مظلوموں کی مدد نہ کرنا

گناہان کبیرہ ۔ شھید آیۃ اللہ عبدالحسین دستغیب شیرازی 24/05/2022 590

مظلوم کی مدد کرنا عملی طور پر برائی کو روکنا ہے۔ پس اگر کوئی مظلوم کی مدد نہ کرے تو اس نے ایک بہت بڑے واجب الہٰی کو ترک کیا ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیا گیا ہے:

مظلوم سے ظلم دور کرنے کے لئے اس کی مدد نہ کرنا گناہان کبیرہ میں سے ہے۔

آپؑ ہی کا ارشاد ہے:

جو مومن استطاعت رکھتے ہوئے کسی مومن کی مدد نہ کرے تو خدا اسے دنیا و آخرت میں ذلیل و رسوا کرتا ہے۔ وہ مومن نہیں جو استطاعت رکھتے ہوئے اپنے مومن بھائی کی مدد نہ کرے تو پس خدا بھی اسے اس کے حال پہ چھوڑدیتا ہے اور دنیا وآخرت میں اس کی مدد نہیں کرتا۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ فرماتے ہیں:

مومن کی مدد کرنا ضرروی ہے چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم, اگر ظالم ہو تو اسے ظلم کرنے سے روکا جائے (یہی اس کی مدد ہے) اور اگر مظلوم ہوتو ظالم سے اس کا حق لینے میں اس کی مدد کرے, اور اسے ترک نہ کرے اور نہ ہی اسے اس کے حال پہ چھوڑے۔ (داراالسلام نوری ج 6)

امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام فرماتے ہیں:

اگر کوئی شخص اپنے بعض حالات سے مجبور ہو کر اپنے کسی مسلمان بھائی سے پناہ لینا چاہے اور وہ اسے پناہ نہ دے اور قدرت رکھتے ہوئے اس کی مدد نہ کرے تو اس نے خود اپنے آپ سے خدا کی مدد کو دور کردیا۔ (کافی ج 4 حدیث 4)

یعنی خدا جو ہر مومن کا ولی ہے لیکن مومن کی مدد نہ کرنے والے کا خدا ولی نہیں اور اس کے کاموں کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:

تم میں سے کسی ایک کو بھی ایسی جگہ پر کہ جہاں ظالم بادشاہ کسی مظلوم کو مار رہا ہو یا نا حق قتل کر رہا ہو یا اس پر ظلم کر رہا ہو نہیں جانا چاہیئے جبکہ وہ وہاں موجود ہونے کے باوجود اس کی مدد نہ کرسکتا ہو کیونکہ مقام ظلم پر موجود ہونے کی صورت میں ایک مومن کا دوسرے مومن کی مدد نہ کرنا واجبات خدا میں سے ایک واجب فریضہ ہے لیکن اگر وہ موجود نہ ہوتو اس پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوگی (سفینة البحار ج 4)

عمروبن قیس کہتا ہے کہ میں اپنے چچا کے بیٹے کے ساتھ محل بنی مقاتل میں امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں سلام کیا۔ انہوں نے ہم سے فرمایا کیا تم میری مدد کرنے کے لئے آئے ہو؟ میں نے کہا, میں بال بچوں والا آدمی ہوں اور میرے پاس لوگوں کا مال ہے۔ میں نہیں جانتا کہ میری عاقبت کیا ہوگی, اور میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ لوگوں کی امانت کو ضائع کروں اور میرے چچا کے بیٹے نے بھی امام کے جوب میں یہی کہا۔ پس امام نے فرمایا:

اگر تم میری مدد نہیں کرسکتے تو اس بیابان سے دور ہوجاؤ, کہ تم میری آہ زاری کو نہ سنو اور مجھے نہ دیکھو, کیونکہ اگر کوئی بھی ہماری بے کسی کی فریاد کو سنے یا ہمیں بے کسی کے عالم میں دیکھے اور ہماری مدد نہ کرے توخدا پر لازم ہے کہ اسے جہنم کی آگ میں پھینک دے۔ (سفینة البحار ج 4)

