خطبہ فدک

فاطمہ زہرا من المھد الی الحد 11/01/2022 316

روایت ہے کہ حکومت نے فدک غصب کر کے حضرت زہراؑ کے وکیل کو وہاں سے طاقت کے زور پر بے دخل کر دیا۔ جب یہ خبر حضرت زہرا (س) کے پاس پہنچی، تو آپ نے برقعہ سر پر لیا, اور اپنی رشتہ دار اور گھرمیں کام کرنے والی خواتین کے ہمراہ اس انداز میں مسجد نبوی کی جانب بڑھیں کہ آپ کا برقعہ زمین پر کھنچا جا رہا تھا اور پیغمبر اسلام (ص) کی طرح چلتی ہوئی ابو بکر کے پاس گئیں جو مہاجرین، و انصار اور بعض دوسرے لوگوں کے درمیان بیٹھے تھے، اس دوران لوگوں اور آپ کے درمیان پردہ لگا دیا گیا، آپ نے دلخراش آہ بھری جس پر لوگ رونے لگے اور مسجد اور محفل میں ہیجان پیدا ہو گیا، کچھ دیر خاموش رہیں، یہاں تک کہ دوبارہ لوگوں پر سکوت طاری ہوا، تو حمد باری تعالیٰ سے اپنے کلام کا آغاز کیا، اور رسول خدا پر درود و سلام بھیجا، دوبارہ رونے کی آوازیں بلند ہوئیں، پھر جب سکوت طاری ہوا تو اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا۔

حمد اللہ کے لئے ہے اس کے انعام پر اور اس کا شکر ہے اس کے الہام پر۔ وہ قابل ثنا ہے کہ اس نے بے طلب نعمتیں دیں اور مکمل نعمتیں دیں اور مسلسل احسانات کئے جو ہر شما ر سے بالا تر ہر معاوضہ سے بعید تر اور ہر ادراک سے بلند تر ہیں۔ بندوں کو دعوت دی کہ شکر کے ذریعہ نعمتوں میں اضافہ کرائیں پھر ان نعمتوں کو مکمل کر کے مزید حمد کا مطالبہ کیا اور انھیں دہرایا۔

میں شہادت دیتی ہوں کہ خدا وحدہ لاشریک ہے اور اس کلمہ کی اصل اخلاص ہے، اس کے معنی دلوں سے پیوست ہیں ۔ اس کا مفہوم فکر کو روشنی دیتا ہے۔ اللہ وہ ہے کہ آنکھوں سے جس کی رویت ،زبان سے تعریف اور خیال سے کیفیت کا بیان محال ہے۔ اس نے چیزوں کو بلا کسی مادہ اور نمونہ کے پیدا کیا ہے صر ف اپنی قدرت اور مشیت کے ذریعہ، اسے نہ تخلیق کے لئے نمونہ کی ضرورت تھی، نہ تصویر میں کوئی فائدہ تھا سوائے اس کے کہ اپنی حکمت کو مستحکم کردے اور لوگ اس کی اطاعت کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ اس کی قدرت کا اظہار ہو اور بندے اس کی بندگی کا اقرارکریں۔ وہ تقاضائے عبادت کرے تو اپنی دعوت کو تقویت دے۔ چنانچہ اس نے اطاعت پر ثواب رکھا اور معصیت پر عذاب رکھا تا کہ لوگ اس کے غضب سے دور ہوں اور جنت کی طرف کھنچ آئیں۔

میں شہادت دیتی ہوں کہ میرے والد حضرت محمدؐ اللہ کے بندے اور وہ رسولؐ ہیں جن کو بھیجنے سے پہلے چنا گیا اور بعثت سے پہلے منتحب کیا گیا۔ اس وقت جب مخلوقات پردہ غیب میں پوشیدہ اور حجاب عدم میں محفوظ اور انتہا ئے عدم سے مقرون تھیں آپ مسائل امور اورحوادث زمانہ اور مقدرات کی مکمل معرفت رکھتے تھے۔

