ماجرائے فدک

فاطمہ زہرا من المھد الی الحد 29/01/2019 301

فدک مدینہ سے 2 دنوں کی مسافت پر موجود ایک گاؤں تھا جس کا قصہ یہ ہے کہ جب پیغمبر گرامی اکرمؐ خیبر کے علاقہ پر وارد ہوئے تو آپ کو ابتداء میں یہودیوں کے 3 قلعوں کے علاوہ باقی تمام قلعوں پر فتح حاصل ہو گئی, جن کا محاصرہ آپؐ نے تنگ کر دیا۔ انہوں نے آپؐ کی طرف اپنا آدمی بھیجا کہ انہیں ترک وطن کے عوض جان کی امان دے دی جائے۔ پیغمبرؐ نےان کی درخواست قبول کر لی۔ لیکن پھر انہوں نے آپؐ کی طرف دوسرا پیغام بھیجا کہ ہم آپؐ کی خدمت میں اپنے تمام باغات اور اموال کا نصف پیش کرتے ہیں, آپ ہمارے ساتھ صلح کر لیں۔ آپؐ نے انسان دوستی کی بنیاد پر ان لوگوں سے صلح کرلی۔ پس فدک یہی زمین اور علاقہ تھا جو رسول اکرمؐ کو بغیر جنگ کے حاصل ہوا تھا اور قرآن کریم کی رو سے یہ ان کی ذاتی ملکیت تھا۔ جیسا کہ ارشاد ہوا,

وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ - مَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ ۚ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ -(حشر: 6, 7)
ترجمہ: اور ان کا جو مال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ہاتھ لگایا ہے جس پر نہ تو تم نے اپنے گھوڑے دوڑائے ہیں اور نہ اونٹ بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو جس پر چاہے غالب کر دیتا ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ بستیوں والوں کا جو (مال) اللہ تعالیٰ تمہارے لڑے بھڑے بغیر اپنے رسول کے ہاتھ لگائے وه اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت والوں کا اور یتیموں مسکینوں کا اور مسافروں کا ہے تاکہ تمہارے دولت مندوں کے ہاتھ میں ہی یہ مال گردش کرتا نہ ره جائے اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ سخت عذاب واﻻ ہے۔

فدک کی زمینوں اور باغات کا محصول 24 ہزار سے 70 ہزار دینار سالانہ تک بیان کیا گیا ہے۔ ابن ابی الحدید نے اپنے زمانے کی بات کرتے ہوئے لکھا ہے کہ فدک کے کھجور کے باغات کوفہ کے کھجور کے باغات کے برابر تھے۔ ابو سعید خدری اور دوسرے راویوں نے بیان کیا ہے کہ جب یہ آیت:

فَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ ذَلِكَ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ۔ (الروم ۔ 38)
ترجمہ: پس قرابت دار کو مسکین کو مسافر کو ہر ایک کو اس کا حق دیجئے، یہ ان کے لئے بہتر ہے جو اللہ تعالیٰ کا منہ دیکھنا چاہتے ہوں، ایسے ہی لوگ نجات پانے والے ہیں

نازل ہوئی تو آپؐ نے فدک حضرت فاطمہ زہراؑ کے حوالے کر دیا۔ رسول اکرمؐ کی رحلت کے دسویں روز حکومت نے جاگیر فدک کی طرف اپنا آدمی بھیجا اور رسولﷲؐ کی دختر فاطمہ زہراؑ کے وکیل کو بے دخل کر دیا اور فدک پر قبضہ کر لیا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس کو تمام شیعہ اور سنی منابع نے نقل کیا ہے کہ بعد رسولؐ حضرت زہراؑ اپنا حق لینے دربار ابوبکر میں گئی تهیں, لیکن خالی واپس لوٹا دی گئیں۔ جناب زہراؑ کے دعوے کو رد کرنے کا صاف اور واضح مطلب یہی بنتا ہے کہ معاذﷲ حضرت زہراؑ جھوٹا دعوی لے کے خلیفہ کے پاس گئی تھیں۔

