مکر و فریب

گناہان کبیرہ ۔ شھید آیۃ اللہ عبدالحسین دستغیب شیرازی 17/11/2022 74

مکر, غدر (وعدہ خلافی) اور دھوکا دینا وہ گناہ کبیرہ ہیں جن کے لیے جہنم کا وعدہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ روایات میں ان تینوں کی سزا آتش دوزخ بتائی گئی ہے۔ غدر کے معنی بے وفائی اور وعدہ خلافی کے ہیں۔ مکروفریب اور خدعہ دونوں کے معنی دوسرے کے ساتھ اس طرح بُرائی کرنے کے ہیں کہ وہ سمجھ نہ پائے۔ مثلاً ظاہر میں اس کے ساتھ بھلائی لیکن باطن میں بدی ہو یا ظاہر میں تو یہ جتایا جائے کہ اس سے کوئی سروکار ہی نہیں ہے اور در پردہ آزار رسانی کی گھات میں رہے۔ غرض مکر اور خدعہ دوغلا پن یعنی منافقت اور دورنگی یعنی ظاہر میں اچھا اور باطن میں بُرا ہونا ہے۔ پیغمبر اکرم ص فرماتے ہیں:

مسلمان کو مکر اور دھوکا نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ میں نے جبرئیل سے سُنا ہے کہ مکر اور دھوکے کا نتیجہ جہنم ہے۔
پھر فرمایا, جو کوئی کسی مسلمان کو دھوکا دے یا اس سے خیانت کرے وہ ہم میں سے نہیں۔  (وسائل الشیعہ کتاب حج باب 137)

حضرت امیرالمومنین ع فرماتے ہیں:

اگر مکروفریب کی سزا آتش جہنم نہ ہوتی تو میں سب لوگوں سے زیادہ مکار ہوتا۔
بلاشبہ دھوکے بازی، عیاشی اور خیانت کی سزا آتش جہنم ہے۔ (کافی)

لوگوں نے امیرالمومنین ع سے کہا کہ جو آپ کا مخالف (معاویہ) ہے وہ جس حکومت پر قابض ہے اسے اس وقت تک معزول نہ کیجئے جب تک آپ کی حکومت مستحکم نہ ہو جائے۔ آپ نے فرمایا کہ مکر، فریب اور وعدہ خلافی کا انجام جہنم ہے۔ (مستدرک)

مکر، غد ر اور خد عہ کی دو قسمیں ہیں، ایک خدا، پیغمبر اور امام کے ساتھ مکر اور خدعہ اور دوسری قسم لوگوں کے ساتھ مکرو فریب۔

1. خدا سے دھوکا

خدا سے دھوکے کی بدترین قسم منافقوں کا دھوکا ہے یعنی وہ لوگ جو اپنا کفر چھپائے رکھتے ہیں اور ظاہر میں اسلام اور ایمان کا اظہار کرتے ہیں۔ چنانچہ خدا فرماتا ہے:

يُخَـٰدِعُونَ ٱللَّهَ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ (بقرة ۔ 9)
وہ اللہ اور اہل ایمان کو دھوکا دیتے ہیں حالانکہ وہ اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں لیکن یہ بات نہیں سمجھتے۔

اس بات کے معنی کہ یہ اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں یہ ہیں کہ ان کے فریب سے پیغمبر اور مومنوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا بلکہ یہ خود ہی چوٹ کھا جاتے ہیں کیونکہ یہ ہر نیکی اور بھلائی سے محروم رہ جاتے ہیں اور دُنیا میں بدنام اور آخرت میں عذاب الہٰی میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ خدا سے دھوکا کرنے میں دکھاوے کی عبادت شامل ہے جس کا ذکر شرک کی بحث کے آخر میں تفصیل سے کیا جا چکا ہے۔

