حضرت فاطمہ زہراؑ کے گهر پر حملہ ؟؟؟

آفتاب حیدر نقوی 01/03/2018 485

طاہرالقادری صاحب کی ایک ویڈیو دیکهی جس میں وه جناب زہراؑ کے گهر پر حملے کے واقعہ کو جهوٹا ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

قادری صاحب بیان کرتے ہیں کہ تمام شیعہ علماء نے اس واقعہ کو نقل کیا ہے اور درست تسلیم کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ پہلا شخص جس نے اس واقعہ کو نقل کیا وہ سلیم بن قیس ہلالی تهے (جو امیرالمومنین امام علیؑ کے شیعوں میں سے تهے اور 70ھ میں فوت ہوئے۔)

بقول قادری صاحب کے سلیم بیان کرتے ہیں کہ جب یہ واقعہ ہوا تو میں عبدﷲ ابن عباس کے گهر بیٹها ہوا تها کہ جہاں چند دیگر شیعان علی بهی ہمارے ساتھ موجود تهے اور ہمیں اطلاع ملی کہ یہ واقعہ ہو گیا ہے۔ قادری صاحب کہتے ہیں کہ یہ شخص تو اس وقت مدینہ میں موجود ہی نہیں تها۔ ایک جگہ قادری صاحب فرماتے ہیں کہ سلیم بن قیس وہ شخص ہے جس نے شیعہ عقیدے کے برخلاف تحریف قرآن کا ادعا کیا۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سلیم بن قیس ہلالی نے اپنی کتاب میں اس واقعہ کو جناب سلمان محمدیؓ (سلمان فارسیؓ) سے نقل کیا ہے اور یہ دعوی نہیں کیا کہ وہ اس وقت مدینہ میں موجود تهے۔ اور دوسری طرف سلیم نے کہیں بهی تحریف قرآن کی کوئی بات نہیں کی۔ سلیم نے اتنا ذکر کیا ہے کہ حضرت علیؑ نے اپنے جمع کئے ہوئے قرآن کو خلیفہ کے سامنے پیش کیا جو قبول نہیں کیا گیا اور جواب دیا گیا کہ جو ہمارے پاس قرآن ہے وہ کافی ہے۔ یہاں کہیں بهی سلیم نے یہ ذکر نہیں کیا کہ جو قرآن امام علیؑ نے جمع کیا تها وہ موجودہ قرآن سے مختلف تها۔ اور حتی سلیم نے اس جگہ امام علیؑ کے اس قول کو نقل کیا کہ پیغمبر نے مجهے قرآن کی تفسیر و تنزیل کی خبر دی تهی۔ اور امام علیؑ کی سورہ فاتحہ سے والناس تک کی دعوت کا ذکر اسی جگہ کیا گیا، جو ثابت کرتا ہے کہ جو قرآن امام علیؑ نے جمع کیا تها وہ یہی فاتحہ سے والناس والا قرآن تها البتہ ممکن ہے رسولؐ کی بتائی گئی تفسیر و تنزیل اس قرآن میں شامل ہو جو کہ اگر آج ہوتی تو ہم سب کے لئے باعث ہدایت ہوتی۔ اور اس عقیدہ سے ہٹ کے سلیم نے قرآن کے سلسلہ میں کوئی بات نہیں کی۔

قادری صاحب فرماتے ہیں کہ سلیم بن قیس ہلالی بڑے اور نامور شیعہ علماء کے نزدیک کاذب ہیں اور ان کی کتاب ان علماء کے نزدیک جهوٹ کا پلندہ ہے۔ بالفرض محال اگر یہ بات مان بهی لی جائے تو قادری صاحب اس بات پر توجہ کیوں نہیں دیتے کہ جن علماء کی نظر میں وہ سلیم بن قیس ہلالی کو جهوٹا ثابت کر رہے ہیں خود وہ تمام کے تمام علماء جناب زہراؑ اور ان کے گهر پر حملے کے واقعہ کو جهوٹا نہیں سمجهتے اور اسے حق جانتے ہیں۔

