حقوق زوجین: شوہر کے فرائض

آفتاب حیدر نقوی 13/04/2018 484
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (روم -21)
ترجمہ: اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی، یقیناً غور وفکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں

نبی مکرمؐ کا ارشاد ہے،

مرد خاندان کے سرپرست ہیں اور ہر سرپرست پر اپنے زیر کفالت افراد کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔

اس سلسلے ہیں مردوں پر عائد مختلف ذمہ داریوں کو چند ابواب میں جمع کیا گیا ہے۔

حسن سلوک:

نبی مکرمؐ کا ارشاد ہے،

ایمان کے اعتبار سے کامل ترین انسان وہ لوگ ہیں جو بے حد خوش اخلاق ہوں۔ تم میں سے بہترین انسان وہ ہے جو اپنے خاندان کی نسبت نیکی کرے۔ میں اپنے اہل خاندان کی نسبت سب سے بہتر ہوں۔

امیرالمومنین امام علیؑ نے فرمایا،

عورتیں مردوں کو امانت کے طور پر سونپی گئی ہیں۔ اور وہ اپنے نفع و نقصان کی مالک نہیں ہیں۔ وہ تمہارے پاس خدا کی امانت کے طور پر ہیں ان کو تکلیف نہ پہنچاؤ اور ان پر سختی نہ کرو۔

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں،

خدا اس شخص پر رحمت نازل کرتا ہے جو اپنے اور اپنی بیوی کے درمیان اچها رابطہ قائم رکهتا ہے، کیوںکہ خداوند عالم نے مرد کو اختیار دیا ہے اور اسے سرپرست بنایا ہے۔

عزت و احترام:

نبی مکرمؐ کا ارشاد ہے،

نیک اور بلند مرتبہ لوگ اپنی بیویوں کی عزت کرتے ہیں، اور پست ذہنیت اور نیچ لوگ ان کی توہین کرتے ہیں۔ نیز فرمایا: جو شخص اپنے گهر والوں کی بے عزتی کرتا ہے زندگی کی مسرتوں کو ہاتھ سےکهو دیتا ہے۔

حضرت رسول خداؐ اپنے ایک بزرگ صحابی سعد بن معاذؓ جن کا آپ بہت احترام کرتے تهے، کے جلوس جنازہ میں صاحبان عزاء کی طرح ننگے پاؤں شریک ہوئے۔ اپنے دست مبارک سے ان کے جنازہ کو قبر میں اتارا اور قبر کی مٹی برابر کی۔ سعد کی والدہ جو رسول خداؐ کے یہ تمام احترامانہ اعمال دیکھ رہی تهیں نے اپنے بیٹے سعد کو مخاطب کر کے کہا: اے سعد بہشت مبارک ہو۔ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا:

اے مادر سعد ایسا نہ کہئے۔ کیوںکہ سعد کو قبر میں سخت فشار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لوگوں نے وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے گهر والوں کے ساتھ بداخلاقی سے پیش آتے تهے۔

امام جعفر صادقؑ کا ارشاد ہے،

جو شخص شادی کرے اسے چاہئے کہ اپنی بیوی کی عزت اور اس کا احترام کرے۔

حکیم لقمان فرماتے ہیں،

عقل مند آدمی کو چاہئے کہ اپنے گهروالوں کے درمیان ایک بچے کی مانند رہے اور اپنی مردانگی کا مظاہرہ گهر کے باہر کرے۔

اظہار محبت:

نبی مکرمؐ کا ارشاد ہے،

انسان کا ایمان جتنا کامل ہوتا ہے وہ اتنا ہی زیادہ اپنی بیوی سے محبت کا اظہار کرتا ہے۔ مرد اگر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ میں تم سے سچی محبت کرتا ہوں تم اس کی یہ بات اس کے دل سے کبهی محو نہیں ہو گی۔

امام جعفر صادقؑ کا ارشاد ہے،

عورت مرد کے لئے پیدا کی گئی ہےاور اس کی تمام توجہ مردوں کی طرف مبذول رہتی ہے۔ پس اپنی بیویوں کو دوست رکهو۔ نیز فرمایا: جو شخص اپنی بیوی سے محبت کا زیادہ اظہار کرتا ہے وہ ہمارے دوستوں میں سے ہے۔
امام جعفر صادقؑ کا یہ بهی ارشاد ہے، پیغمبروں کی ایک سیرت یہ رہی ہے کہ وہ اپنی بیویوں سے محبت کرتے تهے۔

