ظالموں کی مدد کرنا اور ان سے رغبت

گناہان کبیرہ ۔ شھید آیۃ اللہ عبدالحسین دستغیب شیرازی 23/05/2022 537

یہ وہ گناہ ہے کہ جس کے بارے میں خداوند عالم نے قرآن مجید میں عذاب کا وعدہ کیا ہے:

وَلَا تَرْكَنُوٓا۟ إِلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ فَتَمَسَّكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنْ أَوْلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ  (ھود ۔ 115)
اور جو لوگ ظالم ہیں، ان کی طرف مائل نہ ہونا، نہیں تو تمہیں آگ آلپٹے گی اور خدا کے سوا تمہارے اور دوست نہیں ہیں, اور نہ تم مدد دیئے جاؤ گے.

تفسیر منہج الصادقین میں لکھا ہے رکون یعنی جس سے اس آیہ شریفہ میں منع کیا گیا ہے۔ اس سے مراد میل یسیر ہے یعنی تھوڑا سا بھی ایسے لوگوں کی طرف مائل ہونا جنہوں نے اپنے اوپر یا دوسروں پر ظلم کیا ہو۔ مثلاً عزت سے ان کا ذکر کرنا ان سے باہم میل ملاپ کرنا ان سے محبت کا اظہار کرنا اور ان کے تحائف کی طرف طمع رکھنا ان کی تعریف کرنا اور ان کے حکم کی اطاعت کرنا یہ تمام باتیں ان کی طرف مائل ہونے میں آتی ہیں۔ امام جعفر صادق ع نے اس آیہ کریمہ کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا:

کہ اگر کوئی شخص کسی بادشاہ کے پاس آئے پس وہ اسکے زندہ رہنے کو صرف اتنی دیر کے لئے پسند کرے کہ بادشاہ اپنے تھیلے میں ہاتھ ڈال کر کچھ رقم اسے دے۔ (وسائل کتاب تجارت ب 44)

حضرت رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:

اگر کوئی شخص کسی ظالم کو درازی عمر کی دعا دے تو گویا ایسا ہے کہ وہ روئے زمین پر خدا کی مخالفت کو پسند کرتا ہے۔ ( منہج الصادقین ج 4)

ظالم کی مدد کرنے والا ایسا ہے کہ جیسے اس نے اہم ترین واجبات خدا یعنی برائی سے روکنے کو ترک کیا بلکہ وہ حقیقت میں منافق ہو گیا کیونکہ اس نے برائی کا حکم دیا اور یہ چیز منافقین کی صفات میں سے ہے چنانچہ خداوند عالم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

ٱلْمُنَـٰفِقُونَ وَٱلْمُنَـٰفِقَـٰتُ بَعْضُهُم مِّنۢ بَعْضٍۢ ۚ يَأْمُرُونَ بِٱلْمُنكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمَعْرُوفِ  (برائت ۔ 67)
تمام منافق مرد وعورت آپس میں ایک ہی ہیں، یہ بری باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بھلی باتوں سے روکتے ہیں

رسول خدا ص نے شب معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

جہنم کے چوتھے دروازے پر یہ تین جملے لکھے ہوئے تھے, خدا اس شخص کو ذلیل اور رسوا کرتا ہے جو اسلام کو رسوا کرے, اہلبیت کو رسوا کرے, جو ظالم کی اس کے ظلم میں مدد کرے۔ (تجارت مستدرک باب 35)

امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام فرماتے ہیں:

ظالموں کے کاموں میں شرکت کرنا اور ان کے مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کرنا اور ان کی مدد کرنا کفر کے برابر اور جانتے بوجھتے ہوئے ان کی طرف دیکھنا گناہان کبیرہ میں سے ہے اور وہ جہنم کا مستحق ہے۔ (وسائل الشیعہ کتاب تجارت ب 45 ج 14)

ظالموں کی اقسام

ظلم سے مراد احکام خدا سے رو گردانی کرنا اور وہ چیز جوعقل و شرع نے متعین کی ہے اس کی مخالفت کرنا اور اس کی دو قسمیں ہیں۔

  1. حدود الہٰی سے تجاوز کرنا انسان کا مشرک ہونے کے برابر ہے۔ جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے:
    إِنَّ ٱلشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (لقمان ۔ 13)
    بے شک شرک ظلم عظیم ہے۔
  2. یا خدا کی آیات کو جھٹلانا جیسا کہ قرآن مجید میں خدا کا ارشاد ہے:
    وَٱلْكَـٰفِرُونَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ (بقرہ ۔ 254)
    اور کفر کرنے والے لوگ ظالم ہیں

بطور کلی وہ حکم شرعی کہ جس پہ عقلاً و شرعاً اعتقاد رکھنا واجب ہے, اسے قبول نہ کرنا اور اس پر یقین نہ رکھنا ظلم ہے۔ اور اس کے علاوہ مثلاً احکام الہٰی سے رو گردانی کرنا یا یہ کہ واجب کو ترک کرنا اور حرام کا ارتکاب کرنا یہ سب ظلم ہے۔ چنانچہ ارشاد رب العزت ہے:

وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ (بقرہ ۔ 229)
جو حدود الہٰی سے تجاوز کرتے ہیں پس وہی ظالمین ہیں

یعنی ان تمام موارد میں خود ہی انسان نے اپنے اوپر ظلم کیا, جیسا کہ فرمان خدا ہے:

فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِۦ (فاطر ۔ 32)
یہ خود اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں۔

کسی دوسرے شخص کے بارے میں حدود الہٰی سے تجاوز کرنا یعنی کسی شخص کو جسمانی لحاظ سے تکلیف دینا مثلاً مارنا قتل کرنا قید کرنا یا کسی کی بے عزتی کرنا مثلاً گالی دینا، غیبت کرنا، تہمت لگانا اس کی توہین کرنا یا کسی کے مال پر ناجائز قبضہ کرنا مثلاً کسی کا مال اس کے مالک کی اجازت کے بغیر لے لینا یا کسی صاحب حق کو اس کا حق نہ دینا اور اسی طرح غصب کی دوسری اقسام ہیں جن میں سب سے بڑا گناہ مقام و منصب ولایت پر قبضہ کرنا ہے جبکہ واضح طور پر اہل بیت ہی اس کے مستحق تھے جسے ظالم خلفا بنی امیہ و بنی العباس نے غصب کیا اور اسی طرح اس کی دوسری مثال غیر عادل مجتہد کا کرسی قضاوت پر بیٹھنا ہے۔

