بدعت اور غیر واجب حکم

گناہان کبیرہ ۔ شھید آیۃ اللہ عبدالحسین دستغیب شیرازی 21/11/2022 22

بدعت

علّامہ مجلسی رح فرماتے ہیں, امت میں جو باتیں حضرت رسول خدا کے بعد شروع کی گئی ہوں, اور اس بارے میں کوئی خاص یا عام نص موجود نہ ہو, اور نہ خصوصیت یا عمومیت کے ساتھ اس سے منع کیا گیا ہو, وہ بدعت (ایجاد) ہیں۔ جو کچھ عام طور پر ہوتا ہے وہ بدعت نہیں ہے۔ جیسے مدرسہ بنانا وغیرہ کیونکہ مومن کو سکونت اور مدد دینا عام باتوں میں شامل ہے اور جیسے علمی کتابیں تصنیف اور تالیف کرنا جو شرعی علوم کی مدد ہے یا جیسے وہ لباس جو پیغمبر خدا کے زمانے میں رائج نہیں تھے, یا نئی غذائیں جو عام لوگوں میں پسندیدہ اور مرغوب ہیں اور ان سے منع نہیں کیا گیا ہے۔

ہاں جو عام لباس یا غذا کے طور پر ہو, اگر اسے خصوصیت دیں اور کہیں کہ اس خاص طریقے سے خدا نے اس کا حکم دیا ہے تو یہ بدعت ہو جاتی ہے۔ چنانچہ نماز جو سب سے اچھا عمل ہے اور جس کا ادا کرنا ہر حال میں مستحب ہے اگر چند رکعتوں کو کسی خاص وجہ سے مخصوص کر دیا جائے یا کسی مخصوص وقت سے وابستہ کر دیا جائے تو بدعت ہو گی۔ (جیسے خلیفہ ثانی حضرت عمر نے حکم دے دیا تھا کہ رمضان میں ہر رات کو بیس رکعت نماز با جماعت پڑھا کرو۔) اور جیسے کوئی کہے کہ فلاں وقت خصوصیت سے ستر بار لاَ الٰہَ الاَّ اللّٰہ کہنا مستحب یا واجب ہے جبکہ اس کے لیے کوئی معتبر دلیل نہ ہو تو یہ بدعت ہے۔ بہرحال دین میں اپنی طرف سے کوئی ایسی بات نکالنا یا بڑھانا جس کی اصل یا خصوصیات کے حق میں کوئی دلیل نہ ہو بدعت ہے۔ (دیکھئے مرآة العقول جلد 2 ص 366 اور بحار الانوار جلد 4 ص 300)

پیغمبر خدا ص نے فرمایا:

ہر بدعت گمراہی ہے اور گمراہی جہنم میں لے جاتی ہے۔ (وسائل الشیعہ کتاب امر بالمعروف باب 40)
میرے بعد جب تم کسی شکی اور بدعتی کو دیکھو تو اس سے دُور رہو۔ اسے بہت زیادہ بُرا بھلا کہو، اسے گالیاں سناؤ، طعنہ دو، اسے تھکا دو، عاجز کر دو تاکہ تمہیں جواب نہ دے پائے، لوگ اس سے اسلام میں بگاڑ کے سوا اور کوئی امید نہ رکھیں، اس سے چوکنا رہیں، اس کی بدعتیں نہ سیکھیں تاکہ خدا تمہارے لیے اس کام کے عوض نیکیاں لکھے اور آخرت میں تمہارے درجے بلند کرے۔ (وسائل الشیعہ باب 39)

امیرالمومنین ع فرماتے ہیں:

جو بدعت کرنے والے کے نزدیک گیا اور جس نے اس کا احترام کیا اس نے بلاشبہ دین اسلام کو بگاڑنے کی کوشش کی۔ (وسائل الشیعہ)

امام جعفر صادق ع بدعت کو گناہ کبیرہ شمار کرتے ہیں کیونکہ رسول خدا نے فرمایا:

جو بدعت کرنے والے سے خوش ہو کر اور ہنس کر ملا اس نے بلاشبہ اپنا دین بگاڑا۔ (سفینة البحار جلد ۱ ص ۶۳)

شہید کے نقطہ نظر سے بدعت کی قسمیں

شہید اوّل فرماتے ہیں کہ پیغمبر اکرم ص کے بعد جو باتیں نکلی ہیں ان کی پانچ قسمیں ہیں۔ واجب، حرام، مستحب، مکروہ، مباح اور بدعت جو نئی باتیں ہیں اور حرام ہیں۔ ان باتوں کی تشریح یہ ہے:

  1. واجب: جیسے قرآن اور احادیث کا محفوظ کرنا جس وقت (لوگوں کے حافظے سے) ان کے تلف ہو جانے کا ڈر ہو کیونکہ آنے والوں کے لیے دین کی تبلیغ قرآنی آیات اور اجماع کے مطابق واجب ہے اور یہ فریضہ امام کی غیبت میں قرآن اور سنت کی حفاظت کے بغیر انجام نہیں پا سکتا اور جب امام موجود اور حاضر ہوں گے تو وہ خود ان کے حافظ اور محافظ ہوں گے اور پھر کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔
  2. حرام وہ بدعت ہے جس پر حرام ہونے کی دلیل لگتی ہے جیسے معصوم امام پر غیر معصوم امام کو مقدم کرنا، ان کے مخصوص مناصب ہتھیا لینا، ظالم حکمرانوں کا مسلمانوں کا مال مارنا، مستحق لوگوں کو ان کے حق کا نہ دینا، اہل حق سے لڑنا اور انہیں جلا وطن کرنا، محض بدگمانی پر قتل کرنا، فاسق کی بیعت کرنے پر مسلمانوں کو مجبور کرنا اور اس پر قائم رہنا، اس کی مخالفت کو حرام قرار دینا، مسح کے بجائے دھونا، جسم کی کھال کے علاوہ اور چیزوں پر بھی مسح کرنا، نشہ آور مشروبات کا بہت زیادہ پینا، نافلہ نمازیں جماعت سے پڑھنا، جمعہ کو دوسری اذان دینا، متعہ الحج اور متعہ النساء کو حرام کرنا، امام ع کے خلاف جھگڑا کرنا، دُور کے رشتے داروں کو وراثت کا مال دینا اور قریبی رشتے داروں کو نہ دینا، حقداروں کا خمس روک لینا اور بے وقت روزہ افطار کرنا اور ایسی ہی اور بھی مشہور بدعتیں ہیں جن پر شیعہ اور سُنی دونوں کا اجماع ہے اور اسی قسم میں کسٹم کا محصول وصول کرنا، غیر صالح شخص کو عہدہ اور منصب بخشش میں دینا یا وراثت میں دینا یا کسی اور طریقے سے دینا شامل ہیں۔
  3. مستحب ہر ایسا عمل ہے جس کے مستحب ہونے کی دلیل موجود ہو جیسے مدرسے اور گھر بنانا لیکن اس میں وہ انتظامات شامل نہیں ہیں جو بادشاہ اپنے دہلانے والے جلوس کے لیے کرتے ہیں جب تک کہ یہ اسلام کے دشمنوں کو دہلانے کے لیے نہ ہوں۔
  4. مکروہ وہ چیز ہے جس پر کراہت کی دلیل لگتی ہے جیسے تسبیح زہرا میں زیادتی اور کمی کرنا اور اسی طرح دوسرے فرائض اور کاموں میں بھی گھٹانا بڑھانا، کھانے پہننے میں اتنی افراط جو فضول خرچی تک نہ پہنچے اور جب نقصان دہ ہو جائے تو اپنے اور اپنے خاندان کے لیے حرام ہو جائے گی۔
  5. مباح وہ چیز ہے جس پر اباحت کی دلیلیں لگتی ہیں جیسے آٹا چھاننا جس کے لیے کہا گیا ہے کہ رسول خدا کے بعد جو نئی چیز درآمد ہوئی وہ آٹا چھاننے کی چھلنی تھی چونکہ مباح باتوں سے خوشی اور آرام ملتا ہے اس لیے مباح کا وسیلہ اور ذریعہ بھی مباح ہوتا ہے۔ (کتاب قواعد ص 256)