اللہ نے آپ کوبھیجا تاکہ اس کے امر کی تکمیل کریں، حکمت کو جاری کریں اور حتمی مقررات کونافذ کریں مگر آپ نے دیکھا کہ امتیں مختلف ادیان میں تقسیم ہیں۔ آگ کی پوجا، بتوں کی پرستش اور خدا کے جان بوجھ کر انکار میں مبتلا ہیں۔ آپ نے ظلمتوں کو روشن کیا، دل کی تاریکیوں کو مٹایا، آنکھوں سے پردے اٹھائے، ہدایت کےلئے قیام کیا، لوگوں کو گمراہی سے نکالا، اندھے پن سے با بصیرت بنایا، دین قویم اور صراط مستقیم کی دعوت دی۔ اس کے بعد اللہ نے انتہائی شفقت و مہربانی اور رغبت کے ساتھ انہیں بلا لیا اور اب وہ اس دنیا کے مصا ئب سے راحت میں ہیں، ان کے گرد ملا ئکہ ابرار اور رضائے الہی ہے اور سر پر رحمتِ خدا کا سایہ ہے خدا میرے والد پر رحمت نازل کرے جو اس کے نبی، وحی کے امین، مخلوقات میں منتخب، مصطفےٰؐ اور مرتضیؑ تھے۔ ان پر اللہ تعالی کی رحمت و بر کت و سلام ہوں۔

بندگان خدا :

تم اس کے حکم کا مرکز، اس کے دین و وحی کے حامل، اپنے نفس پر اللہ کے امین، اور امتوں تک اس کے پیغام رساں ہو۔ تمہارا خیال ہے اس پر تمہارا کوئی حق ہے حالانکہ تم میں اس کا وہ عہد موجود ہے جسے اس نے بھیجا ہے اور بقیہ ہے جسے اپنی خلافت دی ہے۔ وہ خدا کی کتاب قرآن ناطق, قرآن صادق، نور ساطع اور ضیأروشن ہے جس کی بصیرتیں نمایاں اور اسرار واضح ہیں، ظواہر منور ہیں اور اس کا اتباع قابل رشک ہے۔ وہ رضوان الہی کا قائد ہے اور اس کی سماعت ذریعہ نجات ہے۔ اسی سے اللہ کی روشن حجتیں، اسکے واضح فرائض، مخفی محرمات, روشن بینات, کافی دلائل، مندوب فضائل، لازمی تعلیمات اور قابلِ رخصت احکام کا اندازہ ہوتا ہے۔

  • اس کے بعد خدا نے ایمان کو تمہارے لئے شرک سے پاک ہونے کا ذریعہ قرار دیا،
  • نماز کو تمہارے لئے تکبر سے بچنے کا وسیلہ بنایا،
  • زکوۃٰ کو نفس کی صفائی اور رزق کی زیادتی،
  • روزہ کو خلوص کے استحکام،
  • حج کو دین کی تقویت،
  • عدل کو دلوں کی تنظیم،
  • ہماری اطاعت کو ملت کے نظام،
  • ہماری امامت کو تفرقہ سے امان،
  • جہاد کو اسلام کی عزت،
  • صبر کو استجاب اجر کا معاون،
  • امر بالمعروف کو عوام کی مصلحت،
  • والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کو عذاب سے تحفظ،
  • صلہ رحم کو عدد کی زیادتی،
  • قصاص کو خون کی حفاظت،
  • ایفائے نذر کو مغفرت کا وسیلہ،
  • ناپ تول کو فریب دہی کا توڑ،
  • حرمت شراب خوری کو رجس سے پاکیزگی،
  • تہمت سے پرہیز کو لعنت سے محافظت
  • اور ترک سرقت کو عفت کا سبب قرار دیا ہے۔
  • اس نے شرک کو حرام کیا تاکہ ربوبیت سے اخلاص پیدا ہو۔
ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِۦ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ
اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور اسلام پر ہی مرنا
اس کے امرونہی کی اطاعت کرو اس لئے کہ
إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ (فاطر-28)
اس کے بندوں میں خوف رکھنے والے علماء ہی ہیں۔

لوگو: یہ جان لو کہ میں فاطمہؐ ہوں،اور میرے باپ محمد مصطفےٰؐ ہیں۔ میری یہی بات اول وآخر ہے۔ نہ غلط کہتی ہوں نہ بے ربط۔

