صحابہ تو نبی اکرمؐ سے بھی افضل ہیں؟

آفتاب حیدر نقوی 02/10/2015 171

ہمارے بہت سے برادران اسلام نبی اکرمؐ کے بارے میں کچھ عجیب تصورات رکھتہے ہیں اور ان کے نظریات سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ جیسے آپؐ نبی تو تھے لیکن بہت سارے دینی اور دنیاوی معاملات میں بہت کمزور تھے اور خلفائے راشدین نے اس کمی کو پورا کیا۔ اسکی کچھ مثالیں درج ذیل ہیں۔

1. پہلے اور دوسرے خلیفہ نے اپنے مرنے سے پہلےآئندہ کے لئے خلافت کا بندوبست کیا (تیسرے خلیفہ کو موقع نہ ملا کیوں کہ اچانک قتل کر دئیے گئے) لیکن نبی اکرم اس طرف متوجہ نہ تھے اور انہوں نے اپنے بعد امت کو بغیر سرپرست کے چھوڑ دیا حالانکہ اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے تھے۔ قتل و غارت ہو سکتی تھی اور یا پھر کوئی نااہل شخص برسراقتدار آ سکتا تھا۔ اور اگر امت کو اس کے حال پر چھوڑنا ہی نبی اکرمؐ کی سنت تھی تو کیوں حضرت ابو بکر نے مرنے سے پہلے حضرت عمر کو امت پر حاکم قرار دیا اور کیوں حضرت عمر نے مرنے سے پہلے 6 رکنی شوری بنائی جس نے آئندہ کے لئے خلیفہ کا انتخاب کرنا تھا۔ کیا یہ سنت رسولؐ سے کھلم کھلا انحراف نہیں تھا کہ امت کو اس کے حال پر چھوڑ دیں۔

2. نبی اکرمؐ اس طرف متوجہ نہیں تے کہ مجھے قرآن کریم کی حفاظت کا بندوبست بھی کرنا ہے اور صرف پہنچا دینا کافی نہیں اور اسکا خیال آپؐ کی رحلت کے قریب 20 سال بعد حضرت عثمان کو آیا اور آپ نے قرآن کو جمع فرمایا۔ یہ خیال حقیقت میں باطل ہے اور آپؐ نے اپنے سامنے قرآن کو لکھوایا اور آیات کو متعلقہ مقام پر رکھوایا۔ بعض اوقات آپ کو مدنی آیات مکی سورتوں میں ملتی ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرمؐ نے لکھنے والوں سے فرمایا کہ اس آیت کو فلاں سورہ میں فلاں آیت کے بعد قرار دو۔

3. بات یہاں تک نہیں رکتی بلکہ نبی اکرمؐ نے کچھ دینی احکامات بھی درست طور پر بیان نہیں فرمائے تھے اور حضرت عمر کو القاء ہوا تو انہوں نے اس میں اصلاح فرمائی اور آج امت نبی اکرمؐ کے فرمان کو چھوڑ کر ان کے فرمودات عالیہ پر عمل پیرا ہے اور ان کی بدعات کو بدعات حسنہ کے نام سے یاد کرتی ہے جن کی تعداد قریب 30 ہے مثلاً آذان میں ”الصلوہ خیر من النوم“ کا اضافہ اور نماز تراویح کو فرادی سے باجماعت کروا دینا۔

اسے کہتے ہیں صحابہ سے حقیقی محبت۔ اور مزے کی بات ہے کہ آج کچھ گروہ جو پاکستان میں کسی غیر ملکی ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں اور جن کا مقصد ہی انتشار پھیلانا ہے وہ اس قسم کی اصطلاحات متعارف کروا رہے ہیں جیسے مثلاً کسی مستحب کام کا ذکر کرنا ہو تو کہتے ہیں ”صحابی طریقہ“ حالانکہ ”سنت طریقہ“ کتنی پیاری اصطلاح ہے۔ کتنی عظمت ہے کہ ہم نبی اکرمؐ سے اپنی نسبت کو ظاہر کریں لیکن نہ جانے کیوں اس طرح کی باتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ شائد اس سے مقصود امت کو نبی اکرمؐ کی ذات سے دور کرنا ہو جو کہ مسلمانوں کے لئے نقطہ اتحاد و وحدت ہیں۔

متعلقہ تحاریر