ہر فرد بالخصوص والدین کو اقدام کرنا ہو گا

آفتاب حیدر نقوی 08/04/2018 283

تسلسل سے وطن عزیز کے مختلف علاقوں سے خبریں موصول ہو رہی ہیں جن میں بالخصوص کم سن بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کیا جا رہا ہے۔ جرم کو روکنے کے لئے جہاں حفاظتی انتظامات اہمیت کے حامل ہوتے ہیں تو وہاں اس سے کہیں زیادہ اہم چیز جرائم کے محرکات کا تدارک ہوتا ہے۔ حفاظتی انتظامات میں سے بعض کا تعلق حکومت اور پولیس سے ہے اور بعض کا تعلق والدین اور معاشرہ سے ہے۔ اسی طرح جنسی جرائم پر ابهارنے والے محرکات کے خلاف بهی والدین اور معاشرہ مؤثر اقدامات کر سکتے ہیں۔ معاشرہ کے تمام افراد بالخصوص صاحب حیثیت افراد، علما و دانشوران اور خاص طور پر بچیوں کے والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے اردگرد کے ماحول کو پاکیزہ بنانے اور بچوں، خواتین اور تمام افراد کے لئے ایک محفوظ معاشرہ کی تشکیل کے لئے چند اقدامات فوری عمل میں لائیں۔