امام جعفر صاد ق علیہ السلام فرماتے ہیں:

یہودیوں کے کسی عالم کو اس کی قبر میں اس طرح عذاب کے تازیانے مارے کہ اس کی آگ قبر سے بھر گئی اور اس کی وجہ تھی کہ ایک دن اس نے بغیر وضو کے نماز پڑھی اور مظلوم کے پاس سے گزرا لیکن اس کی مدد نہ کی۔ (سفینہ البحار ج 4)

اور امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:

اگر کسی کے سامنے اس کے مسلمان بھائی کے عیب کا ذکر کیا جائے اور وہ اس کی مدد نہ کرے یعنی ممکن ہوتے ہوئے اس کےعیب کو دور نہ کرے توخداوند عالم دنیا وآخرت میں اسے رسواکرے گا۔

اس حدیث اوردوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مظلومیت صرف جسم اور مال سے مخصوص نہیں بلکہ اس کا تعلق عزت و آبرو سے بھی ہے کیونکہ کسی مومن کی عزت اس کے جان ومال کی طرح قابل احترام ہے۔ جس طرح اس کا خون بہانا یا اس کا مال لینا جائز نہیں, بالکل اسی طرح اس کو بے عزت کرنا بھی حرام ہے۔ اور روایات میں اس بارے میں بہت سختی سے ڈرایا گیا ہے اور جس طرح مومن کے قتل ہونے اور اس کا مال لٹنے سے بچانے میں اس کی مدد کرنا واجب ہے اسی طرح اس کی عزت وآبر ہ کی حفاظت میں اس کی مدد کرنا واجب ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

اگر کوئی شخص کسی مومن کو ایسی بات بتائے کہ جس کے ذریعہ یہ چاہتا ہوکہ وہ برا ہوجائے اس کی غیر ت وحیا ختم ہوجائے اور وہ لوگوں کی نظر وں سے گر جائے اور لوگ اس پر اعتبار نہ کریں اوراس کی عزت نہ کریں توخداوند عالم اسے اپنی ولایت نصرت سے محروم کردیتا ہے اور اس کو شیطان کے لئے چھوڑ دیتاہے اور شیطان بھی اسے قبول نہیں کرتا۔ (اصول کافی ج 4)

حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) فرماتے ہیں:

اگرکوئی اپنے مومن بھائی کے عیب کو سنے اور اسے ایسا کرنے سے منع کرے یعنی اس مومن کو بے عیب ظاہر کرے  تو خدا وند عالم دنیاوآخرت میں ہزار شر کے دروازے اس پر بند کردیتا ہے اور اگر وہ قدرت رکھتے ہوئے عیب بیان کرنے والے کو نہ روکے توپس اس کے گناہ ستر غیبت کرنے والوں کے برابر ہوں گے۔ (مکاسب اور شرح مکاسب ج ۴ ص ۶۹)

شیخ انصاری علیہ الرحمہ کہتے ہیں اس کے گناہ سترغیبت کرنے والوں کے برابر ہوں گے اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ اگر عیب بیان کرنے والے کو نہ ٹوکا جائے اور خاموشی اختیار کی جائے تو عیب بیان کرنے والا اس گناہ یا دوسرے گناہوں میں اور دلیر ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ آپ فرماتے ہیں کہ غیبت کرنے والے کو روکنے سے مراد یہ نہیں ہے کہ صرف اسے منع کیا جائے, بلکہ اس کی مدد کرنی چاہیئے۔ یعنی وہ عیب جو اس نے مومن سے منسوب کیا ہے اس عیب سے اس مومن کو بالکل بے عیب ظاہر کرے۔ مثلاً اگر وہ عیب دنیا کے کاموں سے متعلق ہو تو یوں کہے بھئی یہ کوئی خامی تو نہیں کیونکہ اس نے کوئی گناہ تو کیا نہیں اور عیب تو وہ ہے جسے خدا نے حرام قرار دیا ہو۔ اگر وہ عیب دینی امور میں سے ہو تو اس کے صحیح ہونے کی کوئی وجہ پیش کرنا چاہیئے اور اسے صحیح ظاہر کرنا چاہئیے مثلاً اگر وہ کہے فلاں شخص نماز نہیں پڑھتا تو اسے جواب میں یہ کہے کہ شاید وہ بھول گیا ہو یا اس نے نماز پڑھی ہو اور تمہیں پتہ نہ چلا ہو۔ یا اگر وہ کہے کہ فلاں شخص شراب پیتا ہے تو وہ جواباً کہے کہ شاید وہ شراب نہ ہو اور اگر یوں کہنا صحیح نہ ہو تو کہے کہ مومن معصوم تو نہیں ہوتا اس سے گناہ سرزد ہوتے رہتے ہیں تمہیں چاہیئے کہ اس کے لئے استغفار کرو اور اس کے غم بانٹنے کی کوشش کرو نہ یہ کہ اس کی غیر موجودگی میں اس کی برائیاں بیان کرو۔

