم کو تسلیم کرتے تو کوئی بھی گائے ذبح کر سکتے تھے لیکن انہوں نے حکم الہی کا مذاق اڑاتے ہوئے گائے کی خصوصیات پر بحث کرنا شروع کر دی۔ پس گائے کی وہ خصوصیات بیان کر دی گئیں کہ ان خصوصیات کی حامل گائے بنی اسرائیل کے صرف ایک جوان کے پاس موجود تھی اور اس نے اس گائے کی قیمت کھال بھر سونا وصول کی۔

گائے کے متعلق بحث کی منظر کشی قرآن نے یوں کی ہے:

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا هِيَ ۚ قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَلَا بِكْرٌ عَوَانٌ بَيْنَ ذَٰلِكَ ۖ فَافْعَلُوا مَا تُؤْمَرُونَ (68) قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا لَوْنُهَا ۚ قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَاءُ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النَّاظِرِينَ (69) قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا هِيَ إِنَّ الْبَقَرَ تَشَابَهَ عَلَيْنَا وَإِنَّا إِن شَاءَ اللَّهُ لَمُهْتَدُونَ (70) قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُولٌ تُثِيرُ الْأَرْضَ وَلَا تَسْقِي الْحَرْثَ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِيَةَ فِيهَا ۚ قَالُوا الْآنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ ۚ فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُوا يَفْعَلُونَ (2:71)

ترجمہ: انہوں نے کہا اے موسیٰ! اپنے رب سے کہئے کہ ہمارے لئے اس کی ماہیت بیان کردے، آپ نے فرمایا سنو! وه گائے نہ تو بالکل بڑھیا ہو، نہ بچہ، بلکہ درمیانی عمر کی نوجوان ہو، اب جو تمہیں حکم دیا گیا ہے بجا لاؤ۔ وه پھر کہنے لگے کہ اپنے رب سے کہئے کہ بیان کرے کہ اس کا رنگ کیا ہے؟ فرمایا وه کہتا ہے کہ وه گائے زرد رنگ کی ہے، چمکیلا اور دیکھنے والوں کو بھلا لگنے واﻻ اس کا رنگ ہے۔ وه کہنے لگے کہ اپنے رب سے کہئے کہ ہمیں اس کی مزید ماہیت بتلائے، ہم گائے کے معاملے میں الجھ گئے ہیں، اگر اللہ نے چاہا تو ہم ہدایت والے ہوجائیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ وه گائے کام کرنے والی زمین میں ہل جوتنے والی اور کھیتوں کو پانی پلانے والی نہیں، وه تندرست اور بےداغ ہے۔ انہوں نے کہا، اب آپ نے حق واضح کردیا گو وه حکم برداری کے قریب نہ تھے، لیکن اسے مانا اور وه گائے ذبح کردی۔

اس کہانی کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے کہ گائے کا مالک یہ نوجوان اپنے والدین پربہت احسان کیا کرتا تھا۔ ایک دن اس نے کوئی مال خریدا اور گھر آیا کہ رقم لے جائے تو دیکھا کہ اس کے والد اس کی قمیض کو سرہانہ بنا کر سو رہے ہیں کہ جس میں پیسوں کی چابی تھی۔ اس نے والد کو اٹھانا پسند نہ کیا کہ وہ بے آرام نہ ہوں اور یوں تاخیر کے سبب وہ سودا نہ کر سکا۔ والد کو بیدار ہونے کے بعد اس بات کا پتہ چلا تو وہ بہت خوش ہوئے اور یہ گائے اپنے اس فرمانبردار بیٹے کو بخش دی۔

متعلقہ تحاریر