ظالم کی ظلم میں مدد کرنا

وہ ظالم کہ ظلم کرنا جس کا پیشہ ہو اس کے ظلم میں مدد کرنا بغیر کسی شک کے گناہان کبیرہ میں سے ہے۔ مثلاً کسی مظلوم کو مارنے کے لئے اس کے ہاتھ میں تازیانہ دینا یا کسی مظلوم کو پکڑنا تا کہ اسے مارے، قتل کرے یا قید کر دے اور کسی بھی طرح ظالم کے ظلم میں مدد کرنا حرام ہے۔ شیخ انصاری علیہ الرحمہ مکاسب میں فرماتے ہیں ظالموں کی ان کے ظلم میں مدد کرنا چار دلیلوں, جو کہ احکام ثابت کرنے کا ذریعہ ہیں (یعنی قرآن، عقل، سنت اور اجماع) سے ثابت اور گناہان کبیرہ میں سے ہے۔

دلیل عقلی یہ ہے کہ اگر کوئی ظالم کی مدد کرنے والا نہ ہو اور اس صورت میں ظالم ظلم نہ کر سکے تو عقل یہ حکم دیتی ہے کہ اس کی مدد کرنا حرام ہے۔ اور عقل ظالم کی مدد کرنے والے کو اور ظالم دونوں کو ان کے برے کردار اور اعمال کی جواب دہی کے لحاظ سے برابر سمجھتی ہے۔ علی بن ابی حمزہ کہتے ہیں کہ بنی امیہ کے کاتبوں میں میرا ایک دوست تھا اس نے مجھے کہا کہ میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے ملنا چاہتا ہوں۔ امام کی خدمت میں حاضر ہونے کے بعد اس نے سلام کیا اور کہا میں آپ پر قربان جاؤں میں بنی امیہ کے دربار میں تھا اور ان کے ذریعے مجھے بہت سا مال ملا اس مال کے حصول کے لئے میں نے حلال و حرام کی پرواہ نہیں کی۔ امامؑ نے فرمایا اگر بنی امیہ میں ایسے لوگ نہ ہوتے جو ان کے لئے کتابت کرتے ان کے مال کو جمع کرتے اور ان کے دشمنوں سے جنگ کرتے اور انکی جماعت میں حاضر ہوتے تو یقینا وہ ہمارے حق کو غصب نہیں کرسکتے تھے۔ اور اگر لوگ انہیں ان کے حال پہ چھوڑ دیتے تو جو کچھ ان کے پاس تھا اس کے علاوہ انہیں کچھ نہ ملتا۔ اس کے بعد اس مرد نے کہا میں آپ پر قربان جاؤں آیا میں نے جو کچھ کیا ہے کیا میرے لئے نجات ہے؟ امام نے فرمایا اگر میں بتاؤں تو کیا عمل کرو گے کہا۔ جی ہاں امام نے فرمایا جو بھی مال تم نے وہاں رہتے ہوئے حاصل کیااسے الگ کر دو۔ اگر صاحبان حق میں سے کسی کو جانتے ہو تو اس کا حق ادا کرو اور جس کو نہیں جانتے تو اس کی طرف سے صدقہ دو, تاکہ میں اس بات کی ضمانت دے سکوں کہ خدا تمہیں بہشت میں داخل کرے گا۔ علی بن ابی حمزہ کہتے ہیں کہ اس جوان نے تھوڑی دیر کے لئے اپنے سر کو جھکایا اس کے بعد کہا۔ میں آپ پر قربان جاؤں جو کچھ آپ نے فرمایا ہے, اس پر عمل کروں گا۔ اور اس کے بعد ہمارے ساتھ کوفہ آگیا اور جو کچھ اس کے پاس تھا جس طرح آپ نے فرمایا تھا اس کے صاحب کو لوٹا دیا اور باقی کو صدقہ کر دیا یہاں تک کہ جو لباس پہنا ہوا تھا وہ بھی دے دیا اس کے بعد میں نے اپنے ساتھیوں سے کچھ رقم لے کر اس کے لئے لباس خریدا اور اسکے لئے خرچہ بھیجا اور کچھ مہینے بعد وہ بیمار پڑگیا ایک دن میں اسکی عیادت کے لئے گیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ جان کنی کے عالم میں ہے اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور کہا اے علی بن ابی حمزہ, خداکی قسم تمہارے امام نے جو وعدہ کیا تھا پورا کیا اس کے بعد وہ مرگیا۔ پس میں نے تجہیز و تکفین کے بعد اسے دفن کیا اور اسکے بعد میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں مدینہ آیا امام نے فرمایا اے علی میں نے وہ وعدہ وفا کیا جو تمہارے ساتھی کے ساتھ کیا تھا۔ میں نے کہا میں آپ پر قربان جاؤں آپ سچ فرماتے ہیں کیونکہ مرتے وقت میرے ساتھی نے بھی یہی کہا تھا۔(وسائل کتاب تجارت ب 76)

اجماع کے لحاظ سے فقہی کتابوں کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ظالم کی اس کے ظلم میں مدد کرنا تمام فقہاء کے نزدیک حرام ہے اور یہ اجماعی مسئلہ ہے۔ اور قرآن میں فقط ولا ترکنوا الی الذین ظلموا کی آیت ظالم کی اس کے ظلم میں مدد کرنے کی حرمت کے لئے کافی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جب ظالم کی طرف تھوڑا سا بھی مائل ہونا حرام ہو تو یقینا ظلم میں اس کی مدد کرنا بطریق اولیٰ حرام ہوگا کیونکہ ظالم کی مدد کرنا اس کی طرف مائل ہونے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ ارشاد خدا ہے۔

وَلَا تَعَاوَنُوا۟ عَلَى ٱلْإِثْمِ وَٱلْعُدْوَٰنِ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ (مائدہ ۔ 2)
اور گناه اور ﻇلم و زیادتی میں مدد نہ کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ سخت سزا دینے واﻻ ہے۔

رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

اگر کوئی ظالم کے ساتھ اس کی مدد کرنے جائے حالانکہ وہ یہ جانتا ہو کہ یہ ظالم ہے تو یقینا وہ دین اسلام سے خارج ہو گیا (مجموعہ ورام جز اول)

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

جب قیامت برپا ہوگی ایک منادی یہ ندا دے گا۔ ظالم اور ظالموں کی مدد کرنے والے اور ظالموں کی مانند لوگ کہاں ہیں۔ یہاں تک اگر کسی نے ظالم کے لئے قلم یا سیاہی کی دوات بنائی ہو تاکہ وہ ظلم کا حکم لکھ سکے پس ان تمام لوگوں کو ایک لوہے کے تابوت میں جمع کیا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ (وسائل ج 14)