یہ پورا مقدمہ طاہرالقادی صاحب نے بنیاد سے ہی غلط قائم کیا۔ مزید تفصیل کے لئے کتاب سلیم بن قیس ہلالی کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ قادری صاحب کی اطلاع کے لئے چند اہل سنت مؤرخین کی کتب کے حوالہ جات پیش خدمت ہیں۔

  • تاریخ طبری، ج3، ص 98
  • شرح ابن ابی الحدید، ج1، ص 132
  • ابن حجر عسقلانی، کتاب لسان المیزان، ج 1، ص 268
  • الامامت والسیاست، ج1، ص 13
  • استاد عبدالفتاح الکاتب مصری، کتاب الامام علی بن ابی طالب ص 225
  • عقدالفرید، ج2، ص 255
  • تاریخ ابوالفداء ج1، ص 156
  • اعلام النساء ج3، ص207
  • علامہ الشہرستانی (شافعی) کتاب الملل والنحل، الباب الاول، الفرقة النظامیہ، ص 83
  • البلاذری، کتاب انساب الاشراف، ج1، ص 404
  • الصفدی الشافعی، کتاب الوافی بالوفیات، ج5، ص 347
  • حافظ الذهبی، کتاب میزان الاعتدال، ج 1، ص 139

ان تمام کتب جو اہلسنت کے ہاں معتبر مانی جاتی ہیں میں مذکورہ واقعہ درج ہے۔

تاریخ نے جناب زہراؑ کا مرثیہ نقل کیا ہے جس سے کسی بهی شیعہ/سنی مؤرخ نے انکار نہیں کیا۔ اس کا ایک شعر یوں ہے۔

صبت علي مصائبٌ لو أنها
صُبت على الأيام صرن لياليا

ترجمہ: (بابا جان آپ کے بعد) میرے پر وہ مصائب آ پڑے کہ اگر دنوں پر آتے تو راتوں میں بدل جاتے۔

ہم قادری صاحب سے پوچهنا چاہتے ہیں کہ وہ کونسے مصائب ہیں کہ جن کا ذکر حضرت زہراؑ نے اس کرب کے ساتھ کیا ہے۔ بعض سنی علماء اس کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ وہ مصیبت جناب رسول ﷲؐ کا بچهڑنا تها۔ لیکن یہاں جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے یعنی مصائب نہ کہ مصیبت۔ پس قادری صاحب اگر ان مصائب کی فہرست ہمیں فراہم کر دیں تو یہ امت پر ایک بڑا احسان ہو گا۔ قادری صاحب سینکڑوں کتابوں کے مصنف ہیں اور ہزاروں لاکهوں تقاریر کر چکے ہیں۔ کیا انہوں نے دختر رسولؐ کے ان مصائب کو اس قابل سمجها کہ کبهی کسی تقریر میں فقط 5 منٹ ہی اس پر صرف کر دیتے۔

محمد حافظ ابراہیم (شاعر نیل) 1872-1932 اپنے ایک قصیدے میں اس واقعہ کا حوالہ یوں دیتا ہے۔

و قولـة لعلـي قالـهـا عـمر
أكرم بسامعها أعظم بملقيـها 
حرقتُ دارك لا أبقي عليك بها
إن لم تبايع و بنت المصطفى فيها 
ما كان غير أبى حفص يفوه بها
أمام فارس عدنـان وحامـيها 

ترجمہ: "اس دن عمر نے جو بات امام علیؑ سے کی اس کے سننے والے کا اکرام کر اور اسکے کہنے والے کو بزرگ شمار کر۔ (وہ بات یہ تهی) اگر آپ نے اس کے امیر کی بیعت نہ کی تو اس کے گهر کو جلا دوں گا، اور گهر کے اندر جو کوئی ہے کسی کو نہیں چهوڑوں گا۔ اگر چہ پیغمبر کی بیٹی بهی اس گهر میں ہے۔ کیا ابو حفصہ کے علاوہ کسی میں یہ جراءت تهی کہ خاندان عدنان کے بہادر اور ان کے معاونین کے سامنے ایسی بات کرے"

حضرت عمر کی شان میں اس شاعر کا یہ قصیدہ اس لنک پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ تحاریر