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ (توبہ – 128)
وہ تمھارے پاس رسول بن کر آئے،ان پر تمہاری زحمتیں شاق تھیں، وہ تمہاری بھلائی کے خواہاں اور صاحبانِ ایمان کے لئے رحیم ومہربان تھے۔

اگر تم انھیں اور ان کی نسبت کو دیکھوتو تمام عرب میں صرف میرے باپ، اور تمام مردوں میں صرف میرے ابن عم کو ان کا بھائی پاؤ گے، اور اس نسبت کا کیا کہنا۔

میرے پدر بزرگوار نے کھل کر پیغام خدا کو پہنچایا، مشرکین سے بے پرواہ ہو کر ان کی گردنوں کو پکڑ کر اور ان کے سرداروں کو مار کر د ین خدا کی طرف حکمت اور موعظہ حسنہ کے ساتھ دعوت دی۔ وہ مسلسل بتوں کو توڑ رہے تھے اور مشرکین کے سرداروں کو سر نگوں کر رہے تھے یہاں تک کہ مشرکین کو شکت ہوئی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔

رات کی صبح ہو گئی، حق کی روشنی ظاہر ہو گئی، دین کا ذمہ دار گویا ہو گیا, شیاطین کے ناطقے گنگ ہوگئے، نفاق تباہ ہوا، کفر و افترأ کی گرہیں کھل گئیں اور تم لوگوں نے کلمۂ اخلاص کو ان روشن چہرہ فاقہ کش لوگوں سے سیکھ لیا، جن سے اللہ نے رجس کو دور رکھا تھااور انھیں حق طہارت عطا کیا تھا

وَكُنتُمْ عَلَىَ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ (آل عمران – 103)

تم جہنم کے کنارے پرتھے

تم ہر لالچی کے لئے مال غنیمت اور ہر زود کار کے لئے چنگاری تھے ہر پیر کے نیچے پامال تھے، گندہ پانی پیتے تھے، پتے چباتے تھے، ذلیل اور پست تھے،

تَخَافُونَ أَنْ يَتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ (انفال – 26)
ہر وقت چار طرف سے حملہ کا اندیشہ تھا

لیکن خدا نے میرے باپ محمدؐ کے ذریعہ تمھیں ان تمام مصیبتوں سے بچا لیا۔

خیر ان تمام باتوں کے بعد بھی جب عرب کے نامور سرکش بہادر اور اہل کتاب کے باغی افراد نے جنگ کی آگ بھڑکائی تو خدا نے اسے بجھا دیا, یا شیطان نے سینگ نکالی یا مشرکوں نے منھ کھولا تو میرے باپ نے اپنے بھائی کو ان کے حلق میں ڈال دیا اور وہ اس وقت تک نہیں پلٹے جب تک ان کے کانوں کو کچل نہیں دیا اور ان کے شعلوں کو آب شمشیر سے بجھا نہیں دیا۔ وہ اللہ کے معاملہ میں زحمت کش اور جد وجہد کرنے والے رسولؐ اللہ کے قریبی، اولیاء اللہ کے سردار، پند و نصیحت کرنے والے سنجیدہ اور کوشش کرنے والے تھے۔ اور تم عیش کی زندگی، آرام سکون چین کے ساتھ گذار رہے تھے، ہماری مصیبتوں کے منتظر اور ہماری خبر بد کے خواہاں تھے۔ تم لڑائی سے منہ موڑلیتے تھے اور میدان جنگ سے بھاگ جاتے تھے۔