حضرت رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

اگر کوئی شخص کسی ظالم بادشاہ کے حضور تازیانہ لٹکا دے تاکہ وہ اس سے مظلوم کو مارے تو خدا وند عالم اس تازیانے کوستر ہزار گز لمبے سانپ کی صورت میں بدل دے گا اور اس سانپ کو جہنم کی آگ میں ہمیشہ اس پر مسلط رکھے گا۔ (وسائل کتاب تجارت ج 14)

اس کے علاوہ آپؐ نے فرمایا:

اگر کوئی ظالم کے لڑائی جھگڑے کے (معاملے)کو اپنے ہاتھ میں لے اور ظالم کی مدد کرے تو موت کے وقت فرشتہ اجل اس کو لعنت خدا اور جہنم کی نوید دیتا ہے جو بری جگہ ہے۔ اور اگر کوئی ظالم کی ظلم وستم کی طرف راہنمائی کرے تو وہ ہامان (فرعون کے وزیر) کے ساتھ محشور ہوگا اور اس کا عذاب دوسرے دوزخیوں سے زیادہ سخت ہوگا, اور اگر کوئی شخص اپنے کسی مومن بھائی کی بادشاہ کے سامنے چغلی کرے, اور اگرچہ بادشاہ کی طرف سے اس مومن کو کچھ بھی نہ کہا جائے اور نہ ہی کوئی اذیت دی جائے تو خداوند عالم اس چغل خور کے سب نیک اعمال ضائع کردے گا لیکن اگر بادشاہ کی طرف سے اس مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو تو خداوند عالم اس چغل خور کو جہنم کے اس طبقے میں رکھے گا جہاں ہامان ہے۔ (وسائل ج 12)

ظالم کی تعریف کرنا بھی حرام ہے

ظالم کی اس طرح تعریف کرنا جو کہ اس کی قوت وشان شوکت کا باعث ہو اور وہ زیادہ ظلم کرسکے یا یہ کہ اس کی تعریف کرنا ظالم کو اور جری بنا دے اور اس سلسلے میں جو دلیلیں پہلے گزرچکی ہیں اور اس کے علاوہ نہی عن المنکرکے لئے جو دلائل پیش کئے جاتے ہیں سب اس کے گناہ کبیرہ ہونے کو ثابت کرتے ہیں۔ حضرت رسول خد ا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے مروی ہے:

اگر کوئی ظالم بادشاہ کی تعریف کرے یا لالچ میں آکر اپنے آپ کو اس سے چھوٹا اور پست ظاہر کرے تو وہ جہنم کی آگ میں اس کے ساتھ ہوگا۔ (وسائل ج 14)

نیز آپؐ نے فرمایا:

جب بھی کسی فاسق کی تعریف کی جاتی ہے تو عرش خدا لرز نے لگتا ہے اور خدا کا غضب تعریف کرنے والے کو گھیرلیتا ہے۔ (سفینة البحار ج 1)

ظالم کی طرف سے منصب قبول نہیں کرنا چاہئے

ظالم کی مدد کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ اس کی طرف سے کسی مقام و منصب کو قبول کرنا ہے بے شک وہ مقام و منصب کسی قسم کے ظلم کا باعث نہ ہو, مثلاً نظم و ضبط و امن و امان کی حفاظت کرنا۔ چہ جائیکہ اس مقام کا لازمہ ہی ستم کرنا ہو۔ مثلاً ظالم کی طرف سے ظلم و ستم کے ذریعے لوگوں کے اموال چھین لینے پر مامور ہونا اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسری صورت میں گناہ شدید اور اس کا عذاب بہت سخت ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

حرام منصب، ظالم حاکم کا منصب اور ان لوگوں کامنصب ہے جو ظالم کی طرف سے کاموں میں مصروف ہیں تو پس اس عہدے کے لئے اس کا کام انجام دینا حرام ہے۔ اور اس کا کام کرنے کی وجہ سے وہ شخص عذاب میں مبتلا ہوگا۔ چاہے وہ کام تھوڑا ہو یا زیادہ لیکن ایسا ہر کام کے جس میں ظالم کی مدد کی ہو ایک بڑاگناہ اور گناہان کبیرہ میں سے ہے۔ کیونکہ ظالم کی طرف سے کوئی منصب قبول کرنا۔  حقوق پامال ہونے، باطل ظاہر ہونے، ظلم وفساد آشکار ہونے، اور آسمانی کتابیں ختم ہونے، پیغمبروں کے قتل ہونے، مساجد کے برباد ہونے اور احکام دینی میں تبدیلی کا سبب ہوگا اسی وجہ سے ان کے ساتھ کام کرنا حرام اور انکی مدد کرنا حرام ہے۔ سوائے مجبوری وناچاری کی صورت میں مثلاًخون پینے اور مردے کا گوشت کھانے کی نوبت آجائے۔ (تحف العقول)

اس کے علاوہ آپؑ نے فرمایا:

ایسے لوگوں کو جو ظالموں کے لئے کسی کام کو قبول کریں روز قیامت خداوند عالم جو سب سے معمولی سزا دے گا وہ یہ ہے کہ انہیں آگ کے پاس اس وقت تک کھڑا رکھے گا جب تک کہ سارے لوگوں کا فیصلہ نہ ہوجائے۔

صحیحہ داوزربی میں ہے کہ اس نے کہا کہ امام سجاد علیہ السلام کے دوستوں میں سے کسی نے مجھے یہ خبر دی اور کہاکہ میں نے امام سے عرض کیا کہ داود بن علی (حاکم مدینہ) سے یا دوسرے اراکین حکومت سے میری سفارش کریں تاکہ وہ مجھے مقام ومنصب دیں۔ امام ع نے فرمایا میں ایسا کام ہر گز نہیں کروں گا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ شاید امام کا اس سلسلے میں کوئی اقدام نہ کرنے کاسبب یہ ہو کہ امام اس بات سے خوفزدہ ہوں کہ کہیں مجھ سے کوئی ظلم وستم سرزد نہ ہو۔ پس میں امام کی خدمت میں حاضر ہوا اور بڑی بڑی قسمیں کھائیں اور عہد کیا کہ میں کوئی ظلم نہیں کروں گا۔ اور لوگوں کی مدد کے علاوہ کوئی کام انجام نہیں دوں گا۔ پس امام نے آسمان کی طرف رخ کیا اور رونے لگے اور فرمایا کہ آسمان پر جانا اس کام سے زیادہ آسان ہے۔ ظاہراً امام کے اس فرمان کا مطلب یہ تھا کہ ظالم کی طرف سے منصب قبول کرنے کے بعد انسان ظلم نہ کرے اور تمام حالات میں عدل وانصاف سے کام لے یہ محال ہے۔