بعض روایات میں آیا ہے کہ حضرت ابوبکر نے حضرت فاطمہؐ کے دعوی کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے لئے فدک کى واپسى کا پروانہ لکھ دیا تھا کہ اسى اثناء میں عمر آگئے اور کہا: اگرآپ یہ کام کریں گے تو پھر دشمنوں کے ساتھ جنگى اخراجات کہاں سے پورے کریں گے؟ جبکہ عربوں نے آپ کے خلاف قیام کیا ہوا ہے۔ اور تحریر لے کر اسے پارہ پارہ کردیا۔

اس واقعہ کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ, 

دختر پیغمبر, سیدہ کائنات حضرت فاطمہ زہراؑ مسجد نبوی میں تشریف لائیں اور خلیفہ سے فدک, میراث و خمس کا مطالبہ کچھ اس انداز سے کیا کہ, "تم نے میرے باپ رسولﷲؐ کی وراثت مجھ سے کیوں چھین لی ہے اور تم نے فدک سے میرا وکیل بے دخل کیا ہے, حالانکہ ﷲ کے رسولؐ نے ﷲ کے حکم سے اسے میری ملکیت میں دیا تھا"۔ خلیفہ نے کہا, اے دختر پیغمبر اپنے دعوی کے لئے گواہ پیش کیجئے۔ حضرت فاطمہ زہراؑ نے آیات قرآن پیش کیں اور فرمایا کہ آپ نے جابر بن عبدﷲ انصاری اور جریر بن عبدﷲ بجلی کو تو نہیں جھٹلایا (یہ دونوں صحابی حضرت زہراؑ سے پہلے یہ دعوی لے کے آئے تھے کہ رسولﷲؐ نے ان سے مال کا وعدہ کیا تھا), انہیں صادق تسلیم کیا اور ان سے گواہ طلب نہیں کئے۔ حالانکہ میں نے ﷲ کی کتاب میں سے دلائل دئیے ہیں, آپ انہیں قبول نہیں کرتے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

پس حضرت زہراؑ نے بطور گواہ امام علیؑ, حضرات حسنین, ام ایمن اور اسماء بنت عمیس کو پیش کیا جنہوں نے گواہی دی کہ فدک جناب زہراؑ کو ان کے والد حضرت رسولﷲؐ کی طرف سے تحفتاً ملا تھا اور ان کی ملکیت ہے۔ ان دنوں اسماء بنت عمیس حضرت ابو بکر کے نکاح میں تھیں۔ 

اہلبیت رسولﷲؑ کے سیاسی حریفوں نے کہا کہ جہاں تک امام علیؑ ہیں, وہ تو حضرت فاطمہؑ کے شوہر ہیں۔ حسنین شریفینؑ تو ان کے بیٹے ہیں اور ام ایمن ان کے گھر کی کنیز ہیں۔ جہاں تک اسماء بنت عمیس کی بات ہے تو وہ حضرت جعفر بن ابیطالبؑ کی زوجہ رہ چکی ہیں۔ اس نے ہر صورت بنو ہاشم کے حق میں گواہی دینی ہے۔ علاوہ ازین یہ دونوں خواتین حضرت فاطمہؑ کی عقیدت مند اور شاگردہ ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اپنے نفع کی تلاش میں ہے۔

یہ کون گواہ تھے جنہیں جھٹلایا گیا یا ان کی گواہی قبول نہیں کی گئی۔ گویا حضرت علیؑ, امام حسنؑ, امام حسینؑ جیسی شخصیات کے بارے میں طے کیا گیا کہ ہو سکتا ہے ذاتی مفاد کی خاطر جھوٹ بول رہے ہوں۔  واضح رہے کہ یہ وہی ہستیاں ہیں جنہیں حضرت رسول خداؐ اپنے ساتھ میدان مباہلہ میں لے کر گئے تھے کہ خدا کے حکم کی پیروی میں جھوٹوں پر لعنت کریں۔ فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ (آل عمران – 61)