پھر جب اللہ نے اپنے نبی کے لئے انبیأ کے گھر اور اصفیاء کی منزل کو پسند کر لیا تو تم میں نفاق کی روشنی ظاہر ہوگئی, پردہ دین و آئین کہنہ ہو گیا, گمراہ اور بداندیش لوگ آواز بلند کرنے لگے۔ گمنام اور فراموش شدہ لوگ منظر عام پر آگئے۔ گمراہوں کا منادی بولنے لگا اور انہوں نے تمہارے درمیان اپنے مقاصد کے لئے تیزی دکھانا شروع کر دی۔ شیطان نے سر نکال کر تمھیں آواز دی تو تمھیں اپنی دعوت کا قبول کرنے والا اور اپنی بارگاہ میں عزت کا طالب پایا۔ تمہیں اپنے مقصد کے لئے اٹھایا تو تم ہلکے دکھائی دئے، بھڑکایا تو تم غصہ ور ثابت ہوئے، تم نے اپنے غیر کے اونٹ پر نشان لگایا اور دوسروں کے چشمہ پر وارد ہوگئے حالانکہ ابھی زمانہ قریب کا ہے اور زخم کشادہ ہے جراحت مندمل نہیں ہوئی ہے اور رسولؐ قبر میں سو بھی نہیں سکے ہیں۔ یہ جلدی بازی تم نے فتنہ کے خوف سے کی

اَلَا فِی الۡفِتۡنَۃِ سَقَطُوۡا ؕ وَ اِنَّ جَہَنَّمَ لَمُحِیۡطَۃٌۢ بِالۡکٰفِرِیۡنَ (توبہ – 49)
حالانکہ تم فتنہ ہی میں پڑ گئے اور جہنم تو تمام کفار کو محیط ہے۔

افسوس تم پر تمھیں کیا ہو گیا ہے، تم کہاں بہک رہے ہو؟ تمھارے درمیان کتابِ خدا موجود ہے جس کے امور واضح، احکام آشکار، علائم روشن، نواہی تابندہ اور اوامر نمایاں ہیں۔ تم نے اسے پس پشت ڈال دیا, کیا اب اس کے انحراف کے خواہاں ہو یا کوئی دوسرا حکم چاہتے ہو

بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلا(کھف – 50)
ظالموں کے لئے بہت برا بَدَل ہے

وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ (آل عمران – 85)
اور جو غیر اسلام کو دین بنائے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔

اس کے بعد تم نے صرف اتنا انتظار کیا کہ اس کی نفرت ساکن ہو جائے اور مہار ڈھیلی ہو جائے، پھر آتش جنگ کو روشن کرکے شعلوں کو بھڑکانے لگے، شیطان کی آواز پر لبیک کہنے اور دین کے انوار کو خاموش کرنے اور سنت پیغمبرؐ کو برباد کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ تم نے جو دعوی کیا اس پرعمل نہ کیا اور رسول کے اہلبیت اور بچوں کے لئے پوشیدہ ضرر رسانی کرتے ہو۔ ہم تمھاری حرکات پر یوں صبر کرتے ہیں جیسے گلے پر تیز شمشیر اور مقام قلب پر نیزہ ہو۔ اور اب تمھارا خیال یہ ہے کہ میراث میں ہمارا حق نہیں ہے۔

أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ (مائدہ – 50)
کیا تم جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہو،جب کہ ایمان والوں کے لئے اللہ سے بہتر کوئی حاکم نہیں ہے

کیا تم نہیں جانتے ہو؟ جی ہاں! تمہارے لئے روز روشن سے زیادہ عیاں ہے کہ میں ان کی پارۂ جگر ہوں۔اے مسلمانو! کیا مجھے میری میراث سے محروم کر دیا جائے گا؟

اے حضرت! کیا قرآن میں یہی ہے کہ تو اپنے باپ کا وارث بنے اور میں اپنے باپ کی وارث نہ بنوں۔ یہ کیسا افترأ ہے؟ کیا تم نے قصداً کتابِ خدا کو پس پشت ڈال دیا ہے جب کہ ارشاد ہوتا ہے,

وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ (نمل – 16)
سلیمانؑ داؤؑد کے وارث ہوئے

اور جناب یحیی بن زکریا علیھماالسلام کا ذکر ہے کہ ارشاد ہوتا ہے,

فَهَبْ لي مِنْ لَدُنْکَ وَلِيًّا يَرِثُني وَ يَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ (مریم – 5)
خدا یا مجھے ایسا ولی دیدے جو میرا اورآل یعقوبؑ کا وارث ہو۔

اور یہ اعلان ہے:

وَأُولُو الْأَرْحَام بَعْضهمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَاب اللَّه (انفال – 75)
قرابتدار بعض بعض سے اولیٰ ہیں۔(۳)

اور یہ ارشاد ہے:

يُوْصِيْكُمُ اللّـٰهُ فِىٓ اَوْلَادِكُمْ ۖ لِلـذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ (نساء – 11)
خدا اولاد کے بارے میں تمھیں یہ نصیحت کرتا ہے کہ لڑکے کو لڑکی کا دوگنا ملے گا

اور یہ تعلیم ہے کہ:

كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ ٱلْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا ٱلْوَصِيَّةُ لِلْوَٰلِدَيْنِ وَٱلْأَقْرَبِينَ بِٱلْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى ٱلْمُتَّقِينَ (بقرہ – 180)
تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے تو اگر وہ کچھ مال چھوڑ جانے والا ہو تو ماں با پ اور رشتہ داروں کے لئے دستور کے مطابق وصیت کرے۔ یہ متقین کی ذمہ داری ہے۔

اور تمہارا خیال ہے کہ نہ میرا کوئی حق ہے اور نہ میرے باپ کی کو ئی میراث ہے اور نہ میری کو ئی قرابتداری ہے۔ کیا تم پر کوئی خاص آیت نازل ہو ئی ہے جس میں میرا باپ شامل نہیں ہے؟ یا تمھارا کہنا یہ ہے کہ میں اپنے باپ کے مذ ہب سے الگ ہوں اس لئے وارث نہیں ہوں۔ کیا تم عام وخاص قرآن کو میرے باپ اور میرے ابن عم سے زیادہ جانتے ہو۔ خیر ہوشیار ہو جاؤ: آج تمھارے سامنے وہ ستم رسیدہ ہے جو کل تم سے قیامت میں ملے گی جب اللہ حاکم اور محمدؐ طالب حق ہوں گے۔ موعد قیامت کا ہوگا اور ندامت کسی کے کام نہ آئے گی اور ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہوگا۔ عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کے پاس رسوا کن عذاب آتا ہے اور کس پر مصیبت نازل ہوتی ہے ۔

 (اس کے بعد آپ انصار کی طرف متوجہ ہوئیں اور فرمایا)

اے جواں مرد گروہ: ملت و قوم کے بازؤو! اسلام کے ناصرو! یہ میرے حق سے چشم پوشی میری ہمدردی سے غفلت کیسی ہے؟ کیا وہ رسولؐ میرے باپ نہ تھے جنھوں نے یہ کہا تھا انسان کا تحفظ اس کی اولاد میں ہوتا ہے۔ تم نے بہت جلدی خوف زدہ ہو کر یہ اقدام کیا, حالانکہ تم میں وہ حق والوں کی طاقت تھی جس کے لئے میں کوشاں ہوں اور وہ قوت تھی جس کی میں طالب اور تگ و دو میں ہوں۔

کیا تمہارا یہ بہانہ ہے رسوؐل کا انتقال ہو گیا ہے! تو یہ تو بہت بڑا حادثہ رونما ہوگیا ہے۔ جس کا رخنہ وسیع، شگاف کشادہ ہوگیا ہے، زمین ان کی غیبت سے تاریک، ستارے بے نور، امیدیں ساکن، پہاڑسرنگوں، حریم زایل اور حرمت برباد ہو گئی ہے۔ یقیناً یہ بہت بڑا حادثہ اور بہت عظیم مصیبت ہے، نہ ایسا کو ئی حادثہ ہے اور نہ سانحہ۔ خود قرآن نے تمھارے گھروں میں صبح وشام بہ آواز بلند تلاوت والحان کے ساتھ اعلان کر دیا تھا کہ اس سے پہلے جو انبیأ پر گذرا وہ اٹل حکم تھا اور حتمی قضا تھی

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ‌ؕ اَفَا۟ٮِٕنْ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انْقَلَبۡتُمۡ عَلٰٓى اَعۡقَابِكُمۡ‌ؕ وَمَنۡ يَّنۡقَلِبۡ عَلٰى عَقِبَيۡهِ فَلَنۡ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيۡـــًٔا‌ ؕ وَسَيَجۡزِى اللّٰهُ الشّٰكِرِيۡنَ (آل عمران – 144)
اور محمد تو ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بہت رسول گزرے، پھر کیا اگر وہ مرجائیں یا مارے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے، اور جو کوئی الٹے پاؤں پھر جائے گا تو اللہ کا کچھ بھی نہیں بگاڑے گا اور اللہ شکر گزاروں کو ثواب دے گا۔