ضروری نہیں کہ صرف مدد طلب کرنے والے ہی کی مدد کی جائے

جان لیں کہ مظلوم کی مدد کا واجب ہونا صرف اس مظلوم کے لئے نہیں جو مدد طلب کرے بلکہ ہر وہ شخص جو با خبر ہو اور ظلم کو مومن سے دور کر سکتا ہو تو اس پر مدد کرنا واجب ہے اور اگر مظلوم خود ہی مدد طلب کرے تو اس کی مدد کرنا سخت ضروری ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:

اگر کوئی شخص کسی کی یہ صدا سنے کہ اے مسلمانوں میری مدد کو پہنچو پس وہ اس کی فریاد رسی اور مدد نہ کرے تو وہ مسلمان نہیں (جہاد وسائل ب 59)

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

اگر کوئی شخص اپنے دینی مسلمان بھائی سے مدد طلب کرے اور وہ قدرت رکھتے ہوئے اس کی حاجت پوری نہ کرے تو خداوند عالم اس کی قبر میں اس پر ایک نہایت بڑے سانپ کو مسلط کر دیتا ہے تاکہ وہ اسے ڈستا رہے۔ (مستدرک)

اس کے علاوہ آپ فرماتے ہیں:

کوئی اپنے مسلمان بھائی کی مدد اور دل جوئی کو ترک نہیں کر سکتا مگر یہ کہ اس کی مدد اور دل جوئی کرنے میں کسی قسم کا فائدہ نہ ہو۔ (کافی ج 2)

امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں:

وہ گناہ کے جس کے سبب بلائیں نازل ہوتی ہیں۔ وہ مجبور لوگوں کی فریاد کو نہ پہنچنا ہے۔ (معانی الاخبار 271)

خدا سے مناجات کرتے ہوئے آپؑ نے فرمایا:

پروردگار! میں تجھ سے معافی مانگتا ہوں کہ میرے سامنے کسی مظلوم پر ظلم ہو اور میں اس کی مدد نہ کروں خدایا کسی مجبور و مصیبت زدہ کی مدد نہ کرنے پہ میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں۔ (صحیفہ سجادیہ, دعاء 38)

مظلوم کی مدد کرنا صرف مومن کے ساتھ مخصوص نہیں

قدرت رکھتے ہوئے مظلوم کی مدد کرنا واجب ہے۔ اس سے مراد صرف مومن نہیں بلکہ اگر کافر غیر حربی اور حیوان پر بھی ظلم ہو رہا ہو تو اسے نہی عن المنکر کے قانون کے تحت روکنا واجب اور اس ظلم کا خاتمہ ضروری ہے۔