حضرت امام علیؑ نے اپنے حریفوں کے جواب میں فرمایا کہ,حضرت فاطمہ الزہراؑ رسولﷲؐ کے مبارک جسم کا حصہ ہیں, جس نے انہیں اذیت دی اس نے رسولﷲؐ کو اذیت دی۔ اور جس نے ان کی تکذیب کی اس نے رسولﷲؐ کی تکذیب کی۔ حسنین شریفینؑ دونوں رسولﷲؐ کے فرزند ہیں اور جوانان جنت کے سردار ہیں۔ جس نے ان دونوں کو جھٹلایا اس نے رسولﷲؐ کو جھٹلایا۔ جب اہل جنت سب سچے ہیں تو ان کے سردار کیسے سچے نہ ہوں گے؟ اور جہاں تک میری بات ہے تو رسولﷲؐ نے میرے بارے میں فرمایا تھا: "اے علیؑ! آپ مجھ سے ہیں اور میں آپؑ سے ہوں, اور آپ میرے دین و دنیا کے بھائی ہیں۔ جس نے آپؑ کو قبول نہ کیا اس نے مجھے قبول نہ کیا, اور جس نے آپ کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی, اور جس نے آپ کی معصیت کی اس نے میری معصیت کی"۔ رسولﷲؐ نے حضرت ام ایمنؓ کے بارے میں فرمایا تھا کہ وہ اہل جنت میں سے ہیں۔ رسولﷲؐ نے اسماء بنت عمیس اور ان کی اولاد کے حق میں دعائے خیر کی تھی۔

حکومت کی طرف سے وہی جواب تھا, کہ آپؑ نے جو کچھ اپنے بارے میں کہا, ٹھیک ہے۔ لیکن ان لوگوں کی گواہی جو اپنے فائدے کے لئے دے رہے ہیں, درست نہیں۔

امام علیؑ نے فرمایا: جب تم لوگ ہماری منزلت و مقام کو جانتے ہو, اور ہمارے فضائل سے بھی انکار نہیں کرتے ہو۔ اور ہماری گواہی کو قبول نہیں کرتے ہو تو میں کہوں گا, اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ جب ہم لوگوں نے اپنی ملکیت کا دعوی کیا تو تم لوگوں نے ہم سے گواہ طلب کئے۔ کون ہے جو ہماری مدد و نصرت کرے۔ تم لوگوں نے ﷲ اور اس کے رسولؐ کی حکومت پر ہجوم کیا, اور اس حکومت کو رسولﷲؐ کے خانہ اقدس سے نکال کر اس کے غیر کے گھر میں لے گئے, اور اس امر پر نہ تو تم نے گواہ طلب کئے اور نہ کوئی دلیل طلب کی۔

اسی پس منظر میں امیرالمومنین امام علیؑ کا ایک مناظرہ جو انہوں نے خلیفہ سے کیا پیش کیا جاتا ہے۔

امام علیؑ: کیا آپ ہم اہل بیت رسولﷲؐ کے بارے میں ﷲ تعالی کے حکم اور معاشرتی مقررات کے خلاف اپنا حکم نافذ کریں گے؟

حضرت ابوبکر: نہیں, ایسی بات نہیں ہے۔

امام علیؑ: اگر کسی مسلمان کے پاس کوئی چیز ہو اور میں دعوی کروں کہ وہ چیز میری ہے, کیا آپ مجھ سے گواہ طلب کریں گے؟

حضرت ابوبکر: جی ہاں گواہ طلب کروں گا۔

امام علیؑ: اس میں حضرت فاطمہ زہراؑ کا کیا جرم ہے کہ جو چیز ان کی ملکیت تھی تم نے اس پر گواہ طلب کئے؟ وہ رسولﷲؐ کی زندگی میں فدک کی مالکہ تھیں اور آج تک فدک انکی ملکیت رہا ہے۔ اب تم نے اس پر قبضہ کر لیا ہے۔ اب تم ان سے تو ان کی ملکیت پر گواہ طلب کرتے ہو, اور باقی لوگوں سے ان کی ملکیت پر گواہ طلب نہیں کرتے؟