ہاں اے انصار: کیا تمھارے دیکھتے سنتے اور تمھارے مجمع میں میری میراث ہضم ہو جائے گی؟ تم تک میری آواز بھی پہنچی۔ تم با خبر بھی ہو۔ تمھارے پاس اشخاص، اسباب، آلات، قوت، اسلحہ اور سپر سب کچھ موجود ہے۔ لیکن تم نہ میری آواز پر لبیک کہتے ہو، اور نہ میری فریاد کو پہچنتے ہو، تم تو مجاہد ہو، خیروصلاح کے ساتھ معروف ہو، منتخب روزگار اور سرآمد زمانہ تھے۔ تم نے عرب سے جنگ میں رنج وتعب اٹھایا ہے، امتوں سے ٹکرائے ہو، لشکروں کا مقابلہ کیا ہے، ابھی ہم دونوں اسی جگہ ہیں جہاں ہم حکم دیتے تھے اور تم فرمانبرداری کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ہمارے دم سے اسلام کی چکی چلنے لگی۔ زمانہ کا دودھ نکال لیا گیا، شرک کے نعرے پست ہو گئے، افترء کے فوارے دب گئے، کفر کی آگ بجھ گئی، فتنہ کی دعوت خاموش ہوگئی، دین کا نظام مستحکم ہو گیا۔

تو اب تم اس وضاحت کے بعد کہاں چلے گئے اور اس اعلان کے بعد کیوں پردہ پوشی کر لی؟ آگے بڑھ کے قدم کیوں پیچھے ہٹائے؟ ایمان کے بعد کیوں مشرک ہوئے جا رہے ہو؟

أَلَا تُقَـٰتِلُونَ قَوْمًا نَّكَثُوٓا۟ أَيْمَـٰنَهُمْ وَهَمُّوا۟ بِإِخْرَاجِ ٱلرَّسُولِ وَهُم بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ أَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَٱللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَوْهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (توبہ – 13)
کیا تم نہ لڑو گے ایسے لوگوں سے جو اپنے عہد توڑتے رہے ہیں اور جنہوں نے رسُول کو ملک سے نکال دینے کا قصد کیا تھا اور زیادتی کی ابتدا کرنے والے وہی تھے؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ اگر تم مومن ہو تو اللہ اِس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو

خبردار, میں دیکھ رہی ہوں کہ تم دائمی پستی میں گر گئے اور تم نے بست وکشاد کے صحیح حق دار کو دور کر دیا، آرام طلب ہو گئے اور تنگی سے وسعت میں آگئے، جو سنا تھا اسے پھینک دیا اور جو بادلِ نخواستہ نگل لیا تھا اسے اُگل دیا۔

إِن تَكْفُرُوٓا۟ أَنتُمْ وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ ٱللَّهَ لَغَنِىٌّ حَمِيدٌ (ابراہیم – 8)
خیر تم کیا, اگر ساری دنیا بھی کافر ہو جائے تو اللہ کو کسی کی پرواہ نہیں ہے۔

خیر مجھے جو کچھ کہنا تھا وہ کہہ چکی، تمہاری بے رخی اور بے وفائی کو جانتے ہوئے جس کو تم لوگوں نے شعار بنا لیا ہے۔ لیکن یہ تو ایک دل گرفتگی کا نتیجہ اورغضب کا اظہار ہے، ٹوٹے ہوئے دل کی آواز ہے، ایک اتمام حجت ہے۔ چاہے تو اسے ذخیرہ کر لو۔ مگر یہ پیٹھ کا زخم ہے، پیروں کا گھاؤ ہے, ذلت کی بقا اورغضبِ خدا اور ملامتِ دا ئمی سے موسوم ہے

(ب)نَارُ ٱللَّهِ ٱلْمُوقَدَةُ۔ ٱلَّتِى تَطَّلِعُ عَلَى ٱلْأَفْـِٔدَةِ (ہمزہ - 6,7)
وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے جو دلوں پر چڑھتی چلی جائے گی۔

خدا تمہارے کرتوت کو د یکھ رہا ہے

وَسَيَعْلَمُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ
اور عنقریب ظالموں کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کیسے پلٹائے جائیں گے۔

میں اس کی بیٹی ہوں جو

إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَّكُم بَيْنَ يَدَىْ عَذَابٍ شَدِيدٍ (سبا – 46)
تمہیں ایک سخت عذاب کے آنے سے پہلے ڈرانے واﻻ ہے.