وہ موارد جہاں پر حکومت قبول کرناجائز ہے۔

دو مقامات پر ظالم کی طرف سے کوئی مقام ومنصب قبول کرنا جائز ہے بلکہ بعض اوقات واجب ہوجاتا ہے۔ مورد اول بے چارگی، جبر یا تقیہ کی صورت میں اگر ظالم کی طرف سے قبول نہ کرے تو جان ومال یا عزت و آبرو خطرے میں ہو۔ اس قسم کی ولایت اضطراری قبول کرنے کے سلسلے میں عمومی اور خصوصی بہت سی دلیلیں ہیں۔ جیسا کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا ارشاد ہے:

جس چیز کے بارے میں میری امت پر جبر کیا جائے اور وہ مجبور ہوتواس سے کوئی مواخذہ نہیں کیا جائیگا۔ (کتاب خصال)

اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

کوئی چیز ایسی نہیں کہ جسے خداوندعالم نے مجبور کے لئے حلال نہ کیا ہو۔ (وسائل الشیعہ)

امام علی رضا علیہ السلام سے وسائل الشیعہ میں روایت نقل کی گئی ہے کہ ان کا ماموں الرشید کی طرف سے ولایت ومنصب کو قبول کرنا جبر اورتقیہ کی وجہ سے تھا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے ظالم بادشاہ کے لئے کام کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:

جائز نہیں مگر یہ کہ انسان کھانے پینے کی چیزیں کسی کے ذریعے سے بھی حاصل کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو اور جان کا خوف ہو۔ اور قوت لا یموت صرف بادشاہ کے کسی کام کو قبول کرنے پر منحصر ہو تو جائز ہے۔ پس اگر ظالم حاکم کے ذریعے اس تک کوئی مال پہنچے تو چاہیئے کہ اس کے خمس کو اہل بیت تک پہنچائے۔

جائز ہونے کے موارد میں دوسری قسم یہ ہے کہ بعض ایسے عہدوں کو قبول کرنا جس کے ذریعے کوئی ظلم و ستم سرزد نہ ہو مثلاً فوجی و ملکی عہدے کہ جن کے ذریعہ ملک میں امن و امان اور نظم و ضبط کی حفاظت، راستوں اور مسلمانوں کی سرحدوں کی نگہبانی اور اسی طرح کی دوسری ذمہ داریاں کہ جن کا مقصد صرف مسلمانوں کے مصالح اور مظلوموں کی خبر گیری ہو اور مومنوں کی مدد کرنا اور صاحب حق کو اس کا حق پہنچانا ہو تو ایسے منصب کو قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ خلاصہ یہ کہ اس قسم کے عہدوں کو ظالم کی طرف سے قبول کرنا اس ارادے سے کہ عدل کا پرچار ہو اور مومنین کے ساتھ احسان کیا جائے تو نہ صرف جائز بلکہ زیادہ مستحب ہے۔

زیاد بن ابی سلمہ کہتا ہے کہ میں امام موسیٰ بن جعفر کی خدمت میں حاضر ہوا تو امام نے مجھ سے فرمایا کہ تم حکومت کے ملازم ہو۔ میں نے کہا جی ہاں امام نے فرمایا کیوں ؟ میں نے عرض کی میں صاحب مروت اور احسان کرنے والا اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے والا ہوں اور اس طرح کہ میں اسے چھوڑ نہیں سکتا اس کے علاوہ یہ کہ میں بال بچوں والا ہوں اور اپنے اخراجات پورے کرنے کا کوئی ذریعہ میرے پاس نہیں۔ امام نے فرمایا اے زیاد اگر مجھے پہاڑی کی بلند و بالا چوٹی سے گرادیا جائے اور میں ٹکڑے ٹکڑے ہوجاؤں تو مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے بہ نسبت اس کے کہ میں ایسے لوگوں کا کوئی کام انجام دوں یا ان میں سے کسی کے گھر میں قدم رکھوں صرف ایک صورت کے علاوہ, جانتے ہو وہ صورت کیا ہے؟ میں نے کہا میری جان آپ پر فدا میں نہیں جانتا۔ امام نے فرمایا سوائے اس کے کہ مومنین کو غم واندوہ سے نجات دلاوں یا کسی قیدی مومن کو آزاد کراوں یا مومن کے قرض کو ادا کروں۔ اس کے بعد فرمایا, اے زیاد, اگر ظالموں کی طرف سے تمہیں کوئی عہدہ ملے تو اپنے مومن بھائیوں کے ساتھ نیکی کرو تاکہ ان لوگوں کے کاموں میں مصروف رہنے کے باعث جس گناہ کا تم سے ارتکاب ہو اس کی تلافی ہوسکے۔

فضل بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے امام موسیٰ بن جعفر کو لکھا: کہ مجھے حکومت میں ملازمت کرنے کی اجازت دیجئے۔  اما م نے فرمایااگر تم احکام الہی میں سے کسی حکم میں تبدیلی پیدا نہ کرو حدود الہی کی کسی حد کو باطل نہ کرو تو کوئی حرج نہیں اور تمہارے عمل کا کفارہ تمہارا اپنے مومن بھائیوں کی حاجت کو پورا کرنا ہے۔ (مستدرک الوسائل)

علی بن یقطین جو کہ ہارون کے وزیر اعلیٰ تھے امام موسی بن جعفر علیہ السلام کو لکھا, مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس عہدے سے مستعفی ہوجاوں۔ امام نے ان کے جواب میں لکھا کہ میں تمہارے لئے جائزنہیں سمجھتا کہ تم نظام حکومت سے علیحدہ ہوجاؤ۔ کیونکہ خداوندعالم کے لئے ظالموں کے دربار میں وہ لوگ ہیں جن کے ذریعے سے خدا اپنے دوستوں سے مصیبتوں کو دور کرتا ہے۔اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہیں خداوند عالم نے ا ٓتش جہنم سے آزاد قرار دیا ہے۔ چنانچہ اپنے بھائیوں کے سلسلے میں اللہ سے ڈرے رہو۔ (مستدرک وسائل باب ۳۹)

