وراثت سے محروم کرنا

گناہان کبیرہ ۔ شھید آیۃ اللہ عبدالحسین دستغیب شیرازی 13/02/2023 1527

الجنف فی الوصیة  یا وصیت میں جنف کے معنی ہیں تمام وارثوں یا ان میں سے بعض پر اس طرح ظلم وستم کرنا کہ انہیں وراثت سے محروم کر دیا جائے۔ ارشاد ہوتا ہے:

فَمَنْ خَافَ مِن مُّوصٍۢ جَنَفًا أَوْ إِثْمًۭا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَآ إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ (البقرة ۔ 182)
جو شخص وصیت کرنے والے کی جانب داری یا گناه کی وصیت کردینے سے ڈرے  پس وه ان میں آپس میں اصلاح کرادے تو اس پر گناه نہیں، اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے

تفسیر قمی میں امام جعفرصادق ع سے یہ روایت کی گئی ہے کہ:

جنف یہ ہے کہ بعض وارثوں کو نوازے اور بعض وارثوں کو محروم رکھے اور اثم یہ ہے کہ آتش کدوں کو آباد کرنے اور منشیات تیار کرنے کا حکم دے۔ ہر صورت میں یہ وصی پر ہے کہ وہ ان میں سے کسی بات پر بھی عمل نہ کرے۔

مفلس وارث کا لحاظ کرنا ضروری ہے

اگر وارث مالدار ہو تو وصیت کرنے والا اپنے تہائی مال کی وصیت کر سکتا ہے اور اس سے زیادہ کی وصیت وارث کی اجازت پر موقوف ہے۔ اور جو بعض وارث مفلس یا زیادہ نیک اور متقی ہوں تو وصیت کرنے والا اپنے تہائی مال میں سے کچھ مال کی ان کے لیے وصیت کر سکتا ہے کہ ان کے ورثے کے حق سے زیاد انہیں دیا جائے۔ اگر وارث مفلس ہو تو بہتر یہ ہے کہ وصیت نہ کرے یا چھٹے یا پانچویں حصے سے زیادہ کی وصیت نہ کرے, کیونکہ مفلس وارث کی ضرورت پوری ہو جانا خود ایک اچھا مصرف ہے۔ کیونکہ یہ صلہ رحم ہے, خاص طور پر اگر نابالغ ہو۔ حضرت امیرالمومنین ع فرماتے ہیں:

میرے نزدیک ترکے کے پانچویں حصے کی وصیت کرنا اس سے بہتر ہے کہ میں چوتھائی حصے کی وصیت کروں اور چوتھائی کی وصیت تہائی کی وصیت سے بہتر ہے اور جس شخص نے اپنے ترکے کے تہائی حصے کی وصیت کی اس نے گویا کچھ باقی نہ چھوڑا۔  (بحار جلد 23)

حضرت امام رضا ع فرماتے ہیں:

اگر کوئی شخص اپنے مال میں سے کچھ مقدار اپنے ان رشتے داروں کو دینے کی وصیت کرے جو اس کے وارث نہیں ہیں تو یہ مستحب ہے, اور جو ایسی وصیت نہیں کرتا تو مرتے وقت اس کا عمل اللہ کی نافرمانی پر ختم ہو گا۔ (بحار جلد 23، منقول از فقہ الرضا)

شاید اس کے گناہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے صلہ رحم کا خیال نہیں رکھا جو اللہ کے اہم واجبات میں داخل ہے۔ مثلاً کوئی دولت مند شخص غیر وارث مفلس رشتے دار رکھتا ہو, اور ایسی صورت میں ایسی وصیت ترک کرنا لوگوں کے لیے قطع رحم ہو۔

وارث دوسروں پر مقدم ہے

حضرت امام جعفرصادق ع فرماتے ہیں:

انصار میں سے ایک شخص کا انتقال ہو گیا، اس کے کئی چھوٹے چھوٹے بچے تھے اور مال دُنیا میں سے اس کے پاس صرف چھ غلام تھے۔ مرتے وقت اس نے سب کو آزاد کر دیا۔ جب اس کا معاملہ حضرت رسول خدا ص کے سامنے پیش کیا گیا تو آپؐ نے فرمایا, اس کے ساتھ کیا کیا گیا؟ لوگوں نے کہا ہم نے اسے دفن کر دیا۔ آپؐ نے فرمایا اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں اسے مسلمانوں کے قریب دفن نہ ہونے دیتا, کیونکہ وہ اپنے بچوں کو بھیک مانگنے کے لیے چھوڑ گیا۔ (وافی)

قاعدے کے مطابق ترکے کی تقسیم

غرض یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اپنے تہائی مال سے زیادہ کی وصیت جائز نہیں ہے۔ اگر وہ ایسا کرے تو اس کے وصی پر لازم ہے کہ وہ تہائی مال سے زیادہ کی وصیت پر عمل نہ کرے جب تک کہ وارث اس کی اجازت نہ دے۔ اس کے علاوہ حرام کاموں میں وصیت کرنا جائز نہیں ہے اور وصی پر واجب ہے کہ اگر مرنے والے نے وصیت بھی کی ہے تو اسے نظر انداز کر دے اور نیک کاموں میں خرچ کرے۔ اس کے علاوہ بعض وارثوں کو ورثے سے محروم کر دینا بھی جائز نہیں ہے اور وصی پر واجب ہے کہ ان کا جو حصہ خدا نے مقرر کر دیا ہے وہ ان کو دے۔

اگر ایسے مالدار شخص کے جس کے پہلے درجے کے وارث (مثلاً اولاد اور والدین) موجود ہوں دوسرے طبقے کے (مثلاً بھائی اور بہن) یا تیسرے درجے کے رشتے دار (مثلاً چچا، پھوپھی، خالہ، ماموں) مفلس ہوں تو اسے وصیت کرنا چاہیئے کہ اس کے ترکے میں سے کچھ ان مفلس رشتے داروں کو بھی دے دیا جائے اور اگر وہ ایسی وصیت نہ کرے اور عام اصطلاح میں قطع رحم کرے تو سمجھئے کہ وہ گناہگار مرا ہے جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے۔ امام جعفرصادق ع نے وصیت فرمائی تھی کہ, حسن افطس کو جو آپ کے چچا کا بیٹا تھا آپ کے مال میں سے ستر اشرفیاں دی جائیں۔ ایک شخص نے کہا اے آقا! آپ ایسے شخص کو بخشش کر رہے ہیں جس نے آپ پر حملہ کیا اور جو آپ کو مار ڈالنا چاہتا تھا۔ امامؑ نے فرمایا تم یہ چاہتے ہو کہ میں ان لوگوں میں شمار نہ کیا جاؤں جن کی خدا نے صلہ رحم کے باعث تعریف کی ہے اور ان کی صفت میں فرمایا:

وَٱلَّذِينَ يَصِلُونَ مَآ أَمَرَ ٱللَّهُ بِهِۦٓ أَن يُوصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُونَ سُوٓءَ ٱلْحِسَابِ (الرعد ۔ 21)
اور اللہ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے وه اسے جوڑتے ہیں اور وه اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور حساب کی سختی کا اندیشہ رکھتے ہیں.

متعلقہ تحاریر