منتھی الامال میں لکھا ہے جس سال منصور دوانیقی مکہ معظمہ گیا ہوا تھا تو ایک روز بہت ہی قیمتی ہیرا بیچنے کے لئے اس کے سامنے لایا گیا۔ منصور تھوڑی دیر تک ہیرے کو دیکھتا رہا اور اس کے بعد کہا, اس گوہر کا تعلق ہشام بن عبدالملک مروان سے ہے اور اس ہیرے کو مجھ تک پہنچنا چاہیئے تھا۔ پس محمد نامی اس کا بیٹا زندہ ہے اور یقینا اسی نے ہیرا بیچنے کا ارادہ کیا ہے۔ اس کے بعد اس نے پہرہ دار ربیع سے کہا کل صبح نماز کے بعد مسجد الحرام کے تمام دروازوں کو بند کر دینے کا حکم دو اور پھر اس کے بعد صرف ایک دروازے کو کھولو اور ایک ایک کر کے مردوں کو جانے کی اجازت دو اور جب محمد بن ہشام کو پہچان لو تو اس کو پکڑ کر میرے پاس لے آؤ۔

دوسرے دن جب صبح کی نماز کے بعد تمام دروازے بند کردیئے گئے اور اعلان کیا گیا کہ تمام لوگ ایک ایک کر کے فلاں دروازے سے باہر جائیں تو محمد بن ہشام سمجھ گیا کہ یہ سارا چکر اس کو گرفتار کرنے کے لئے ہے تو وہ وحشت زدہ ہو گیا اور چاروں طرف حیران پریشان ہو کر دیکھنے لگا۔ اور اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے اسی اثناء میں محمد بن زید بن علی بن الحسین علیہ السلام اس کے پاس پہنچے اور اس سے فرمایا کہ تم کون ہو اور کیوں اس طرح پریشان کھڑے ہو۔ اس نے کہا اگر میں اپنا تعارف کراؤں تو کیا میری جان کو امان ہوگی انہوں نے فرمایا ہاں میں عہد کرتا ہوں کہ تمہیں اس خطرے سے نجات دلاؤں گا۔ اس نے کہا میں ہشام بن عبدالملک کا بیٹا ہوں۔ اب آپ بھی اپنا تعارف کرائیے تاکہ میں آپ کو پہچان سکوں۔ آپ نے فرمایا میں محمد بن زید بن علی بن الحسین ہوں بے۔ شک تمہارے باپ مروان نے میرے والد زید کو شہید کیا لیکن اے میرے چچا کے بیٹے اب تم اپنی جان کی طرف سے اطمینان رکھو۔ کیونکہ تم میرے والد کے قاتل نہیں ہو اور تمہیں قتل کرنا میرے والد کے ناحق خون کی تلافی نہیں کر سکتا اور اس وقت جیسے بھی ممکن ہو میں تمہیں اس خطرے سے نجات دلاؤں گا اور میری نظر میں اس مسئلے کا ایک حل ہے۔ اور میں چاہتا ہوں اس پر عمل کروں اس شرط کے ساتھ کے تم میرا ساتھ دو گے اور خوف و ڈر کو اپنے پاس بھٹکنے نہ دو گے۔ پس اسے یہ حکم دینے کے بعد آپ نے اپنے جسم سے عبا اتاری اور اسے محمد کے سر اور چہرے پر ڈال دیا اور اسے اپنے ساتھ کھینچتے ہوئے پے درپے تھپڑ مارتے ہوئے لے جا رہے تھے اور جب مسجد کے دروازے پر پہرہ دار ربیع کے پاس پہنچے تو با آواز بلند اس سے مخاطب ہو کر کہا یہ خبیث مرد کوفہ کا رہنے والا شتر بان ہے اور اس نے مجھے اپنا اونٹ کرایہ پہ دیا کہ اس پر آنا جانا میرے اختیار میں تھا لیکن بعد میں یہ بھاگ گیا اور کسی دوسرے آدمی کو اونٹ کرایہ پر دے دیا اور اس سلسلے میں میرے پاس دو عادل گواہ بھی ہیں ابھی تم اپنے ملازموں کو میرے ساتھ بھیجو تاکہ اسے قاضی کے پاس لے جاؤں۔ ربیع نے دو پہرہ داروں کو محمد بن زید کے ہمراہ کردیا وہ سب ساتھ مسجد سے باہر آئے اور راستے میں انہوں نے محمد بن ہشام کی طرف رخ کر لیا اور کہا اے خبیث اگر اب بھی تم میرا حق ادا کرنے پر تیار ہوجاؤ تو میں پہرہ داروں اور قاضی کو زیادہ زحمت نہ دوں۔ محمد بن ہشام جو اچھی طرح متوجہ تھا کہنے لگا یا بن رسول الله میں آپ کی اطاعت کروں گا پس محمد بن زید نے نگہبانوں سے فرمایا کیونکہ اس نے عہد کر لیا ہے کہ میرا حق ادا کرے گا اس لئے اب تم لوگ زیادہ زحمت نہ اٹھاؤ۔ جب مامورین واپس چلے گئے تو محمد بن ہشام جو کہ بہت آسانی سے موت کے خطرے سے نکل آیا تھا۔ محمد بن زید علیہ السلام کے سرو چہرے کو بوسہ دیا اور کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں خداوند بہتر جانتا تھا اسی لئے رسالت کو آپ کے خاندان میں قرار دیا پس اس کے بعد ایک قیمتی ہیرا اپنی جیب سے نکالا اور کہا یہ میری طرف سے تحفہ قبول کر کے مجھے افتخار کا موقعہ دیں۔ محمد بن زید علیہ السلام نے فرمایا میں اس خاندان میں سے ہوں جو نیک کام کے عوض کوئی چیز نہیں لیتا اور جب میں نے تمہارے بارے میں اپنے والد کے خون کو درگزر کر دیا تو اب اس ہیرے کو کیونکر لوں۔