محمد بن اسماعیل بزیع جو ہارون کے وزیروں میں سے تھے انہیں تین اماموں حضرت موسیٰ کاظم، حضرت علی رضا ع اور حضرت جواد علیہ السلام کی زیارت کا شرف حاصل ہوا اور اپنے کفن کے لئے امام جواد علیہ السلام سے ان کا پیراہن لیا۔ وہ امام رضا علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:

خداوند عالم کے لئے ظالموں کے دربار میں وہ لوگ ہیں کہ ان کے ذریعے اپنی حجت کو ظاہر کرتاہے اور انہیں شہروں پر مقرر کرتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کے سبب سے اپنے دوستوں کی پریشانیوں کو دور کرتا ہے اور ان کے ذریعے سے مسلمانوں کے کاموں کی اصلاح کرتا ہے۔ مومن سختی میں ان کے پاس پناہ لیتے ہیں اور انہی کے ذریعے ہمارے ضرورت مند شیعوں کی ضرورت پوری ہوتی ہے۔ اور خدا وند عالم ان کے وسیلے سے مومن کے خوف وگھبراہٹ کو ظالموں کے گھروں پر مقرر کردیتا ہے پس یہی حقیقی مومن ہیں جوخدا کی زمین پر اس کے امین ہیں یہاں تک کہ فرمایا۔ ان کو وہ مقام ومرتبہ مبارک ہو۔ اس کے بعد فرمایا کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ تم میں سے کوئی ایک ان تمام مراتب تک پہنچ جائے۔ محمد نے کہا میں آپ پر فدا ہوجاوں کس طرح انسان ان درجات تک پہنچ سکتا ہے۔ امام نے فرمایا ظالموں کے ساتھ ہوتے ہوئے ہمارے شیعہ مومنین کے دلوں کو خوش کریں جس سے ہم خوش ہوتے ہیں۔ اے محمد تم اس کے بعد ان لوگوں میں شمار ہوسکتا ہے جن کے درجات بلند ہیں۔ (بحارالانور ج 15 اور سفینة البحار ج ا)

ایک صورت میں حکومت یا کسی منصب کا قبول کرنا واجب ہے

بعض لوگوں کے لئے حکومت کا قبول کرنا اور بعض عہدوں پر فائز ہونا واجب ہوتا ہے لیکن وہ اس صورت میں کہ اگر کسی شخص کو یہ یقین ہو کہ اگر فلاں مقام ومنصب کو قبول کر لے تو مفاسد دینی میں سے ایک بہت بڑے مفسدہ کو ختم کرسکتا ہے یا غیر شرعی باتوں میں سے کسی ایک برائی کی روک تھام کرسکتا ہے لیکن ایسا موقع بہت کم ملتا ہے کیونکہ اس کی بنیادی شرط اپنے اطمینان پر ہے یعنی اس منصب کو قبول کرنے کے بعد کسی بھی طرح اس سے کوئی ظلم وستم یا جرم سرزد نہ ہو، اور عدل وانصاف اور احکام خدا کے خلاف کوئی کام نہ کرے اور ظاہر ہے کہ اس مقصد کوحاصل کرنا بہت دشوار ہے کیونکہ حکومت میں بہت بڑے بڑے خطرے پوشیدہ ہوتے ہیں اور ان سے اپنے آپ کو بچانا بہت مشکل ہوتاہے۔ امام جعفر علیہ السلام نے اھواز کے حاکم عبداللہ نجاشی کے خط کے جواب میں یہ تحریرفرمایا:

میں نے سنا ہے کہ تم نے اھواز کی حکومت سنبھال لی ہے۔ میں اس خبر سے خوش بھی ہوا اورغمزدہ بھی خوش اس لئے ہوں کہ امید ہے کہ خدا تمہارے وسیلے سے آل محمد کے دوستوں کی سختیوں اور پریشانیوں کو دور کرے گا اور انکی مدد فرمائے گا اور تمہارے ذریعے سے مخالفین کی آگ کو ان پر ٹھنڈا کرلے گا اور میں غمزدہ اس لئے ہوں کہ سب سے معمولی بات کہ جس وجہ سے میں تمہاری طرف سے ڈرتا ہوں کہ کہیں تم ہمارے دوستوں میں سے کسی کی پریشانی اور بے چینی کا سبب بنو اوربہشت کی خوشبو بھی تم تک نہ پہنچ سکے۔ (کتاب مکاسب محرمہ)

جناب پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) فرماتے ہیں:

وہ شخص جو کسی قوم کی رہبری کے عہدے پر فائز ہو تو روز قیامت اس طرح وارد ہوگا کہ دونوں ہاتھ اس کی گردن کے گرد بندھے ہوں گے پس اگر اس نے لوگوں کے درمیان احکام خدا کے مطابق عمل کیا تو اس کو خدا آزاد کر دے گا لیکن اگر ستم کیا ہو تو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا اور وہ بہت بری جگہ ہے۔ اور اگر کسی قوم کا رہبر لوگوں کے ساتھ انصاف اور نیکی کے ساتھ پیش نہ آئے تو اسے ہر اس دن کے مقابلے میں کہ جتنے عرصے تک اس نے حکمرانی کی ہزار سال جہنم کے کنارے کھڑا کیا جائے گا۔ اس حالت میں اس کے دونوں ہاتھ گردن کے پیچھے بندھے ہوں گے پس اگر اس نے امر الہیٰ کے مطابق عمل کیا ہو تو آزاد ہو جائے گا اور اگر ظلم کیا ہو تو ستر سال کی گہرائی تک جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (وسائل ج 14)

ظالم کی ظلم کے علاوہ کسی اور کام میں مدد کرنا

ظالم کی ظلم کے علاوہ کسی کام میں مدد کرنا مثلاً ظالم کی خدمت کرنا اس کے لئے سلائی کرنا یا عمارت بنانا یا اس کے خزانے اور دوسرے اموال کی رکھوالی کرنا اور اسی طرح کی دوسری چیز جن کی تین اقسام ہیں۔