بدعت یعنی خدا کا حکم تبدیل کر د ینا

بدعت کے معنی ہیں خدا کے دین کو بدلنا اور اپنی ناقص رائے اور عقل سے اس میں کچھ بڑھانا یا اس سے کچھ گھٹانا ہے چاہے اصول میں ہو چاہے فروع میں۔ اس لحاظ سے بدعت کا مطلب یہ ہے کہ جس بات کو خدا نے حرام کر دیا ہو اسے حلال کر دیں, یا اسے مکروہ قرار دے دیں جسے خدا نے مکروہ نہ کیا ہو, اس بات کو واجب کر دیں جسے خدا نے واجب نہ فرمایا ہو یا اس کام کو مستحب کر دیں جسے خدا نے مستحب قرار نہ دیا ہو چاہے کسی خصوصیت کی وجہ سے ہی کیوں نہ ہو۔ مثلاً خدا نے فرمایا کہ نماز ہر وقت مستحب ہے۔ اگر کوئی اس لحاظ سے نماز پڑھتا ہے کہ چونکہ ہر وقت سنت ہے اور یہ بھی انہیں وقتوں میں سے ہے اس لیے میں اس وقت نماز پڑھوں گا تو ثواب ملے گا اور اگر سورج ڈوبتے وقت دو رکعت نماز اس لیے پڑھے کہ خدا نے خصوصیت کے ساتھ اس وقت مجھ سے اس نماز کا مطالبہ کیا ہے تو یہ بدعت ہو جاتی ہے اور حرام ہے۔ جس طرح حضرت عمر نے خصوصیت سے چاشت کے وقت کے لیے چھ رکعتیں مقرر کر دی تھیں کہ اس وقت سنت کے طور پر پڑھنا چاہئیں۔ اس وجہ سے بدعت اور حرام ہو گئیں اور ہمارے اماموں نے اس سے روک کر دیا۔

اسی طرح اگر کوئی شخص نافلہ نماز کی تین رکعتیں ایک سلام سے پڑھتا ہے توچونکہ سنتی نماز کی یہ شکل پیغمبر اکرم ص سے ہم تک نہیں پہنچی ہے, اس لیے بدعت اور حرام ہے, یا اگر کوئی ہر رکعت میں دو رکوع بجا لائے تو حرام ہے۔

اسی طرح کلمہ طیبہ لا الہ الا اللّٰہ کو ہر وقت پڑھتے رہنا سنت اور بہترین عبادت ہے۔ اگر کوئی یہ مقرر کرے کہ نماز صبح کے بعد مثلاً اس کا 101 بار پڑھنا سنت ہے اور اس گنتی کو خصوصیت سے اس وقت کے لیے شرع کی طرف سے مقرر کیا ہوا جانے یا خود مقرر کر لے اور اس خصوصیت کو عبادت جانے تو یہ دین میں بدعت اور بدترین گناہ ہو گا۔ (عین الحیاة ص 233)

امام علی ع فرماتے ہیں:

جو بدعت کرتا ہے وہ اس کی بدولت سنت کو ختم کر دیتا ہے۔ (اصول کافی کتاب فضل العلم باب 20)

امام جعفر صادق ع فرماتے ہیں:

حلال محمد ص قیامت تک ہمیشہ حلال رہے گا اور ان کا حرام روز قیامت تک برابر حرام رہے گا۔ ان کے سوا کوئی اور پیغمبر نہیں ہے اور ان کے علاوہ (قیامت تک) اور کوئی نہیں آئے گا۔
جو شخص لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہے حالانکہ ان کے درمیان اس سے زیادہ عقلمند شخص موجود ہوتا ہے وہ شخص بدعتی اور بہکانے والا ہے۔ (سفینة البحار جلد 2)