عابد زمین میں دھنس جاتا ہے

شیخ طوسی نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے کہ بنی اسرائیل کا ایک بوڑھا عابد نماز میں مشغول تھا کہ اس نے دیکھا کہ دو بچے ایک مرغے کو پکڑ کر اس کے پر نوچ رہے ہیں اور وہ مرغا چیخ و پکار کر رہا ہے۔ لیکن وہ عابد اسی طرح نماز میں مصروف رہا اور اس حیوان کو نجات نہیں دلائی اور بچوں سے اسے نہیں چھڑایا۔ پس خداوند عالم نے زمین کو حکم دیا کہ اس عابد کو نگل لے۔ اور زمین اسے سب سے نچلے حصے میں لے گئی۔

وہ ثواب جو مومن کی مدد کرنے سے دنیا اور آخرت میں حاصل ہوتے ہیں

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

جو کوئی اپنے مومن بھائی کی مجبوری اور پریشانی میں فریاد رسی کرے اور اس کے غم کو دور کرے اور اس کی حاجتوں کو پورا کرنے میں اس کی مدد کرے تو اس کے اس عمل کی وجہ سے خدا کی طرف سے 72 رحمتیں اس کے لئے واجب ہو جاتی ہیں کہ ان میں سے ایک رحمت اسے دنیا میں دے دی جاتی ہے تاکہ اس کے دنیا کے مسائل کی اصلاحی ہو اور اکہتر رحمتیں اس کے لئے آخرت کے خوف و پریشانی کے لئے ذخیرہ کر دیتا ہے۔ (وسائل کتاب الامر بالمعروف ب 29 ج 11)

اس کے علاوہ آپؑ فرماتے ہیں:

اگر کوئی شخص کسی مومن کی حاجت کو پورا کرنے کی کوشش کرے یہاں تک کہ وہ حاجت اس کے ہاتھوں سے پوری ہو جائے تو خداوند عالم اس کے نامہ اعمال میں حج و عمرہ اور دو ماہ مسجدالحرام میں اعتکاف اور دو ماہ روزے کا ثواب لکھتا ہے اور اگر وہ حاجت اس کے ذریعے پوری نہ ہو تو ایک حج اور عمرہ کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ (الامر بالمعروف ب 48 ج 11)

اس کے علاوہ آپؑ فرماتے ہیں:

خدا تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام پر وحی نازل کی اور فرمایا کہ میرے بندوں میں سے ایک بندے کی ایک نیکی مجھ تک پہنچے گی اور میں اسے جنت میں داخل کروں گا۔ داؤد علیہ السلام نے کہا اے خداوند وہ کونسی نیکی ہے؟ فرمایا مومن سے اس کے غم اور مصیبتوں کو دور کرنا اگرچہ وہ ایک کھجور کے برابر ہو۔ داؤد علیہ السلام نے کہا خدایا تیری ذات ہی اس بات کی سزا وار ہے کہ جس نے تیری معرفت حاصل کر لی اسے چاہیئے کہ تجھ سے نا امید نہ ہو۔

