دیوان ابوطالبؑ سے چند اشعار

آفتاب حیدر نقوی 28/02/2018 393

دیوان ابوطالبؑ سے چند اشعار:

تصویر میں دئیے گئے اشعار کا پس منظر اور ترجمہ ترتیب وار پیش کیا جا رہا ہے۔

ایک (1):
طبری نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے کہ جب قریش مکہ نے دیکها کہ شیخ بطحا، سید القریش جناب ابو طالبؑ کسی صورت اپنے بهتیجے کی حمایت سے ہاتھ اٹهانے کے لئے تیار نہیں تو مکہ کے سرداروں کا ایک وفد آپ کے دروازے پر پہنچا۔ کہنے لگے کہ ہم آپ کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ کی خدمت میں قریش کا یہ حسین و جمیل جوان (عمارہ بن ولید) پیش کریں تاکہ آپ اس کے عوض اپنا بهتیجا جس نے ہماری جمعیت کو پراگندہ کر ڈالا ہے اور جو ہمارے دانشوروں کو احمق اور بےوقوف سمجهتا ہے، ہمارے حوالے کر دیں، تاکہ ہم اس سے اپنا اور اپنے خداؤں کا انتقام لے سکیں۔ جناب ابوطالبؑ نے نہائت متانت اور درائت و شہامت کے ساتھ جواب دیا کہ یہ کیسا معاملہ ہے کہ جس کی تم لوگوں نے مجهے پیشکش کی ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ میں تمهارے بچے کی پرورش کروں اور تم میرے نور نظر، پاره جگر کو قتل کر دو۔ اگر یہی تمہارا انصاف ہے تو تم میں سے ہر آدمی اپنا بیٹا میرے پاس لے آئے، تاکہ میں اسے قتل کروں۔ پس یہ اشعار کہے،
"اے ستم پیشہ لوگو، کان کهول کر سن لو، ہم کهنچی ہوئی چمک دار تلواروں کے ساتھ جراءت و شہامت کے ساتھ پیغمبر حریت کا دفاع کرنے والے ہیں۔ ہم ان کے حقوق و آزادی کے لئے اور ان کے دفاع کے لئے جنگ کے لئے تیار ہیں۔ ہم ان کا دفاع کریں گے کہ جس طرح ایک جان پر مر مٹنے والا دفاع کرتا ہے"

دو (2):
رسول اکرمؐ سے محبت کا وہ اظہار جو تاریخ طبری جلد دوم، صفحہ 27-28 اور سیت ابن ہشام جلد 1، صفحہ 265-267 پر رقم ہے۔ ان میں سے چند اشعار یوں ہیں:
"اے کبر و غرور سے بهرپور نمائندگان ظلم و ستم کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ ہم نے محمدؐ کو اس طرح نبی پایا جس طرح حضرت موسیؑ نبی ہیں۔ آسمان سے جو کتاب نازل ہوئی، ہر کتاب نے آپؐ کی آمد کی بشارت دی۔ جناب ہاشم جو ہمارے پدر بزگوار تهے، انہوں نے اپنی کمر ہمت کو مستحکم کیا اور اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ وہ معاشرہ میں اصلاح و آزادی اور عدالت کو رائج کرنے کے لئے نیزہ اور تلوار کے ساته قیام کریں"

تین (3):
پیغمبر خداؐ کی یوں تعریف کی:
"کفار اور کج فکر لوگوں نے احمد مرسلؐ سے کہا، تو جهوٹا ہے اور تیرے پاس اتنی طاقت و قوت نہیں ہے کہ تو کفر و شرک کا مقابلہ کر سکے۔ خبردار جان لو یہ حقیقت ہے، یہ احمد مرسل ہیں اور وہ ﷲ کا پیغام لے کر آئے ہیں۔ ان کی ہر بات سچ ہے، ان کا کوئی فرمان جهوٹا نہیں ہو سکتا۔"

چار (4):
قرآن کے دفاع میں گویا ہوتے ہیں:
"صحیفہ والی خبر قوم کے لئے درس عبرت تهی۔ جب صحیفہ کے بارے میں خبر دی گئی، حالانکہ صحیفہ ایک مخفی امر تها۔ اس نے صحیفہ کی حقیقت بتا دی۔ ﷲ نے ان کے کفر کی طاقت کو مٹا کر رکه دیا اور جو لوگ حق و حقیقت سے بغض رکهتے ہیں ان کا بهی خاتمہ کر دیا۔ بدعقیدہ اور باطل پرست ان کی دشمنی پر جان دیتے رہے۔"