  • اپنے محلے کے کیبل آپریٹر کو پابند کریں کہ فحش اور بیہودہ چینل/ پروگرامات اور جنسی جذبات کو ابهارنے والی ویڈیوز نشر کرنے سے باز رہے۔ اور عمومی چینلز کے ساتھ ساتھ اسلامی چینلز بهی لازمی نشر کرے۔
  • اپنے نزدیک موجود سی ڈی کی دوکانوں کو پابند کریں کہ وہ ننگی اور بیہودہ فلمیں نہیں رکهیں گے۔ یہی بات کتب فروش حضرات پر بهی لاگو کی جائے۔ نواجوانوں کے ذہن کو آلودگی سے بچانا پہلا کام ہونا چاہئے۔
  • محلے کے اوباش اور آوارہ جوانوں سے محبت سے بات کریں اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف مائل کریں۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم ایسے لوگوں کو برے افعال کے بهیانک انجام سے خوفزدہ کیا جائے اور معاشرے کی اجتماعی طاقت کو انہیں نفسیاتی طور پر مرعوب کرنے کے لئے استعمال کیا جائے۔
  • منشیات بالخصوص شراب کے اڈے اور ان کی تجارت سے وابستہ افراد اور برائی کے دیگر اڈوں کے خلاف جہاد کو دینی فریضہ سمجھ کر اگر انجام نہ دیا گیا تو روز قیامت کی رسوائی سے پہلے اس دنیا میں بهی اس کے برے اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اس سلسلہ میں قانونی اقدامات کے علاوہ ہر ممکن سماجی اور معاشرتی اقدامات کرنے چاہئیں کہ لوگ ان چیزوں سے دور رہیں۔
  • اگر کوئی نوجوان بےروزگار ہے تو اس کے لئے کسی مناسب روزگار کا بندوبست کریں۔ نوجوانوں کا فارغ رہنا انہیں بری صحبت اور جرائم کی طرف راغب کر سکتا ہے۔
  • کهیلوں اور دیگر صحت مندانہ سرگرمیوں کے فروغ کی کوشش کرنی چاہئے۔کهیلوں کے میدانوں پر بعض جگہوں پر قبضہ کر لیا جاتا ہے یا بعض اوقات وہ سرے سے موجود ہی نہیں ہوتے۔ ایسی صورتحال میں بڑوں کا فریضہ ہے کہ جوانوں کی مثبت سرگرمیوں کے لئے اس کا مناسب حل تلاش کریں۔
  • جسمانی کهیلوں کے مقابلوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی مقابلے، ادبی مقابلے، فنی مقابلے، فنون لطیفہ اور دیگر علمی سرگرمیاں معاشرے کو مثبت سمت عطا کرتی ہیں۔ اور یہ کام محلے اور شہروں کی سطح پر بهی انجام دیا جا سکتا ہے۔
  • اگر رسائی دینا ضروری ہو تو بچوں کو انٹرنیٹ تک رسائی سے پہلے ان کی ضروری تربیت کا اہتمام کیا جائے اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو وقتاً فوقتاً چیک کیا جائے۔ ہاں جب وہ عاقل و بالغ ہو جائیں تو انہیں مناسب آزادی دی جائے۔
  • اس بات کی ترویج کی جائے کہ جس طرح سے نامحرم مرد و عورت کی دوستی اور غیر شرعی تعلق کو اسلام نے ممنوع قرار دیا ہے، بعینہ اسی طرح انٹرنیٹ پر بهی دوستی حرام ہے۔
  • اجنبیوں کے علاوہ آشناؤں کی طرف سے بهی جنسی جرائم کے ارتکاب کا خطرہ ہوسکتا ہے تو اس کے تدارک کے لئے گهر میں آنے جانے اور ٹهہرنے کے قواعد وضع کریں اور اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو اس کا پابند کریں۔
  • خواتین کو باور کرانا چاہئے کہ صرف گهر سے نکلنے پر ہی پردہ نہیں ہوتا بلکہ گهر میں بهی اگر کوئی نامحرم جیسے چچا زاد، ماموں زاد یا دیگر ہوں تو ان سے بهی پردہ اور دوری اسی طرح واجب ہے کہ جیسی وہ بازار میں برتتی ہیں۔
  • بچیوں کو یہ بات سمجهنی چاہئے کہ انہوں نے زندگی صرف ایک شخص کے ساتھ گزارنی ہے۔ پس اپنے بناؤ سنگهار کو پوری دنیا کے سامنے عیاں کرنا خلاف عقل بهی ہے اور خدا کی ناراضگی کا سبب بهی۔ دوسری طرف اس کا نتیجہ نوجوان لڑکوں کے جنسی جذبات کے ابهرنے اور فاسد خیالات کے جنم لینے کی صورت میں نکلتا ہے جو معاشرے کو آلودہ کرتا ہے۔ بعینہ یہی بات لڑکوں ک بهی باور کرائی جانی چاہئے کہ ان کی زندگی کی ساتهی کوئی ایک لڑکی ہی ہو گی (یا زیادہ سے زیادہ 4) تو ایسی صورت میں ہر لڑکی کی طرف متوجہ ہونا ان کے قلب کی پاکیزگی کو ختم کرتا ہے۔
  • بعض ماہرین کے مطابق زیادہ تر جنسی زیادتی کے کیس اجنبیوں کی بجائے آشنا افراد کی طرف سے سامنے آتے ہیں۔ اس سلسلہ میں ہمارا نظریہ یہ ہے کہ اس کی وجہ ان کا مورد تک آسانی سے رسائی حاصل ہونا ہے۔ چونکہ اجنبی افراد کے مقابلے میں آشنا افراد کو آسانی سے اور زیادہ رسائی حاصل ہوتی ہے لہذا جنسی زیادتی کے امکانات بهی زیادہ ہوتے ہیں۔ پس بچوں اور خواتین تک کسی بهی جگہ خلوت میں (تنہائی کے دوران) رسائی کا امکان پیدا نہ ہونے دیں۔
  • محلے کی مسجد میں روزانہ کی بنیادوں پر (یا کم از کم ہفتہ وار) نوجوانوں کے لئے درس کا اہتمام کریں۔ البتہ اس میں محلے کے بڑوں کی شرکت بهی ضروری ہے تاکہ بچوں کو مسجد میں بهی تنہا نہ چهوڑا جائے۔
  • اصلاح معاشرہ اور فلاح و بہبود کے کاموں کے لئے انجمنیں تشکیل دیں تاکہ لوگوں کو مثبت مصروفیت ملے اور معاشرتی مشکلات کم ہوں۔
  • گهریلو جهگڑے، خاندانی مسائل اور محرومیاں جہاں بهی ہیں ان کے خاتمہ کے لئے انفرادی اور اجتماعی سطح پر کوشش کریں۔ کیوں کہ یہ چیزیں آگے چل کر جرائم کی بنیاد بنتی ہیں۔
  • بچوں اور بچیوں کی جلد شادی کے لئے کوشش کریں۔ اس سلسلہ میں موجود رکاوٹوں جیسے ذات پات کی تفریق، شادی پر بےپناہ اخراجات وغیرہ کو دورکرنے کی کوشش کریں۔
  • بچوں کو اچهائی برائی سے متعلق آگاہی دیں اور اپنی حفاظت سے متعلق خبردارکریں۔
  • خود اپنے بچوں کے ساتھ وقت گذاریں اور انہیں آوارگی اختیار کرنے کا موقع نہ دیں۔
  • یاد خدا، ذکر خدا اور دعا کے روحانی اثرات سے غفلت نہ برتیں، جو خود آپ کے لئے بهی اثر رکهتے ہیں اور دوسروں کے لئے بهی۔ بالخصوص تلاوت اور نماز سے گهر کو آباد کریں۔

واضح رہے کہ یہ ہم ہی ہیں جو اپنے معاشرے کو اچها اور برا بناتے ہیں۔ دشمن نے ہمارے معاشرے پر وار کیا ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کے ذریعے سے اپنی ثقافت کے رنگ میں رنگنا چاہتا ہے۔ آئیے اپنے معاشرے کو خدا کے رنگ میں رنگ دیں، کہ خدا کا ارشاد ہے:

وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً (بقره ۔ 138)
اور کس کا رنگ ﷲ کے رنگ سے بہتر ہے؟

متعلقہ تحاریر