حضرت ابوبکر: پہلے تو کچھ دیر خاموش رہے, پھر کہا, اے علیؑ, اپنی منطقی گفتگو سے ہمیں دور رکھئے۔ آپ کے دلائل و براھین کا ہمارے پاس جواب نہیں ہے۔ اگر آپؑ کے پاس عادل گواہ ہیں تو پیش کیجئے, بصورت دیگر یہ فدک مسلمانوں کی ملکیت ہے۔ نہ اس میں آپؑ کا حق ہے اور نہ فاطمہؑ کا۔

امام علیؑ: کیا تم نے ﷲ کی کتاب پڑهی ہے؟

حضرت ابوبکر: جی ہاں! پڑهی ہے۔

امام علیؑ: ﷲ کا یہ فرمان "إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا" یہ آیہ تطہیر کس کی شان میں نازل ہوئی؟ ہمارے شان میں یا کسی اور کی شان میں؟

حضرت ابوبکر: آپ کی شان میں نازل ہوئی۔

امام علیؑ: اگر فاطمه بنت رسولؐ کی عصمت و پاکیزگی کے خلاف کسی کام پر گواہ قائم ہو جائیں تو تم کیا کرو گے؟

حضرت ابوبکر: میں اس پر اس طرح حد قائم کروں گا جس طرح باقی مسلمان عورتوں پر حد قائم کرتا ہوں۔

امام علیؑ: اس صورت میں تم ﷲ کے نزدیک دین اسلام سے خارج ہو جاؤ گے۔

حضرت ابوبکر: وہ کس طرح؟

امام علیؑ: کیوں کہ تم نے ان کی الہی طہارت و پاکیزگی کی شہادت کو رد کر دیا، اور اس پر لوگوں کی شہادت کو قبول کر لیا۔

اس موقع پر حاضرین حیران و سرگردان ہو کر رہ گئے, اور ایک دوسرے کی سرزنش کرنے لگے, اور کہنے لگے: خدا کی قسم, امیرالمومنین امام علیؑ نے سچ فرمایا۔

حضرت زہراؑ چونکہ اپنے والد رسولﷲؐ کی اکلوتی اولاد تھیں اور اس لحاظ سے بھی فدک آپ کی ملکیت بنتا تھا, پس آپ نے اس جہت سے اپنے مؤقف کو عوام الناس کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا۔ حضرت زہراؑ نے فیصلہ کیا کہ وہ مسجد جائیں گی۔ آپ نے صحابہ کرام سے کھچا کھچ بھری مسجد میں جہاں آپ کے لئے پردے کا انتظام کیا گیا تھا, اپنا تاریخ ساز ملکوتی خطبہ ارشاد فرمایا اور وہاں موجود خلیفہ کے غیر شرعی اقدامات کو برملا آشکار کر دیا۔ جس کے جواب میں خلیفہ کو قرآن سے متصادم ایک روایت کا سہارالے کر اپنے اقدامات کی صفائی پیش کرنا پڑی۔ یہ ایک طولانی خطبہ ہے جس کے دوران آپ نے کچھ اس انداز سے استدلال کیا کہ, "اے ابو بکر کیا یہ چیز قرآن میں ہے کہ تمھارى بیٹى تمہارى وراث بنے لیکن میں اپنے باپ کى میراث نہ لوں؟"

اس کے جواب میں ابو بکر نے کہا کہ میں نے رسول اللہؐ سے سنا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ''ہم (انبیاء) میراث میں کوئی چیز نہیں چھوڑتے،جو کچھ ہم سے رہ جائے وہ صدقہ ہوتا ہے۔" 

یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر رسولﷲؐ نےمیراث میں کچھ نہیں چھوڑا تھا تو رسولﷲؐ کے حجرات ان کی ازواج محرمات کے قبضہ میں کیوں رہ گئے تھے؟ حکومت نے ان حجرات پر قبضہ کیوں نہیں فرمایا, اور امہات کو میراث سے کیوں بے دخل نہیں کیا گیا تھا؟ حالانکہ ﷲ تعالی کے فرمان کے مطابق یہ گھر رسولﷲؐ کی ملکیت تھے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَن يُؤْذَنَ لَكُمْ (احزاب ۔ 53)
اے ایمان والو! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے, تم نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو 