کتاب فقیہ میں میمون بن مہران سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا میں امام حسن علیہ السلام کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اسی اثناء میں ایک شخص آیا اور کہا اے فرزند رسول میں فلاں آدمی کا مقروض ہوں اور اب وہ مجھے قید کر دینا چاہتا ہے امام نے فرمایا میرے پاس مال موجود نہیں ہے کہ تمہارا قرض ادا کر سکوں۔ میں نے کہا آپ اس سلسلے میں اس سے گفتگو کیجئے شاید وہ مجھے قید نہ کرے۔ امامؑ نے اپنے جوتوں کو پہنا تو میں نے کہا اے فرزند رسول کیا آپ بھول گئے کہ آپ اعتکاف میں ہیں اور مسجد سے باہر نہیں جا سکتے؟ امام نے فرمایا میں نے فراموش نہیں کیا لیکن میں نے اپنے والد سے سنا ہے کہ میرے جد رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کی حاجت کو پورا کرنے کی کوشش کرے تو گویا اس نے نو ہزار سال تک دن میں روزہ رکھ کر اور راتوں کو جاگ کر خدا کی عبادت کی ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام کا خط اھواز کے حاکم کے نام

جس وقت نجاشی اھواز کا حاکم بنا تو اس کے ملازموں میں سے ایک نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کی کہ نجاشی کے حساب و کتاب میں میرے ذمہ کچھ حساب ہے۔ اور وہ مرد مومن ہے اور آپ کا فرمانبردار ہے اور اگر آپ بہتر سمجھیں تو میری خاطر اسے ایک خط لکھیں۔ امامؑ نے یہ تحریر فرمایا:

بسم الله الرحمٰن الرحیم
اپنے بھائی کو خوش کرو تاکہ خدا تمہیں خوش کرے۔ (اصول کافی باب ادخال السرور علی المومن)

وہ کہتے ہیں کہ جب میں نجاشی کے پاس گیا تو وہ اپنے سرکاری کام میں مصروف تھا جب وہ فارغ ہوا تو میں نے امام کا خط اسے دیا اور کہا یہ امام کا خط ہے۔ اس نے خط کو چوم کر اپنی دونوں آنکھوں سے لگایا اور کہا کیا کام ہے۔ میں نے کہا آپ کے حساب میں میرے ذمے کچھ رقم ہے۔ نجاشی نے کہا کتنی رقم ہے۔  میں نے کہا دس ہزار درہم نجاشی نے اپنی منشی کو طلب کیا اور اسے حکم دیا کہ اس شخص کی طرف سے اس کی رقم ادا کرو اور اس کے نام کا حساب رجسٹر سے ختم کر دیا جائے اور پھر حکم دیا کہ آئندہ سال کے لئے بھی اس کے لئے اتنی ہی رقم لکھ دو۔ اس کے بعد اس نے کہا کیا میں نے تمہیں خوش کر دیا اس نے جواب دیا جی ہاں۔ اس کے بعد نجاشی نے سواری کے لئے ایک گھوڑا ایک کنیز اور ایک غلام اور ایک جوڑا لباس اسے دینے کا حکم دیا اور ہر چیز دینے کے بعد کہتا کیا میں نے تمہیں خوش کر دیا؟ وہ جواب دیتا تھا جی ہاں میں آپ پر قربان جاؤں اور جس قدر کہتا تھا جی ہاں اسے اتنا ہی زیادہ دیتا تھا۔ جب یہ چیزیں دے چکا تو اس کے بعد اس سے کہا اس کمرے کا پورا قالین جس پر میں بیٹھا ہوں اپنے ساتھ لے جاؤ کیونکہ تم نے میرے آقا و مولا کا خط اسی قالین پر مجھے دیا ہے اور اس کے علاوہ کوئی بھی حاجت ہو تو بیان کرو۔ اس آدمی نے شکریہ ادا کیا اور وہاں سے روانہ ہوا اور جب امام کی خدمت میں حاضر ہوا تو تمام باتیں امام کو بتائیں۔ امام نجاشی کے اس عمل سے بہت خوش ہوئے اس نے امام سے کہا اے فرزند رسول آپ میرے ساتھ نجاشی کے اس عمل سے خوش ہیں۔ امام نے فرمایا ہاں خدا کی قسم اس نے خدا اور اس کے رسول صلی الله علیہ وآلہ وسلم کوبھی خوش کیا۔