روحا نی مقاما ت کا دعویٰ

خدا کو دھوکا دینے میں بعض بلند دینی مناصب ومقامات کا دعویٰ کرنا شامل ہے جبکہ وہ حقیقت میں ان سے محروم ہو مثلاً صبر، شکر، توکل، محبت، رضا، تسلیم، اخلاص وغیرہ کے مقامات کا دعویٰ۔ مثلاً وہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا معبود خدائے واحد ہے۔ اس کے سوا کوئی نہیں ہے اور کہتا ہے: ایاک نعبد, حالانکہ وہ شیطان کو پوجتا ہے یا کہتا ہے اللّٰہ اکبر یعنی خدا میرے نزدیک ہر چیز سے بڑا اور اونچا ہے جبکہ مال ومرتبہ اور دنیاوی حیثیتوں نے اس کے دل میں ریشہ دوانی کر کے بڑی اہمیت حاصل کر رکھی ہے۔ چنانچہ اگر اس سے کہیں کہ خدا کی خاطر فلاں گناہ چھوڑ دے تو آمادہ نہیں ہوتا البتہ اگر یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس سے اس کے مال، آبرو یا اس کی دوسری دُنیاوی حیثیتوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے تو اسے ترک کر دیتا ہے۔

امام جعفر صادق ع فرماتے ہیں:

جس وقت تم تکبیر کہو تو تمہیں چاہیئے کہ دُنیا کی تمام چیزوں کو خدا کی بزرگی کے سامنے چھوٹا سمجھو کیونکہ جس وقت بندہ تکبیر کہتا ہے اور خدا یہ جان لیتا ہے کہ اس کے دل میں اس کی تکبیر کے خلاف کوئی بات موجود ہے۔ یعنی وہ خدا کے سوا کسی اور کو زیادہ سمجھتا ہے تو خدا اس سے فرماتا ہے اے جھوٹے! تُو مجھے فریب دیتا ہے۔ مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم ہے کہ میں تجھے اپنی یاد کی مٹھاس، اپنی مناجات کے مزے اور اپنے قریب پہنچنے سے محروم کر دوں گا۔ (مستدرک, صلوٰة باب 2)

بزرگا ن دین سے دھوکے بازی

بزرگان دین سے دھوکے بازی مثلاً ایک شخص ان سے کہتا ہے کہ, یعنی میں تم سے اور تمہارے دوستوں سے محبت کرتا ہوں حالانکہ دوستوں سے اسے کوئی تعلق ہی نہیں ہے اور اہل بیت سے ان کی نسبت کا لحاظ ہی نہیں کرتا۔ یا کہتا ہے کہ, جو بات تمہارے خلاف جاتی ہے وہ میں نے ترک کر دی ہے حالانکہ اس نے ہزاروں بار ان کی مخالفت کی ہے اور کرتا ہے جیسا کہ جھوٹ کی گفتگو میں بیان کیا گیا ہے۔

2. خدا کے بندوں سے دھوکا

آخرت سے بے خبر لوگوں میں جو طرح طرح کی دھوکے بازی، بہانے بازی اور فریب کاری عام ہے وہ اسی قسم سے متعلق ہے اور سب کی سب حرام اور گناہ کبیرہ ہے اور جتنا اس کا فساد زیادہ ہوتا اس کی حرمت اور سزا بھی اتنی شدید ہو گی۔ ﷲ تعالی فرماتا ہے:

وَلَا يَحِيقُ ٱلْمَكْرُ ٱلسَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِۦ (فاطر ۔ 43)
اور بری تدبیروں کا وبال ان تدبیر والوں ہی پر پڑتا ہے