غیر واجب حکم

خدا نے جو کچھ فرمایا ہے اس کے خلاف حکم دینا گناہ ہے اور اس گناہ کے بڑے ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ خدا نے ایسا حکم دینے والوں کو کافر، ظالم اور فاسق کہا ہے اور سورة مائدہ کی آیات 44، 45 اور 47 کے آخر میں فرماتا ہے: اور خدا نے جو نازل فرمایا ہے جو لوگ اس کا حکم نہیں دیتے وہ کافر ہیں، ظالم ہیں اور فاسق ہیں۔ اور ان جملوں سے وہ ان کے کفر، ظلم اور گناہ کی تصدیق کرتا ہے۔

تفسیر المیزان میں لکھا ہے کہ یہ تینوں آیتیں ان لوگوں کے لیے ہیں جو خدا کے نازل کیے ہوئے کے مطابق حکم نہیں دیتے اور جن کے بارے میں خدا نے فرمایا ہے : یہ لوگ کافر، ظالم اور فاسق ہیں۔ یہ ایسی عمومی آیات ہیں جو کسی قبیلے یا گروہ سے مخصوص نہیں ہیں اگرچہ اس مقام پر یہ اہل کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں) پر صادق آتی ہیں۔

مفسرین نے اس شخص کا کفر جو خدا کے نازل کیے ہوئے کے مطابق حکم نہیں دیتا کے معنی میں اختلاف کیا ہے۔ اس قاضی کے متعلق جو اس کے مطابق فیصلہ نہیں دیتا جو خدا نے نازل کیا ہے، اس حاکم کے متعلق جو اس کے خلاف حکم دیتا ہے جو خدا نے نازل فرمایا ہے اور اس بدعتی کے متعلق جو غیر الہٰی قوانین کو مانتا ہے کیا حکم ہے؟

بے شک یہ فقہ کا ایک مسئلہ ہے اور تحقیق یہ ہے کہ کسی حاکم شرعی کی مخالفت یا ہر اس حکم کی مخالفت جو دین میں ثابت ہے اگر دین میں اس کے ثابت ہونے کا علم ہونے کے باوجود کی جاتی ہے اور اس حکم کو رد کیا جاتا ہے تو اس سے کفر لازم آتا ہے اور اگر اسے رد نہ کیا جائے اور صرف عمل میں اس کی مخالفت کی جائے یعنی ا کے خلاف عمل کیا جائے تو یہ فسق کا سبب ہے اور جب یہ نہ معلم ہو کہ یہ حکم شرع میں ثابت ہے یا نہیں تو پھر اسے رد کرنے کے باوجود نہ وہ کفر کا باعث ہے نہ فسق کا کیونکہ وہ ایسا قصور ہے جس میں انسان معذور ہے بجز اس صورت کے جبکہ اس کا علم حاصل کرنے میں کمی اور زیادتی کی گئی ہو۔ امام محمد باقر ع فرماتے ہیں:

جو شخص لوگوں کو اس چیز کے بارے میں فتویٰ دے جس کا اسے خدا کی طرف سے علم نہیں ہے اور جس کا اسے سراغ بھی نہ ملا ہو تو رحمت اور عذاب کے تمام فرشتے اس پر لعنت کریں گے اور جس شخص نے اس کے فتویٰ پر عمل کیا اس کی ذمہ داری اسی پر ہو گی۔ (وسائل الشیعہ کتاب قضا باب 4)

امام جعفر صادق ع فرماتے ہیں:

جو شخص صرف دو درہم کی سی حقیر رقم کے بارے میں بھی خدا کے حکم کے خلاف حکم کرتا ہے خدا کی قسم وہ کافر ہے۔ (وسائل الشیعہ کتاب قضا باب 5)
اس بارے میں بہت سی روایتیں ملتی ہیں کہ ایسے شخص کی طرف رجوع کرنا جو حکم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا گویا طاغوت کی طرف رجوع کرنا ہے اور اگر اس کے حکم سے کچھ مال اس کے ہاتھ لگ جائے تو چاہے وہ حق پر ہی ہو سحت ہے۔

متعلقہ تحاریر