بننا سنورنا:

پیغمبر گرامی اکرمؐ کا ارشاد مبارک ہے،

مرد پر واجب ہے کہ اپنی بیوی کی غذا اور لباس کا انتظام کرے اور بری وضع و قطع سے اس کے سامنے نہ آئے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو گویا اس کا حق ادا کیا۔ نیز فرمایا: مردوں کو چاہئے کہ اپنی بیویوں کے سامنے قاعدے سے اور اچهی وضع قطع سے رہیں جس طرح کہ وہ پسند کرتے ہیں کہ ان کی بیویاں ان کے لئے بنیں سنوریں۔

حسن بن جحم کہتے ہیں: حضرت ابوالحسنؑ کو میں نے دیکها کہ خضاب لگائے ہوئے ہیں۔ میں نے عرض کیا آپؑ نے خضاب لگایا ہے؟ فرمایا: ہاں قاعدے سے اچهی طرح رہنا عورتوں کی عفت کا باعث ہوتا ہے۔ اور مردوں کا برے حلئے سے بدوضع طریقے سے رہنا سبب بنتا ہے کہ عورتوں اپنی عفت کهو بیٹهیں۔ پهر فرمایا: کیا تم کو اپنی بیوی کو بری وضع قطع میں دیکهنا اچها لگے گا۔ میں نے کہا نہیں۔ فرمایا وہ بهی بالکل تمہاری جیسی ہوتی ہیں۔

امام علی رضاؑ فرماتے ہیں،

بنی اسرائیل کی عورتیں اسی وجہ سے اپنی عفت و عصمت گنوا بیٹهی تهیں کیونکہ ان کے مرد اچهی طرح سے قاعدے سے رہنے اور خوبصورتی کا لحاظ نہیں رکهتے تهے۔ پهر فرمایا جس بات کی توقع تم اپنی بیوی سے کرتے ہو ویسی ہی توقع وہ تم سے کرتی ہیں۔

خرچ کرنا:

حضرت رسول خداؐ فرماتے ہیں،

وہ شخص ہم میں سے نہیں جو مال و دولت کے اعتبار سے خوشحال ہو لیکن اپنے بچوں پر سخت گیری کرے۔

امیرالمومنین امام علیؑ فرماتے ہیں:

ہر جمعہ کو اپنے اہل و عیال کے لئے پهل مہیا کرو تاکہ وہ جمعہ کے آنے سے خوش ہوں۔

امام موسی کاظمؑ فرماتے ہیں کہ،

مرد کے اہل و عیال اس کے پاس اسیر کی مانند ہوتے ہیں، پس خدا نے اس کو جو نعمت عطا کی ہے اسے چاہئے کہ فراخدلی سے اپنے اسیروں پر خرچ کرے، ورنہ ممکن ہے خدا اس سے نعمتیں چهین لے۔

عبدﷲ بن ابان کہتے ہیں میں نے امام موسی کاظمؑ سے خاندان پر بخشش کے متعلق سوال کیا۔ فرمایا اسراف اور کم خرچ کرنا دونوں مکروہ ہیں۔ میانہ روی سے کام لینا چاہئے۔

ہاتھ بٹانا:

امیرالمومنین امام علیؑ فرماتے ہیں، ایک دن پیغمبر اکرمؐ ہمارے گهر تشریف لائے تو اس وقت ان کی دختر فرزانہ حضرت فاطمہ زہراؑ چولہے پر کهانا پکا رہی تهیں اور میں دال صاف کر رہا تها۔ پیغمبر گرامی اکرمؐ نے فرمایا، علی جان میری طرف توجہ کیجئے کہ میں آپکو ایک بات بتاؤں کہ:

جو آدمی اپنے گهر کے امور میں اپنی زوجہ کا ہاتھ پیار و محبت سے بٹائے تو اس کے نامہ اعمال میں اس کے جسم کے بالوں کے برابر ایک سال کی عبادات لکهی جاتی ہے کہ اس کے تمام دن روزہ دار کی حیثیت سے ہوں اور اس کی راتیں عبادت خداوندی میں مصروف ہوں۔

حضرت عائشہ کہتی ہیں جب رسول خدا ؐ کو فرصت ہوتی تهی تو اپنا لباس خود سیتے تهے، اپنے جوتوں کی مرمت کرتے تهے اور دوسرے عام مردوں کی طرح گهر میں کام کرتے تهے۔

امر بالمعروف و نہی عن المنکر:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (تحریم 6)
ترجمہ: اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا ﻻتے ہیں