یعنی ہر دھوکہ باز, جو کچھ اس نے دوسرے کے بارے میں سوچا ہے وہ خود اپنے ہی بارے میں مشاہدہ کرتا ہے کیونکہ ہر مکر، مکر کرنے والی ذات کی گراوٹ کا اور جس سے مکر کیا جاتا ہے اس کی عزت بڑھانے اور درجہ بلند کرنے کا سبب ہو گا یا مکر کرنے والا آخرت میں اپنے بُرے کام کی وجہ سے جہنم کے سب سے نچلے درجے میں جائے گا اور جس کے ساتھ مکر کیا گیا ہے اس ظلم کی وجہ سے جو اس پر ہوا ہے بہشت میں بلند مقام پائے گا یا دُنیاوآخرت دونوں میں۔

محدث الجزائری نے زہرا الربیع میں نقل کیا ہے کہ اصفہان میں ایک آدمی نے اپنی بیوی کی پٹائی کرنا چاہی اور اسے چند ڈنڈے مارے لیکن اتفاقاً وہ عورت مر گئی حالانکہ وہ آدمی اس کے قتل کا ارادہ نہ رکھتا تھا بلکہ اس کا مقصد عورت کی سزنش کرنا تھا۔ اسے عورت کے رشتہ داروں سے خوف ہوا اور وہ ان کے شر سے بچاؤ کے لیے سوچنے ہوئے گھر سے باہر آیا اور اپنے ایک جاننے والے سے اپنی روداد سنائی تو اس شخص نے عورت کے رشتہ داروں سے چھٹکارے کے لیے یہ مشورہ دیا کہ کوئی خوبصورت جوان تلاش کرو، اسے مہمان بنا کر اپنے گھر لے جاؤ اور اس کا سر کاٹ کر عورت کے پہلو میں رکھ دو اور عورت کے رشتہ داروں کے استفسار پر کہنا کہ میں نے اس جوان کو عورت کے ساتھ زنا کرتے ہوئے دیکھا تو میں ضبط نہ کر سکا اور میں نے دونوں کو قتل کر دیا۔ اس آدمی کو یہ ترکیب پسند آ گئی اور وہ اپنے گھر کے دروازے پر آ کر بیٹھ گیا۔ ایک خوبصورت جوان کا اس کے گھر کے پاس سے گذر ہوا تو وہ آدمی اسرار کر کے اسے اپنے گھر لے گیا اور اس کے بعد اسے قتل کر دیا۔ جب اس عورت کے رشتہ دار آئے اور دو جنازے دیکھے تو اس آدمی نے اپنی گھڑی ہوئی کہانی سنائی۔ جس پر وہ لوگ مطمئن ہو کر چلے گئے۔ بدقسمتی سے وہ آدمی جس نے اس عورت کے شوہر کو یہ مشورہ دیا تھا اس کا بیٹا اس روز گھر نہیں پہنچا تو وہ بہت پریشان ہوا اور اس عورت کے شوہر کے گھر آیا اور کہا, وہ مشورہ جو میں نے تمہیں دیا تھا کیا تم نے اس پر عمل کیا؟ اس آدمی نے کہا, ہاں۔ تو اس نے کہا اس مقتول آدمی کو دکھاؤ۔ جب وہ جنازے کے سرہانے آیا تو اس نے اپنے بیٹے کو پایا جو اسی کے مشورے سے قتل کیا گیا تھا۔ پس وہ اس بات کا مصداق ٹھہرا کہ جو اپنے بھائی کے لیے کنواں کھودے گا خدا خود اسے اس کنویں میں گرا دے گا۔

منافقت اور تضاد بھی د ھوکا ہے

رسول خدا ص فرماتے ہیں:

جو منافق ہے وہ قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کی دو زبانیں ہوں گی، ایک پیچھے کی طرف اور دوسری آگے کی طرف, دونوں لٹکتی ہوں گی, اور ان سے آگ کی اس قدر لپٹیں نکلتی ہوں گی کہ اس کے تمام بدن میں آگے لگ جائے گی، اس کے بعد کہا جائے گا کہ یہ وہ شخص ہے جو دُنیا میں منافق تھا اور متضاد باتیں کرتا تھا، قیامت میں بھی دو چہرے اور آگ کی دو زبانیں رکھتا ہے۔ (وسائل الشیعہ کتاب حج باب 143)