پانچ (5):
جناب ابوطالبؑ ایک ساتہ کی طرح حضرت رسول خداؐ کے ساته رہتے تهے۔ دیکها جاتا تها کہ ابو طالبؑ اپنے جری و جنگجو برادر حضرت حمزہؑ کے ساته اپنی تلواریں ننگے کئے ہوئے دائیں بائیں چل رہے ہیں۔ ان کے ساته قدم سے قدم ملا کر مسجد الحرام جاتے تهے تاکہ دشمن کو پتہ چلے کہ وہ رسولﷲؐ کی موازرت و مناصرت میں سب کچه کرنے کو کمر بستہ ہیں۔آپؐ کے پیچهے اور دائیں بائیں بنی ہاتم کے جوان اور ابوطالبؑ کے غلام دفاعی پوزیشنیں سنبهالے ہوتے۔ معلوم ہوتا تها کہ محمد رسولﷲؐ کے ساته بہادر جوانوں کا جتها آ رہا ہے، تاکہ دشمن خدا کو ان کی شان میں گستاخی کی جراءت نہ ہو۔ ایک دفعہ اپنے مجاهد بهائی حضرت حمزہؑ کو نصرت محمدیؐ کی ترغیب و تشویق دیتے ہوئے فرمایا:
"اے برادر عزیز حمزہ، احمدؐ کے آزادی بخش دین میں صبر و شکیبائی سے کام لے۔ اس دین کو حق و پائیداری و پامردی کے ساته قبول کر۔ جب تو ان پر ایمان طے آئے گا تو میری مسرت کی انتہاء ہو جائے گی۔ ﷲ کی خوشنودی کی خاطر پیغمبر حریت کا ناصر بن جا۔"

چھ (6):
جب حضرت ابو طالبؑ نے بادشہ حبشہ نجاشی کو نبی اکرمؐ کی نصرت کی ترغیب دی تو فرمایا:
"اے حبش کے بادشاہ! بے شک حضرت ممدؐ اسی طرح ﷲ کے نبی ہیں جس طرح حضرت موسیؑ اور حضرت عیسیؑ نبی تهے۔ ان کا پروگرام بهی حضرت موسیؑ و حضرت عیسیؑ کے پروگرام کی طرح ہے۔ یہ بهی ہدایت و رہبری کا وہی پیغام رکهتے ہیں جو ان پیغمبروں نے دیا تها۔ تم اپنی کتابوں میں وہی پڑهتے ہو جو ابهی یہ لائے ہیں، وہی حق و صداقت کی باتیں جو تمہارے پاس ہیں۔ ان کی ہر بات سچ و حق پر مبنی ہے۔ قصہ کہانی نہیں ہے۔ ﷲ کا شریک نہ بناؤ اور اسلام قبول کر لو۔ حق کا راستہ روشن ہے تیرہ و تاریک نہیں ہے"

سات (7):
فرمایا:
"ﷲ تعالی نے اپنی حضرت محمدؐ کو محترم و مکرم بنایا اور تمام لوگوں میں ﷲ نے احمد مرسلؐ کو کرامت و بزگواری عطا کی اور ان کا نام اپنے نام سے رکهاتاکہ ان کا نام عطمت حاصر کرے۔ پس جو صاحب عرش ہے وہ محمود ہے اور یہ محمدؐ ہیں"

آٹھ (8):
آپ کا وہ قصیدہ جس میں آپؑ نے پیغمبر اسلامؐ کے دفاع کی تعلیم دی تهی:
خدا کے گهر کی قسم، تم نے جهوٹ بولا ہے۔ کیا یہ جائز ہے کہ محمدؐ ظالموں کے ہجوم میں گهرا ہوا ہو اور وہ اس پر ظلم و ستم کر رہے ہوں اور ہم اپنے نیزوں اور تلواروں سے ان کا دفاع نہ کریں۔ کیا یہ ضروری نہیں کہ ہم اپنے بچوں اور گهر والوں کو بهلا کر اس کی مدد کریں۔ اس کی ہمراہی میں درخشاں ہدف کے لئے خون میں غلطاں نہ ہو جائیں۔ اس کا چہرہ کس قدر نورانی و درخشاں ہے کہ اس کے چہرے کی برکت سے بادلوں سے بارش کی دعا مانگی جاتی ہے۔ وہ یتیموں کی فریاد پر لبیک کہنے والے ہیں اور بیوگان کے لئے ملجی و ماوی ہیں۔ بنو ہاشم کے بے آسرا و بے سہارا لوگ ان کے وسیع دامن میں پناہ لیتے ہیں۔ وہ اپنی رحمت اور عطایا سے انہیں مالامال کر دیتے ہیں۔"

نو (9):
فرمایا:
"اے گروہ حق ستیز! کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ ہمارا فرزند ہمارے نزدیک سچا اور بلند کردار کا مالک ہے۔ ہمارا ان پر ایمان ہے۔ ہم تمہاری بےہودگیوں سے متائثر ہونے والے نہیں۔ خداوندتعالی کے ہم شکرگزار ہیں کہ جو اپنے تمام بندوں کا پروردگار ہے۔ اس نے اپنے نبی کی اپنی نصرت کے ساتھ تائید کی ہے اور اس نے اپنے دین حق کو سرفرازی و فتح عطا کی ہے۔ میں محمد نبیؐ کی نصرت کے لئے جانفشانی کروں گا، اور اس کے ہم رکاب ہو کرجانباز سواروں کو ساتھ لے کر نیزوں اور تلواروں سے ان کا دفاع کروں گا۔"

متعلقہ تحاریر