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں کہ جس وقت مذکورہ آیت نازل ہوئی اس کو سن کر ایک مسلمان رونے لگا۔ اور بولا میں خود اپنے نفس کو آگ سے محفوظ رکهنے سے عاجز ہوں چہ جائیکہ اس پر مجهے یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ اپنے خاندان والوں کو بهی دوزخ کی آگ سے بچاؤں۔ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا: اسی قدر کافی ہے کہ جن کاموں کو تم انجام دیتے ہو انہی کو کرنے کو ان سے کہو اور خود جن کاموں کو تمہیں چاہئے ترک کرو ان سے انہیں روکتے رہے۔

پیغمبر اکرمؐ کا ارشاد گرامی ہے،

عورتوں کو اچهے کام کرنے پر آمادہ کرو قبل اس کہ وہ تمہیں برے کام کرنے پر مجبور کریں۔

پیغمبر اکرمؐ کا ارشاد گرامی ہے،

جو شخص اپنی بیوی کی اطاعت کرے خدا اس کو آگ میں ڈال دے گا۔ لوگوں نے پوچها یا رسولﷲؐ یہ کس قسم کی اطاعت کے بارے میں ہے۔ فرمایا: بیوی اگر چاہے کہ عوامی حماموں، شادی بیاہ کی محفلوں، عید اور سوگواری کی مجلسوں میں باریک اور زرق برق لباس پہن کر جائے اور شوہر اس کو اجازت دے دے۔

پیغمبر اکرمؐ کا ارشاد گرامی ہے،

ہر مرد کہ جس کی بیوی آرائش کر کے گهر سے باہر جائے بے غیرت ہے جو اسے بےغیرت کہے وہ گناہگار نہیں ہے۔ اور جو عورت سج دهج کر اور خوشبو لگا کر گهر سے باہر جائے اور اس کا شوہر اس بات پر راضی ہو تو خدا اس کے ہر قدم پر اس کے شوہر کے لئے دوزخ میں ایک گهر تعمیر کرے گا۔

عفو و درگزر:

رسول ﷲؐ نے فرمایا،

جو مرد اپنی بد اخلاق بیوی کے ساتھ نبهاتا ہے خدا وند عالم اس کے ہر صبر کے عوض حضرت ایوبؑ کے ثواب کے برابر کا ثواب عطا کرتا ہے۔

امیرالمومنین امام علیؑ نے فرمایا،

ہر حال میں عورتوں سے نباہ کرو، ان سے خوش بیانی کے ساتھ بات کرو۔ شائد کہ اس طریقہ کار سے ان کے اعمال نیک ہو جائیں۔

سید السجاد امام زین العابدینؑ فرماتے ہیں،

تم پر عورت کا یہ حق ہے کہ اس کے ساتھ مہربانی سے پیش آؤ۔ کیونکہ وہ تمہاری دست نگر ہے۔ اس کے کهانے، کپڑے کا انتظام کرو اور اس کی جہالت نادانیوں کو معاف کردو۔

لوگوں نے امام جعفر صادقؑ سے سوال کیا کہ بیوی کا اپنے شوہر پر کیا حق ہے کہ اگر سے انجام دے تو اس کا شمار نیک بندوں میں ہو گا؟ فرمایا: اس کے لباس و غذا کا انتظام کرے اور جن کاموں کو اپنی نادانی کے سبب انجام دیتی ہے انہیں معاف کر دے۔ آپؑ نے یہ بهی فرمایا: جو شخص اپنے زیردستوں کو معمولی خطاؤں پر تنبیہ کرے اسے اپنی بزرگی اور عزت قائم رہنے کی توقع نہیں کرنی چاہئے۔

جهوٹی تہمت اور مار پیٹ سے گریز:

رسولﷲؐ نے عورتوں کو مارنے کی ممانعت فرمائی ہے سوائے ایسی صورت میں کہ جب تنبیہ واجب ہو۔ پیغمبر گرامی اکرمؐ کا ارشاد مبارک ہے،