  1. بعض اوقات یہ امور حرام کا سبب بنتے ہیں مثلاً ایسی زمین جو غصب کی گئی ہو مستری کو اس پر عمارت بنانے کا حکم دے یا وہ کپڑا جو جبراً لوگوں سے لے لیا گیا ہو درزی اس کے کپڑے سئیے یا لوگوں کے وہ اموال جو ان سے چھین لئے ہوں محافظ ان کی حفاظت کرے اور اسی طرح کے دوسرے امور۔ اس قسم کی مدد کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں کیونکہ غصب کی ہوئی چیز پر تصرف کرنا جبکہ انسان جانتا ہو حرام ہے چاہے وہ تصرف غصب کرنے والا کرے یا کوئی دوسرا۔
  2. ایسی صورت میں جبکہ اس طرح کے کام حرام تو نہ ہوں لیکن ظالم سے تعلق کی بنا پر عرف عام میں اسے ظالم کی مدد کرنے والوں میں شمار کیا جائے اور ظالم کی تقویت اور شان و شوکت کا باعث ہو اور اس کا نام ظالموں کی فہرست میں لکھا جائے اور حقوق غصب کرنے والوں میں اس کا شمار ہو تو بہت سی روایات سے واضح ہوتا ہے کہ یہ قسم حرام ہے۔ امام جعفر علیہ السلام فرماتے ہیں:
    اگر کوئی شخص اپنا نام بنی عباس کے دفتر میں لکھوائے تو روز قیامت وہ خنزیر کی صورت میں محشور ہوگا۔ (وسائل کتاب تجارت ب 42 ج 14)

    اور دوسری روایت میں فرماتے ہیں کہ سیاہ صورت کے ساتھ محشر میں وارد ہوگا۔ اس کے علاوہ آپ نے فرمایا:

    مسجد کی تعمیر میں ظالموں کی مدد نہ کرو۔ (وسائل کتاب تجارت ب 42ج 14)

    ابن ابھی یعفور کہتے ہیں کہ امام صادق کی خدمت میں تھا کہ اتنے میں آپ کے شیعوں میں سے ایک آدمی حاضر ہوا اور امام سے کہنے لگا میں آپ پر قربان جاؤں ہم میں سے بعض افراد کو کبھی معاشی لحاظ سے پریشانی اور تنگ دستی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اسی عالم میں بنی عباسی کی طرف سے عمارتوں کو تعمیر کرنے یا نہر کھودنے یا زراعت کا کام کرنے کے لئے ان افراد کو طلب کیا جاتا آپ اس سلسلے میں کیا فرماتے ہیں۔ امام نے فرمایا:

    میں ایک گرہ یا مشک کا منہ یا تھلے کا سرا بھی ان کے لئے باندھنے کو پسند نہیں کرتا۔ اگرچہ وہ اس کے بدلے مدینہ اور جو کچھ اس میں ہے مجھے دے دیں میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ مدہ قلم (یعنی وہ سیا ہی جو قلم کی نوک پر لگتی ہے) کے برابر بھی ان کی مدد کرؤں۔ بے شک روز قیامت ظالم لوگ آتش جہنم کے کنارے اس وقت تک کھڑے رہیں گے جب تک کہ خدا تمام لوگوں کا فیصلہ نہ کر دے۔

    محمد بن عذافر سے مروی ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے میرے والد عذافر سے فرمایا:

    مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ تم ابو ایوب اور ابو ربیع سے باہم لین دین کر رہے ہو۔ پس اس وقت تمہاری کیا حالت ہوگی جب ظالموں کی مدد کرنے والوں کی فہرست میں تمہارا نام بھی ہوگا۔ پس امام کا فرمان سننے کے بعد میرے والد غمزدہ و پریشان ہوگئے جب امام نے ان کی بے چینی دیکھی تو فرمایا اے عذافر میں نے تمہیں اسی بات سے ڈرایا ہے کہ جس سے خدا نے مجھے ڈرایا پس میرے والد مرتے دم تک غمزدہ رہے۔ (وسائل کتاب تجارت ب 42 ج 14)

    امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خدا پر لازم ہے کہ تمہیں اس جماعت کے ساتھ محشور کرے جس سے تم دنیا میں فائدہ اٹھاتے رہے۔ اس کے علاوہ آپ نے فرمایا کچھ وہ لوگ جو حضرت موسی پر ایمان لا چکے تھے اپنے آپ سے کہنے لگے کہ ہمیں چاہیئے کہ فرعون کے لشکر میں شامل ہوجائیں تاکہ ان سے دنیاوی فائدہ حاصل کر سکیں اور جب موسٰی فرعون پر فتح حاصل کر لیں تو ان کے ساتھ شامل ہو جائیں گے اور جس وقت حضرت موسٰی اپنے ساتھیوں کے ساتھ جو ان پر ایمان لیکر آئے تھے فرعونیوں سے بچ کر بھاگے تو یہ لوگ بھی جلدی سے سوار ہو کر روانہ ہوگئے تاکہ حضرت موسیٰ کے ساتھ شامل ہوجائیں لیکن اس وقت خداوند عالم جلّ جلالہ نے ایک فرشتہ بھیجا تاکہ ان کے سواری کے جانوروں کو مارے اور انہیں لشکر فرعون کی طرف دوبارہ لوٹا دے اور وہ انہی کے ساتھ غرق ہوگئے۔ (وسائل کتاب تجارت ب 44)

    اس کے علاوہ آپ فرماتے ہیں:

    خدا سے ڈرو اور اپنے دین کو تقیہ, بے نیازی اور اسکے فضل سے قوی کرو اور صاحب حکومت سے حاجت طلب کرنے سے بچو اور اگر کوئی انسان کسی دنیاوی شخص یا مذہب کے مخالف کے سامنے اس چیز کے لئے جو اسکے پاس ہے عجز و انکساری سے پیش آئے تو خدا اسے ذلیل و رسوا کرے گا اور اپنا دشمن رکھے گا اور اسے اسکے حال پر چھوڑ دے گا۔ پس اگر اس شخص کے ذریعے کوئی مال دنیا اس تک پہنچے تو خدا اس سے برکت اٹھا لے گا اور اگر وہ اس مال سے حج کرے یا غلام آزاد کرائے یا دوسرے نیک امور میں خرچ کرے تو اس کا ثواب نہیں ملے گا (کتاب کافی اور تہذیب جلد 6)
  3. تیسری قسم میں ایسے امور شامل ہیں جن میں کسی قسم کی حرمت کا پہلو نہیں اور نہ وہ ظالم کی تقویت کا سبب بنتے ہیں اور نہ ہی ان کاموں کی وجہ سے انسان کا شمار عرف عام میں ظالم کی مدد کرنے والوں میں ہوتا ہے۔ مثلاً یہ کہ اپنی گاڑی کو انہیں کرایہ پہ دینا یا ان سے جائز چیزوں کے اٹھانے کے لئے کرایہ پر لینا, مثلاً اشیاء خوردنی کو ایک شہر سے دوسرے شہر لے کر جانا اور مثلاً اسی طرح ایسے عملے کو جو اجرت لیکر ظالم کی عمارت تعمیر کر رہا ہو اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا اس قسم کا حرام ہونا مسلم نہیں ہے۔ لیکن بعض بزرگوں نے فرمایا ہے کہ سخت احتیاط کی بنا پر اسے ترک کرنا چاہیئے کیونکہ اس سلسلے میں پہلے جو روایات گذر چکی ہیں ان کا مطلق ہونا اس قسم کو بھی اپنے زمرہ میں شامل کرتا ہے اور ثانیاً انسان ایسے موارد میں ظالم کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔

صفوان جمال سے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا فرمانا

صفوان بن مہران جمال کوفی امام جعفر صادق اور امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام کے صحابیوں میں سے تھے۔ بہت متقی پرہیز گار انسان تھے اور اونٹوں کو کرائے پردینا ان کا ذریعہ معاش تھا۔ ان کے پاس بہت زیادہ اونٹ تھے وہ کہتے ہیں کہ میں ایک دن امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو امام نے فرمایا, اے صفوان تمہارے سارے کام اچھے ہیں سوائے ایک کام کے۔ میں نے کہا آپ پر قربان جاؤں وہ کونسا کام ہے؟ کہا تم اپنے اونٹوں کو اس مرد (ہارون الرشید) کو کرایہ پر دیتے ہو۔ میں نے عرض کی ان اونٹوں کو کرائے پر نہ لالچ نہ اپنی دولت کو زیادہ کرنے اور نہ ہی پرندوں کے شکار اور لہو و لعب کے لئے دیتا ہوں بلکہ خدا کی قسم جب وہ حج پر جاتا ہے تب دیتا ہوں اور اس کی خدمت کے لئے خود نگہبان نہیں بنتا بلکہ اپنے غلاموں کو اس کے ساتھ بھیجتا ہوں۔ امام نے فرمایا, آیا کرائے کی رقم نقد لے لیتے ہو یا اس پر اور اس عزیزوں پر رقم کی ادائیگی باقی رہتی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ رقم کی ادائیگی وہ واپس آکر کرتے ہیں امام نے فرمایا کہ کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ ہارون اور اسکے عزیز و اقارب تمہاری رقم کی ادائیگی تک زندہ رہیں؟ میں نے کہا جی ہاں تو امام نے فرمایا۔ جو بھی ان لوگوں کی بقا کو پسند کرتا ہے تو وہ انہی کی طرح ہے اور جو کوئی ان کے ساتھ محسوب ہو تو وہ دوزخ میں جائے گا۔ صفوان کہتے ہیں کہ امام کے فرمان کے بعد میں نے اپنے تمام اونٹوں کو بیچ دیا جب یہ خبر ہارون کو پہنچی تو اس نے مجھے طلب کیا اور کہا میں نے سنا ہے کہ تم نے اونٹوں کو بیچ دیا ہے میں نے کہا جی ہاں میں بوڑھا و ضعیف ہوگیا ہوں اور اونٹوں کی حفاظت نہیں کر سکتا اور میرے غلام بھی جس طرح حفاظت کرنی چاہیئے نہیں کر سکتے ہارون نے کہا ایسا نہیں ہے میں جانتا ہوں کہ تمہیں کس نے اس کام کے لئے آمادہ کیا ہے یہ کام موسیٰ بن جعفر کے اشارہ پر کیا ہے۔ میں نے کہا بھلا مجھے موسیٰ بن جعفر سے کیا مطلب اس نے کہا جھوٹ بولتے ہو اگر ماضی میں تمہارے ہم سے اچھے تعلقات نہ ہوتے تو تمہیں قتل کروادیتا۔ (وسائل الشیعہ کتاب تجارت ب 42 ج 12)

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

جو کوئی ظالموں کی بقا کو پسند کرتا ہے تو وہ زمین میں معصیت الہٰی کی بقا کو پسند کرتا ہے۔ (وسائل الشیعہ کتاب تجارت ب 44 ج 14)

ایسے ظالم کی مدد کرنا کہ ظلم جس کا پیشہ نہ ہو

ایسے ظالم کی مدد کرنا کہ ظلم جس کا پیشہ نہ ہو بلکہ اتفاقاً بعض اوقات اس سے کوئی ظلم صادر ہو اور وہ کسی پر ستم ڈھائے یعنی کسی کو ناحق قتل کرے یا اسکی بے عزتی کرے یا کسی کا مال نا حق لیکر اس کا حق ادا نہ کرے تو ایسے ظالم کی اس ظلم میں مدد کرنا بغیر کسی پیشہ کے حرام ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص جانتا ہو کہ یہ شخص اس مورد میں ظالم ہے اس کے باوجود اس کا مقصد پورا کرنے کے لئے اسکی مدد کرے تو یقینا حرام بلکہ گناہان کبیرہ میں سے ہے کیونکہ خود ظلم کرنا ایسے گناہوں میں سے ہے کہ جس کے بارے میں خداوند عالم نے قرآن میں عذاب کا وعدہ کیا ہے اور فرماتا ہے:

إِنَّآ أَعْتَدْنَا لِلظَّـٰلِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا ۚ وَإِن يَسْتَغِيثُوا۟ يُغَاثُوا۟ بِمَآءٍ كَٱلْمُهْلِ يَشْوِى ٱلْوُجُوهَ ۚ بِئْسَ ٱلشَّرَابُ وَسَآءَتْ مُرْتَفَقًا (کہف ۔ 29)
ہم نے ظالموں کے لئے ایسی آگ تیار کی ہے جو ان کو چاروں طرف گھیر لے گی اگر وہ پیاس کا اظہار کریں گے اور پانی چاہیں گے تو ایسا پانی جو انتہائی گرم اور کھول رہا ہوگا۔ انہیں دیا جائے گا جب وہ اسے اپنے منہ کے قریب لائیں گے تو ان کے چہروں کے گوشت بھون کر رکھ دے گا بہت برا پانی ہے۔ جو انہیں دیا جائے گا اور بہت بری جگہ ہے جہاں انہیں جگہ دی جائے گی۔

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

ظالم اور اس کی مدد کرنے والا اور اس ظلم پر راضی ہونے والا تینوں ظلم میں شریک ہیں۔ (کتاب تجارت ب 43)

امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کیا گیا ہے کہ حضرت رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

جو کوئی امام کے ساتھ کی گئی بیعت توڑے یا پرچم گمراہی کو بلند کرے یا ایسے علم کو چھپائے کہ جس کا ظاہر کرنا واجب ہو یا کسی کے مال پر ناحق قبضہ کرے یا ظالم کی اس کے ظلم میں مدد کرے حالانکہ جانتا ہو کہ وہ ظالم ہے۔ پس وہ دین اسلام سے خارج ہو گیا۔ (مستدرک الوسائل کتاب تجارت ابواب ما یکتسب باب 35)

