پہلے خلیفہ افضل یا چوتھے ؟

آفتاب حیدر نقوی 11/07/2015 346

انتہائی عجیب اور غیر منطقی طرز تفکر ہے اگر کہا جائے کہ کسی شخص کی فضیلت کا معیار اس کے پہلے یا بعد میں آنے سے ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کہا جائے کہ حضرت آدمؑ چونکہ پہلے انسان تھے لہذا تمام کائنات سے افضل ہیں ؟بلکہ اصلاً خلیفہ ہونا فضیلت کا معیار کیسے ٹھہرا؟ عین ممکن ہے کہ کوئی شخص خلیفہ نہ ہو لیکن فضائل کے اعتبار سے خلیفہ سے بڑھ کے ہو، مثلاً حضرت ابو ذر غفاری ؓ اور حضرت سلمان فارسیؓ۔ ان کے بارے میں رسول اکرمؐ کی طرف سے جو فضائل ذکر ہوئے ہیں وہ بہت کم صحابہ کرامؓ کے بارے میں ذکر ہوئے ہیں۔

آج کل انجمن سپاہ صحابہ کے پروپیگنڈا کے زیر اثر کچھ لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ نبی اکرمؐ کے صحابہ کرام میں خلفائے راشدین سب سے افضل ہیں اور وہ اپنی ترتیب کے لحاظ سے افضل ہیں۔ یعنی سب سے زیادہ فضیلت حضرت ابوبکر کو حاصل ہے اور سب سے کم حضرت علی کو۔ آئیں ذرا اس مسئلے کو صحیح طور سے جاننے کی کوشش کریں۔

1. اہلسنت برادران کی کتب میں ایک حدیث ملتی ہے جس کے مطابق رسول اکرمؐ کے بعد خلافت راشدہ کی مدت 30 برس بیان کی گئی ہے۔ اس کا ایک سیدھا سادہ مطلب یہ ہوا کہ آپؐ نے امیر معاویہ کی خلافت کو راشدہ نہیں جانا اور دوسرے یہ کہ جب تک امام حسنؑ کی خلافت کے 6 ماہ شمار نہ کیا جائے 30 برس پورے نہیں ہوتے۔ اب نہیں معلوم خلافت راشدہ 4 میں کیسے منحصر ہو گئی اور پانچویں (امام حسنؑ) کو کیوں بھلا دیا گیا۔ یہ بغض علی تھا یا حب معاویہ ؟

2. اہلسنت برادران کے یہاں ایک اور حدیث بھی ملتی ہے جس کے مطابق اگر رسول اکرمؐ کے بعد کوئی نبی ہو سکتا تھا تو وہ حضرت عمر تھے۔ تو اس کا بھی سیدھا اور سادہ مطلب یہ ہوا کہ بعد از پیغمبرؐ حضرت عمر ہی تمام صحابہ کرام میں افضل تھے۔ تو پھر پہلے خلیفہ حضرت ابو بکر کیسے تمام صحابہ سے افضل ہو گئے؟

3. اگر حضرات طلحہ و زبیر خلیفہ ہو جاتے اور حضرت عمر اور حضرت ابوبکر خلیفہ نہ بن پاتے تو کیا ہماری فضیلت کی ترتیب یہی ہوتی؟ یا پھر ہم صرف انہیں کے گن گاتے جو خلیفہ ہوتے اور باقیوں کو بھلا دیتے۔ البتہ یہ زمانے کا دستور رہا ہے کہ جس کے ہاتھ حکومت رہی ہے سب اسی کی تعریفیں کرتے رہے ہیں۔

4. اگر خلفاء راشدین کی ترتیب بدل جاتی تو کیا فضیلت میں ان کے درجات بھی تبدیل ہو جاتے؟ مثلاً اگر حضرت عثمان پہلے خلیفہ ہو جاتے اور حضرت عمر چوتھے تو کیا ہم بھی اپنی فضیلت کی ترتیب اسی لحاظ سے ایذجسٹ کر لیتے؟

منطقی طرز تفکر یہ ہے کہ کسی شخص کی فضیلت کا معیار اس کا ایمان اور کردار ہے۔ اسکی معرفت اور تقوی ہے۔ حکومت کا ہاتھ میں آنا یا نہ آنا اس سے کسی شخص کی حیثیت لوگوں کے نزدیک تو بڑی ہو جاتی ہے لیکن خدا کے نزدیک وہ تبھی بڑا ہوتا ہے جب بندگی میں بڑا ہو۔

میں ﷲ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ حضرت علیؑ تمام صحابہ کرام میں افضل تھے اور اس کی وجہ ان کا خلیفہ ہونا نہیں۔ وہ خلیفہ ہیں تو بھی افضل ہیں اور اگر خلیفہ نہ ہوتے تب بھی (بعد از رسولؐ) تمام کائنات سے افضل تھے۔ اور اس بات کے لئے نبی اکرمؐ کا صرف یہی ایک فرمان ہی کافی ہے کہ "جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کے یہ علیؑ مولا ہیں"

اور خدا کا دستور یہ ہے کہ افضل چیز کو آخر میں رکھتا ہے۔ جیسے افضل ترین پیغمبر آخری پیغمبر ہیں اور افضل ترین کتاب آخری کتاب (قرآن مجید) ہے۔ تو پھر اس قانون کے تحت آخری خلیفہ کو افضل ہونا چاہئے۔

متعلقہ تحاریر