روایت میں موجود ہے کہ حضرت عائشہ حضرت عثمان کے دربار میں آئیں اور فرمایا: وہ مال جو مجھے میرے والد اور حضرت عمر دیتے تھےعطا کیجئے۔

حضرت عثمان نے جواب دیا: آپ کے اس دعوی کی میرے پاس قرآن مجید اور سنت رسولؐ میں کوئی  دلیل نہیں۔ شائد آپ کے والد اور حضرت عمر اپنے اموال میں سے آپ کی طرف کچھ بھیجتے ہوں گے لیکن میں ایسا نہیں کر سکتا۔

حضرت عائشہ نے کہا: جو میراث مجھے پیغمبر خداؐ کی طرف سے ملی تھی وہ مجھے دے دیجئے۔ 

حضرت عثمان نے کہا: کیا آپ بھول گئی ہیں, کہ آپ نے اور مالک بن اوس نضری نے گواہی دی تھی کہ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا تھا کہ ہم مال و متاع پر کسی کو اپنا وارث نہیں بناتے۔ آپ نے ہی حضرت فاطمہؑ کا حق باطل کیا تھا اور اب اسی حق کے لئے تشریف لائی ہیں۔

مذکورہ حدیث کا موضوع ہونا اس سے بھی ثابت ہے کہ حضرت عمر نے بھی اس سے استدلال نہیں کیا تھا۔ جنگى اخراجات کا تو سہارا لیا لیکن پیغمبر اکرمؐ سے منسوب یہ حدیث پیش نہیں کی۔ پھر کیا عجیب نہیں کہ خود رسولﷲؐ کی اپنی اولاد کہ جس نے وارث ہونا تھا, کو بھی اس حدیث کے بارے میں کچھ علم نہ تھا۔ مزید یہ کہ یہ حدیث قرآن سے متصادم ہے کہ جو مختلف انبیاء کی وراثت کو بیان کرتا ہے۔ اور یہ کہ ماضی میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ کسی نبی کی وفات کے بعد اس کے مال کو حکومت نے ہتھیا لیا ہو یا مسلمانوں میں تقسیم کر دیا گیا ہو اور ان کی اپنی اولاد کو محروم کر دیا گیا ہو۔

بعد ازیں امام علیؑ نے حضرت فاطمہ زہراؑ سے فرمایا کہ وہ اپنے گھر کی طرف لوٹ جائیں۔ خداوند تعالی ہی فیصلہ فرمائے گا اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ 

فدک سے متعلق ایک اہم سوال!

یہ وہ سوال ہے جو علامہ شرف الدین موسوی نے اپنے دورہ حجاز میں سعودی علماء کے سامنے رکھا اور وہ اس کا جواب دینے سے قاصر تھے۔ حدیث جس کو اہلسنت علماء نے صحیح اور حسن کہا ہے کہ "مَنْ ماتَ وَ لَمْ يَعْرِفْ إمامَ زَمانِهِ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّة" یا " مَنْ مَاتَ بِغَيْرِ إِمَامٍ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً " یعنی اگر کوئی اس حالت میں مرے کہ اس کا کوئی امام نہ ہو یا وہ اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانتا ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ اب سوال یہ تھا کہ نبی کی بیٹی کے زمانے کا امام کون تھا ؟ اگر کہو کہ ابو بکر تھا تو کیوں بی بی آخر وقت میں ابو بکر سے ناراض ہو کر اس دنیا سے گئیں ؟؟

اور اگر کہو کہ امام علی علیہ السلام زمانے کے امام تھے تو کس بنا پر ابوبکر خلیفہ بن گئے ؟؟

سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کی مناسبت سے تمام مسلمین و مومنین کی خدمت میں تسلیت عرض ہے۔

متعلقہ تحاریر