امام محمد باقر ع سے روایت ہے:

وہ شخص کتنا بُرا ہے جو منافقت اور تضاد رکھتا ہے۔ اپنے بھائی کے سامنے اس کی تعریف کرتا ہے اور پیٹھ پیچھے اسے بُرا کہتا اور اس کا گوشت کھاتا ہے (یعنی اس کی غیبت کرتا ہے)۔ اگر بھائی کو نعمت ملتی ہے تو اس سے جل جاتا ہے اور اگر وہ پریشان ہو جاتا ہے تو اسے چھوڑ جاتا ہے اور اس کی مدد نہیں کرتا۔ (کافی)

حضرت امام جعفر صادق ع فرماتے ہیں:

جو کوئی مسلمانوں سے منافقت اور تضاد برتے گا جب قیامت میں آئے گا تو اس کی آگ کی دو زبانیں ہوں گی۔ (کافی)

منا فقت اور تضا د کیا ہے؟

  1. دو زبان آدمی یعنی وہ شخص جو دو متضاد باتیں کہتا ہے اور موقع کے مطابق دُنیاوی فائدہ حاصل کرنے کے لیے اور بے ضرورت بھی مختلف باتیں کرتا ہے۔ مثلاً ایک چیز کا اقرار کرتا ہے بعد میں اس سے انکار کر دیتا ہے یا کسی بات کی گواہی دیتا ہے پھر اس کے خلاف بیان دے دیتا ہے یا کسی کے سامنے اس کی تعریف کرتا ہے پیٹھ پیچھے اسے بُرا کہتا ہے۔
  2. منافق اور دو زبان آدمی یعنی وہ شخص جو دو آدمیوں کے پاس آتا جاتا ہے اور ہر ایک سے اس کے مطابق بات کرتا ہے اور یہی منافقت ہے۔
  3. اگر کوئی شخص دو ایسے آدمیوں میں سے ایک کی بات دوسرے سے جا کر لگاتا ہے اور دوسرے شخص کی بات پہلے شخص سے, جو آپس میں دشمنی رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے پیٹھ پیچھے خلاف اور نامعقول باتیں کرتے رہتے ہیں, تو یہ دو زبانی ہو گی اور یہ چغل خوری سے بدتر ہے کیونکہ چغل خوری صرف وہ بات جا کر دہرانا ہے جو کسی نے دوسرے شخص کے بارے میں کہی۔
  4. جو دو آدمی آپس میں دشمن ہیں ان میں سے ہر ایک سے ملاقات کے وقت اس کے دشمن اور مخالف کے مقابلے میں اس کی تعریف کرے تو یہ بھی دو زبانی ہو گی۔
  5. ایسے دو آدمیوں میں سے ہر ایک سے دوسرے کے مقابے میں ساتھ دینے اور مدد کرنے کا وعدہ کرے تو یہ بھی دو زبانی ہے۔ غرض ایسے تمام موقعوں پر اس شخص کو منافق اور دو زبان کہتے ہیں۔

واضح رہے کہ ایسے دو شخصوں میں سے ہر ایک سے جو آپس میں دشمن ہیں ایک کی بات دوسرے کے سامنے دہرائے بغیر رفاقت اور دوستی اظہار کرنے، اس کی تعریف کرنے اور مدد کا وعدہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور یہ دو زبانی نہیں ہے۔

ملاوٹ بھی لوگوں کے ساتھ دھوکا ہے

لوگوں کے ساتھ دھوکے کی ایک قسم لین دین میں ملاوٹ بھی ہے بکری کی چیز میں کوئی دوسری جنس اس طرح ملانا کہ ظاہر نہ ہو ملاوٹ کہلاتا ہے مثلاً دودھ میں پانی ملانا یا اچھی اور بُری چیزوں کو ملا کر اچھی بنا کر بیچنا۔ (لین دین میں ملاوٹ اگرچہ حرام ہے لیکن بعض صورتوں میں لین دین صحیح رہتا ہے۔ وضاحت کے لیے رسالہ توضیح المسائل ملاحظہ فرمائیں)

