اسلامی جمہوریہ سعودی عرب

آفتاب حیدر نقوی 17/04/2015 191

پچھلے دنوں کسی سعودی نمک حلال کا کالم دنیا اخبار میں پڑھا جس میں انہوں نے سعودی بادشاہت کو اسلامی نظام کی اعلی ترین شکل قرار دیا، کہ اس نظام کو بچانا امت مسلمہ کی سب سے پہلی ترجیح ہونی چاہئے۔ نظام کو اسلامی ثابت کرنے کے لئے انہوں نے اس مخفی حقیقت سے پردہ اٹھایا کہ سعودی بادشاہت ایک اسلامی شوری کے زیر نگرانی کام کر رہی ہے جو اگر چاہے تو بادشاہ کا مواخذہ (معزول) تک کر سکتی ہے۔ اسکی تائید میں انہوں نے سابقہ بادشاہ سعود بن عبدالعزیز (1953-64ء) کی معزولی کی مثال دی۔

کیس دلچسپ تھا تو ہمیں بھی تحقیق کی سوجھی۔ کالم لکھنے والا شائد ابھی پچھلی صدی میں جی رہا تھا کہ جب انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع نہیں تھے اور لکھنے والا جو لکھنا چاہتا لکھتا کہ عوام کے پاس اس کی بات کی تصدیق یا تردید کے لئے متبادل ذرائع نہیں تھے۔ خیر جب گوگل جی سے سعود بن عبدالعزیز کا پوچھا تو انہوں نے جھٹ وکی پیڈیا کے علمی جنگل میں لا کھڑا کیا۔ جنگل اس لئے کہ وکی پیڈیا بھی مغرب کے باقی ہتھیاروں میں سے ایک ہتھیار ہے البتہ جہاں ان کے مخصوص مفادات نہ ہوں وہاں سچی باتیں بتا بھی دیتا ہے۔ اور عمومی سائنسی اور سنی معلومات وہاں سے درست ملتی ہیں لیکن سیاسی، سماجی اور دیگر متعلقہ امور پر وہ اپنی پالیسی کے مطابق لکھتے ہیں۔

پتہ چلا کہ بادشاہ سعود اور پرنس فیصل کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی تھی اور سعود کی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے فیصل کو اسے بےدخل کرنے کا اچھا موقع ہاتھ تھا۔ بالاخر سعود کی ملک میں غیر موجودگی کے دوران فیصل نے اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اپنی کابینہ کا اعلان کر دیا۔ 1962 سے 1964 کا 2 سال کا عرصہ دونوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی کا تھا جس کے بعد سعود کو ملک سے باہر سیاسی پناہ لینا پڑی۔ اس 2 سال کے عرصہ میں جہاں شاہی خاندان کے  بڑوں نے ثالثی کی کوششیں کیں وہاں سعودی علماء نے بھی معاملات کو حل کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کیا۔ لیکن اگر یہ کہا جائے کہ علماء نے سعود کو معزول کر دیا تو یہ سراسر غلط بیانی اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہو گا۔

اگر علماء نے سعود کو معزول کیا ہوتا تو سعود کو بیرون ملک سیاسی پناہ کی ضرورت کیوں پیش آتی۔ مزید یہ کہ آنے والے کئی سالوں تک وہ مصر میں ہر کے سعودی حکمران کے خلاف پروپیگنڈا ریڈیو کیوں چلاتا۔ 115 بچوں میں سے اس کے بیٹے شہزادہ بدر، سلطان، خالد اور شہزادہ مسرور اس کے ساتھ دوبارہ حکومت کے حصول کے لئے کوشش کرتے رہے لیکن 1967 کے عرب اسرائیل جنگ کے بعد سابق بادشاہ سعود کو مصر کے حمایت نہ رہی اور اسے یونان منتقل ہونا پڑا کہ جہاں وہ اپنی موت 1969 تک رہا۔

بادشاہتوں میں اقتدار کی یہ رسہ کشی ہزاروں سالوں سے چلی آ رہی ہے اب پتہ نہیں ہمارے سادہ لوح مسلمان اس میں زبردستی اسلام کو کیوں گھسیڑنے پر تلے ہوئے ہیں۔

متعلقہ تحاریر