(ف)ٱعْمَلُوا۟ (عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ) إِنَّا عَـٰمِلُونَ۔ وَٱنتَظِرُوٓا۟ إِنَّا مُنتَظِرُونَ (ھود – 122)
اب تم بھی عمل کرو ہم بھی عمل کرتے ہیں۔ تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔

سبحان اللہ, نہ میرے والد احکام خدا سے روکنے والے تھے اور نہ اس کے مخالف تھے۔ وہ آثار قرآن کا اتباع کرتے تھے اور اس کے سوروں کے ساتھ چلتے تھے۔ کیا تم لوگوں کا مقصد یہ ہے کہ اپنی غداری کا الزام انکے سر ڈال دو۔ یہ ان کے انتقال کے بعد ایسی ہی سازش ہے جیسی ان کی زندگی میں کی گئی تھی۔

دیکھو یہ کتاب خدا حاکم عادل اور قول فیصل ہے جو اعلان کر رہی ہے کہ خدایا وہ ولی دیدے جو میرا بھی وارث ہو اور آل یعقوب کا بھی وارث ہو اورسلمانؑ داؤدؑ کے وارث ہوئے۔ خدائے عزوجل نے تمام حصے اور فرا ئض کے تمام احکام بیان کر دیے ہیں جہاں لڑکوں اور لڑکیوں کے حقوق کی بھی وضاحت کر دی ہے اور اس طرح تمام اہل باطل کے بہانوں کو باطل کر دیا ہے اور قیامت تک کے تمام شبہات اور خیالات کو ختم کر دیا ہے۔ یقینا یہ تم لوگوں کے نفس نے ایک بات گھڑ لی ہے تو اب میں بھی صبر جمیل سے کام لے رہی ہوں اور اللہ ہی تمہارے بیانات کے بارے میں میرا مدد گار ہے۔

پس آپؑ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئیں اور فرمایا:

اے گروہ مسلمین جو حرف باطل کی طرف تیزی سے سبقت کرنے والے اور فعل قبیح سے چشم پوشی کرنے والے ہو۔

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلْقُرْءَانَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَآ (محمد – 24)
کیا (تم) قرآن پر غور نہیں کرتے ہواور کیا (تمھارے) دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔

یقیناً تمھارے اعمال نے تمھارے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے اور تمھاری سماعت اور بصارت کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ تم نے بد ترین تاویل سے کام لیا ہے۔ اور بدترین راستہ کی نشان دہی کی ہے اور بد ترین معاوضہ پر سودا کیا ہے۔ عنقریب تم اس بوجھ کی سنگینی کا احساس کرو گے اور اس کے انجام کو بہت درد ناک پاؤ گے جب پردے اٹھا ئے جائیں گے اور پس پردہ کے نقصانات سامنے آجا ئیں گے اور خدا کی طرف سے وہ چیزیں سامنے آجائے گی جن کا تمھیں وہم گمان بھی نہیں ہے

وَخَسِرَ هُنَالِكَ ٱلْمُبْطِلُونَ (غافر – 78)
اور اہل باطل خسارہ کو بر داشت کریں گے۔

اس کے بعد قبر پیغمبرؐ کا رخ کرکے فریا د کی:

بابا آپؐ کے بعد بڑی نئی نئی خبریں اور مصیبتیں سامنے آئیں کہ اگر آپ سامنے ہوتے تو مصا ئب کی یہ کثرت نہ ہوتی۔ ہم نے آپ کو ویسے ہی کھو دیا جیسے زمین ابر کرم سے محروم ہو جائے۔ آپ کی قوم نے منہ موڑ لیا ہے۔ آپ ان کے سلوک کو دیکھیں کہ وہ ہمارے ساتھ کیسا برتاؤ کر رہے ہیں۔