جو مرد اپنی بیوی کو مارتا ہے اور تین سے زیادہ بار ضرب لگاتا ہے خدا اس کو قیامت میں مخلوق کے سامنے رسوا کرے گا اور پہلی اور بعد کی تمام مخلوقات ایسے مرد کا تماشہ دیکهیں گی۔
نیز فرمایا: میں ایسے مرد پر حیرت کرتا ہوں جو اپنی بیوی کو مارتا ہے حالانکہ اپنی بیوی سے زیادہ وہ خود مار کهانے کے لائق ہے۔ اے لوگوں اپنی بیویوں کو لکڑی سے نہ مارو کیوں کہ اس کا قصاص ہے۔
فرمایا، جو مرد اپنی بیوی کے منہ پر تهپڑ مارے گا خدا وند عالم دوزخ کے مالک فرشتہ کو حکم دے گا کہ دوزخ میں اس کے منہ پر ستر تهپڑ مارے۔ جو مرد کسی مسلمان عورت کے بالوں کو ہاتھ لگائے گا (اذیت دے گا) دوزخ میں اس کے ہاتھوں میں آتشیں کیلیں ٹهونکی جائیں گی۔

پیغمبر گرامی اکرمؐ کا ارشاد مبارک ہے،

جو شخص اپنی بیوی پر بلاسبب زنا کی تہمت لگائے، اسکی ساری نیکیوں کا ثواب اس سے اس طرح الگ ہو جاتا ہے جس طرح سانپ اپنی کینچلی سے باہر نکل آتا ہے اور اس کے بدن کے ہر بال کے برابر ہزار گناہ اس کے نامہ اعمال میں لکهے جاتے ہیں۔

تنبیہ:

الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ وَاللاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلاً إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيّاً كَبِيراً (نساء 34)
مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور یہ کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کئے ہیں، پس نیک فرمانبردار عورتین خاوند کی عدم موجودگی میں بہ حفاﻇت الٰہی نگہداشت رکھنے والیاں ہیں اور جن عورتوں کی سرکشی کا تمہیں خوف ہو انہیں نصیحت کرو اور انہیں الگ بستروں پر چھوڑ دو اور انہیں مار کی سزا دو پھر اگر وه تابعداری کریں تو ان پر کوئی راستہ تلاش نہ کرو، بے شک اللہ تعالیٰ بڑی بلندی اور بڑائی واﻻ ہے

مذکورہ بالا آیت میں خاوند کو بیوی پر تنبیہ کا حق دیا گیا ہے جو درج ذیل تین مرحلوں پر مشتمل ہے۔

  • پند و نصیحت سے
  • نصیحت سے کام نہ چلے تو اپنا بستر جدا کر لینا یا مثلاً بستر میں بیوی کی طرف پشت کر کے سونا اور اس طرح سے اپنی ناراضی کا اظہار کرنا
  • لیکن اگر بیوی پهر بهی باز نہ آئے تو شوہر کو حق ہے کہ اسے مار کے ذریعے سمجهائے، لیکن محدود طریقے

سے۔ اس سلسلے میں درج ذیل نقاط کو سامنے کررکهنا ضروری ہے۔

  1. ضرب لگانے کا مقصد اصلاح ہونہ کہ انتقام
  2. اس طرح نہ مارے کہ اس کا بدن سرخ یا سیاہ ہو جائے ورنہ قصاص دینا پڑے گا
  3. جسم کے نازک حصوں پر ضرب لگانے سے قطعی طور پر اجتناب کرے
  4. اس طرح مار پیٹ نہ کی جائے جو میاں بیوی میں کدورت کا باعث بن جائے یا بیوی کی زیادہ ضد اور ہٹ دهرمی کا باعث ہو۔
  5. ہمیشہ اس بات کو پیش نظررکهنا چاہئے کہ وہ خاتون اس کی بیوی ہے اور اسے زندگی اس کے ساتھ ہی بسر کرنا ہے اور مسائل کا اصل حل خلوص اور پیا رسے ہی ممکن ہے
البتہ درج بالا امور اس وقت قابل اطلاق ہوں گے جب خاتون کسی امر سے معذور نہ ہو مثلاً حالت حیض، رمضان کے روزے، حالت احرام یا بیمار ہونے کی صورت میں اگر خاوند کی ضروریات پوری نہ کرے تو ظاہراً اس پر کوئی باق نہیں ہے۔

پردہ پوشی اور رازداری:

ارشاد باری تعالی ہے:

هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ (بقره – 187)
ترجمہ: وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔

لباس انسان کے عیوب کو چهپاتا ہے اور میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب ہونے کی وجہ سے ایک دوسری کی عیوب سے بهی قطعی طور پر آشنا ہوتے ہیں۔ پس ذمہ دار ٹهہرائے گے ہیں کہ ایک دوسرے کی پردہ پوشی کریں۔

زوجہ کی ذمہ داریوں سے متعلق آرٹیکل اس لنک پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ تحاریر