امام محمد باقر ع فرماتے ہیں: رسول خدا کا مدینے کا بازار میں کھانے کی ایک جنس (گیہوں یا جَو) پر سے گذر ہوا تو آپ نے اس کے مالک سے کہا: اچھی جنس ہے، اس کی قیمت کیا ہے؟ آپ کو الہام ہوا تو آپ نے اس کے بیچ میں ہاتھ ڈال کر مٹھی بھر جنس باہر نکالی۔معلوم ہوا کہ بیچ میں خراب ہے اور اوپر سے اچھی ہے۔ رسول خدا نے اس سے فرمایا: تُو نے مسلمان سے بے ایمانی اور ملاوٹ کرنے کو یکجا کر دیا۔ (وسائل الشیعہ کتاب تجارت باب 115)

آپ ص نے یہ بھی فرمایا:

جو کوئی کسی مسلمان کے ساتھ مول لینے یا بیچنے میں ملاوٹ کرتا ہے وہ مسلمان نہیں ہے اور وہ قیامت میں یہودیوں کے ساتھ اُٹھایا جائے گا کیونکہ مسلمانوں کے ساتھ سب سے زیادہ یہودی ہی ملاوٹ کرتے ہیں۔
جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ ملاوٹ کرنے کا خیال دل میں لے کر سو جاتا ہے وہ خدا کی ناخوشی میں سو جاتا ہے اور صبح کو اٹھتا ہے تو بھی بدستور خدا کے غضب اور ناخوشی میں اس وقت تک رہتا ہے جب تک توبہ نہیں کر لیتا اور ملاوٹ سے دست بردار نہیں ہو جاتا اور اگر اسی حالت میں مر جاتا ہے تو وہ دین اسلام پر نہیں مرتا۔ اس کے بعد آپ نے تین بار فرمایا: جان لو کہ جو مسلمانوں سے ملاوٹ کرتا ہے وہ مسلمان نہیں ہے اور جو کوئی اپنے مسلمان بھائی سے ملاوٹ کرتا ہے خدا اس سکے رزق سے برکت اُٹھا لیتا ہے، اس کی روزی کا راستہ بند کر دیتا ہے اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ (وسائل الشیعہ کتاب تجارت باب 115)

امام جعفر صادق ع نے ایک شخص سے فرمایا جو آٹا بیچا کرتا تھا:

ملاوٹ کرنے سے بچنا کیونکہ جو کوئی دوسرے سے ملاوٹ کرے گا خود اس کے مال میں بھی ملاوٹ ہو جائے گی اور اگر مال نہیں ہو گا تو اس کے اہل وعیال کے ساتھ ملاوٹ ہو گی۔ (وسائل الشیعہ کتاب تجارت باب 115)

مہنگا بیچنا بھی د ھوکا ہے

لین دین میں ملاوٹ کرنے کی طرح غبن کرنا بھی ہے اور وہ بیچنے والے کا قیمت میں دھوکا دینا ہے یعنی کسی چیز کو اس کی اصلی قیمت سے زیادہ قیمت پر اس شخص کے ہاتھ بیچنا ہے جو اس سے بے خبر ہے۔ امام جعفر صادق ع فرماتے ہیں:

مومن کو لین دین میں دھوکا دینا حرام ہے۔
جو تجھ پر اعتبار کرتا ہے اسے دھوکامت دے کیونکہ اسے دھوکا دینا حلال نہیں ہے۔
کسی ایسے شخص کو دھوکا دینا اور زیادہ قیمت پر مال بیچنا جو اصلی قیمت سے بے خبر ہے سحت ہے۔ (وسائل الشیعہ کتاب تجارت اخیار باب 16)

متعلقہ تحاریر