ذرا آپ آکر دیکھ تو لیں دنیا کا جو خاندان خدا کی نگاہ میں قرب ومنزلت رکھتا ہے وہ دوسروں کی نگاہ میں محترم ہوتا ہے, مگر ہمارا کوئی احترام نہیں ہے۔ کچھ لوگوں نے اپنے دل کے کینوں کا اس وقت اظہار کیا جب آپ اس دنیا سے چلے گئے اور میرے اورآپ کے درمیان خاک قبر حائل ہوگئی۔ لوگوں نے ہمارے اوپر ہجوم کرلیا اور آپ کے بعد ہم کو بے قدر وقیمت سمجھ کر ہماری میراث کو ہضم کر لیا۔

آپ کی حیثیت ایک بدر کامل اور نور مجسم کی تھی جس سے روشنی حاصل کی جاتی تھی اور آپ پر ربِّ عزت کے پیغامات نازل ہوتے تھے۔ جبریل آیات الہی سے ہمارے لئے سامان انس فراہم کرتے تھے مگر آپ کیا گئے کہ ساری نیکیاں پس پردہ چلی گئیں۔ کاش مجھے آپ سے پہلے موت آگئی ہوتی اور میں آپ کے اور اپنے درمیان خاک کے حا ئل ہونے سے پہلے مر گئی ہوتی۔ جس طرح ہم خاندان وحی پر مصائب آئے ہیں اس طرح عرب و عجم میں کسی پر ایسے مصائب نہیں آئے۔

جن لوگوں نے ہمارے لئے مظالم کی بنیاد رکھی ہے وہ عنقریب جان لیں گے کہ اب کہاں سے کہاں آ چکے ہیں۔ جان جاں میں اپنی زندگی کی آخری ساعت تک آپ کے سوگ میں گریہ کناں رہوں گی۔ اور جب تک آنکھیں باقی ہیں آپ کے غم میں آنسو برساتی رہیں گی۔ کیوںکہ ہم ﷲ کی برگذیدہ مخلوق ہیں۔ ہماری طبائع شائستہ ہیں اور ہمارا حسب و نسب پاک و پاکیزہ ہے۔ اب ہم آپ کے بے پایاں غم میں گرفتار ہیں۔

جان جاناں, آپؐ کی ذات والا صفات کائنات کی بہترین شخصیت ہے۔ منطق و گفتار کی دنیا میں آپ کی صداقت کائنات پر بھاری ہے۔ فرشتہ وحی آپ کے وجود کی برکت سے ہماری زیارت کے لئے آتا تھا۔ جب سے آپ اس دنیا سے تشریف لے گئے ہیں تمام اچھائیں مفقود ہو کر رہ گئی ہیں۔ یہ کائنات اپنی وسعت کے باوجود ہم پر تنگ کر دی گئی ہے۔ آپ کے دونوں فرزندوں کی افسردگی نے مجھے حیران و پریشان کیا ہوا ہے۔

جب حضرت زہرا مایوس ہو گئیں کہ حکومت انہیں ان کے حقوق واپس کرنے والی نہیں ہے تو وہ اپنے خانہ اقدس کی طرف واپس تشریف لائیں درحالیکہ ان کی زبان مبارک پر یہ الفاظ تھے,

"اے میرے ﷲ ان دونوں نے تیرے نبی کی بیٹی کا حق غصب کیا, تو ہی انہیں ان کے کئے پر سزا دے۔"

صحیح بخاری کتاب الخمس میں ہے:

"حضرت فاطمہ زہرا بنت رسولﷲ ان پرغضب ناک ہوئیں اور ان سے تعلق توڑ لیا, ان کی یہ دوری ان کی زندگی کے آخری وقت تک باقی رہی۔ آپؑ نے پھر زندگی بھر ان سے بات نہ کی۔"

صحیح بخاری کتاب بداءالخلق میں ہے:

"جب حکومت نے حقوق واپس کرنے سے انکار کر دیا تو حضرت فاطمہ زہراؑ نے زندگی بھر ان سے کوئی بات نہ کی۔"

متعلقہ تحاریر