ظلم کی روک تھام ضروری ہے

اگر کوئی مسلمان ظالم کو کسی دوسرے پر ظلم کرتا ہوا دیکھے اور ایسی صورت میں کہ اگر نہی از منکر کی تمام شرائط موجود ہوں تو اس پر واجب ہے اسے ظلم کرنے سے روکے چنانچہ حضرت رسول صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

اپنے بھائی کی مدد کرو چاہے وہ ظالم ہو یامظلوم۔ پوچھا گیا یا رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم مظلوم کی تو ہم مدد کریں گے لیکن ظالم کی مدد کس طرح کریں؟ فرمایا, اس کے لئے رکاوٹ بننا, اس کے ظلم کو روکنا مومن بھائی کی نصرت ہے۔ (انوار نعمانیہ ج 3)

نہی عن المنکر کی رو سے

ایسے ظالم کی اس کے ظلم کے علاوہ مدد کرنا کہ ظلم جس کا پیشہ نہ ہوتمام جہات سے مباح اور جائز ہے, لیکن اگر وہ شخص اور جری ہوجائے یعنی دوبارہ شدت سے ظلم کرے, یا اپنے کئے پر پیشمان نہ ہو اور اس ظلم سے توبہ نہ کرے تو اس وقت اس کی مدد کرنا حرام ہوجاتا ہے۔  خلاصہ یہ کہ نہی عن المنکر کے واجب ہونے سے ظالم کی اس کے دوسرے کاموں میں مدد کرنا حرام ہوجاتا ہے۔ لیکن اس کے دوسرے کاموں میں مدد کرنے کا ظلم سے (اثباتاً نفیا۔ ابتدا و استمراراً) معمولی سابھی تعلق نہ ہوتومدد کرنا حرام نہیں۔ اس بنا پر ظالم کی اس کے ظلم کے علاوہ مدد کرنا اگر نہی از منکر کے موارد میں نہ ہوتو حرام نہیں ہے۔

ایسے ظالم کی مدد کرنا کہ اس کا گناہ کسی دوسرے پر ظلم نہ ہو بلکہ خود اپنی ذات سے متعلق ہو مثلاً نماز اور روزے کو ترک کرنا، شراب پینا، زنا کرنا، جوا کھیلنا وغیرہ۔ بحث کے شروع میں ذکر کیا گیا ہے کہ آیات وروایات میں ہر گناہ گار کوظالم اوراپنے آپ پر ظلم کرنے والا کہا گیا ہے۔ اس بنا پر اگر کوئی بھی شخص کسی گناہ میں اس کی مدد کرے تو اس نے ظالم کی مدد کی جو یقیناحرام ہے اور وہ اس گناہ گار کے گناہ معصیت میں شریک ہے چنانچہ خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

وَتَعَاوَنُوا۟ عَلَى ٱلْبِرِّ وَٱلتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا۟ عَلَى ٱلْإِثْمِ وَٱلْعُدْوَٰنِ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ (مائدہ ۔ 2)
نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو اور گناه اور ﻇلم و زیادتی میں مدد نہ کرو، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، بےشک اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے واﻻ ہے۔

وہ تما م دلائل جو نہی عن المنکر کے وجوب اور وہ آیات وروایات انذار جو اس کو ترک کرنے والے کے بارے میں ہیں ان کا اطلاق اس مورد پر بھی ہوتا ہے۔

گناہ گار کی گناہ کے علاوہ کسی کام میں مدد کرنا

نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا آیات و روایات کی روشنی میں واجبات خدا میں سے اس قدر اہم ہے کہ بعض واجب حقوق سے ٹکرانے کی صورت میں اس کے مقدم ہونے میں کوئی شک نہیں۔ مثلاً جب ماں، باپ، بیٹا یا کوئی دوسرے عزیز رشتہ دار نماز نہیں پڑھتے یا کسی بھی گناہ کا ارتکاب کرتے ہوں تو اگر ان کی حالت ایسی ہو کہ اگر ان کے ساتھ نیکی نہ کی جائے یا وقت ضرورت ان کی مدد نہ کی جائے تو وہ اپنا برا عمل چھوڑ دیں گے یا نماز پڑھنے لگیں گے تو ایسی صورت میں نہی عن المنکر کی رو سے واجب ہو جاتا ہے کہ ان کے ساتھ نیکی نہ کی جائے اور نہ ہی رشتہ داروں کی مدد کی جائے۔

مثلاً اگر ایک سید شراب پیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ نیکی کرنا چھوڑ دیا جائے تو وہ بھی شراب خوری چھوڑ دے گا, یہی صورت حال پڑوسی اور اہل بیت علیہم السلام کے دوستوں کی ہے۔ یعنی اگر نیکی نہ کرنا فائدہ مند ہو تو واجب ہو جاتا ہے کہ نیکی اور مدد نہ کی جائے۔ البتہ گناہ گار کی مدد اس وقت تک حرام تھی کہ جب مدد نہ کرنے کی صورت میں وہ بھی گناہ ترک کر دیتا ہو (یعنی نہی عن المنکر کے لحاظ سے حرام تھی) لیکن جب اس کی مدد کرنا، نہ کرنا، احسان کرنا، اور نہ کرنا برابر ہو یعنی اس پر کوئی اثر نہ ہو اور وہ گناہ کو ترک نہ کرے تو نہی عن المنکر کی رو سے احسان و امداد کا حرام ہونا ختم ہوجاتا ہے۔ یعنی یہ باتیں حرام نہیں رہتیں اور قطع رحم بدستور حرام رہے گا۔

البتہ کسی بھی ایسے موقع پر کہ جب انسان مدد اور احسان کی بدولت زیادہ جلد گناہ سے دوری اختیار کر سکتا ہو تو بے شک امداد و احسان کے ذریعے نہی عن المنکر کیا جائے مثلاً اگر کسی کا باپ کا بیٹا نماز نہیں پڑھتا اور اس بات کا قوی امکان ہو کہ محبت و احسان کی بدولت جیسا کہ زیادہ تر ہوتا ہے وہ اس گناہ کو چھوڑ دیں گے یعنی اس سے قبل کہ ان سے ناطہ توڑا جائے یا نیکی نہ کی جائے وہ نمازی بن جائیں گے تو ایسی صورت میں نیکی اور مدد کرنا واجب ہے۔

متعلقہ تحاریر