علی کے والد یقطین سے نقل کیا گیا ہے کہ اھواز میں یحیٰی بن خالد کے منشیوں میں سے ایک منشی ہمارا والی مقرر ہوا۔ میرے اوپر کافی زیادہ ٹیکس تھا جس کے ادا کرنے سے میں معذور تھا کیونکہ ٹیکس کی ادائیگی کی صورت میں میری تمام جائیداد اور مال میرے ہاتھوں سے چلا جاتا۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ امامت کا قائل اور شیعوں میں سے ہے میں ڈرا کہ کہیں میں اس سے ملاقات کروں اور وہ شیعہ نہ ہو میرے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کہ اھواز سے مکہ کی طرف فرار اختیار کروں۔ پس حج سے فارغ ہونے کے بعد میں نے مدینہ جانے کا ارادہ کیا اور جب میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا۔ اے میرے آقا ہمارے اوپر فلاں شخص والی مقرر ہوا ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ وہ آپ کے دوستوں میں سے ہے میں اس خوف کی بنا پر کہ شاید وہ شیعہ نہ ہو اور اس کے پاس جانے سے میرا تمام مال میرے ہاتھوں سے چلا جائے میں نے خدا کی طرف اور آپ کی طرف فرار کیا۔ امام نے فرمایا اب تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں اور ایک چھوٹا سا رقعہ لکھا:

بسم الله الرحمن الرحیم
الله کے عرش کے سائے میں بہت سے سائبان ہیں کہ جن کا مالک صرف وہی شخص ہوگا جو اپنے بھائی کو غم سے نجات دلائے اسے کسی قسم کی سہولت فراہم کرنے یا اس سے کوئی نیکی کرے اگرچہ آدھا خرمہ ہی ہو۔ اور یہ شخص تمہارا بھائی ہے۔ (از کتاب کلمہ طیبہ)

امام نے اس رقعہ پر مہر لگائی اور فرمایا یہ اسے دینا، جب میں اپنے شہر واپس آیا را ت کو اس کے گھر گیا اور اجازت طلب کی اور کہا میں امام جعفر صادق علیہ السلام کا بھیجا ہوا ہوں۔ پس میں نے دیکھا کہ وہ فوراً ننگے پاؤں باہر نکل آیا اور جیسے ہی اس کی نظریں مجھ پر پڑیں آگے بڑھ کر مجھے سلام کیا۔ اور میری پیشانی چوم کر کہا جناب کیا آپ کو میرے مولانے بھیجا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ اس نے کہا اگر یہ سچ ہے تو آپ کے لئے میری جان بھی قربان ہے۔ پس اس نے میرے ہاتھوں کو تھام لیا اور دریافت کیاجب آپ میرے مولا سے رخصت ہوئے تو ان کا کیا حال تھا۔ میں نے کہا اچھے تھے اس نے کہا خدا کی قسم میں نے کہا خدا کی قسم اس نے تین مرتبہ یہ الفاظ مجھ سے کہے۔ پس میں نے امام کا رقعہ اسے دیا اس نے پڑھ کر چوما اور اپنی آنکھوں سے لگایا۔ اس کے بعد اس نے کہا۔ اے بھائی آپ کو مجھ سے کیا کام ہے بتائیں میں نے کہا سرکاری حساب میں میرے ذمے کچھ ہزار درہم ہیں اور ان کے ادا کرتے کرتے میری جان نکل جائے گی۔ یہ سن کر اس نے سرکاری فائل طلب کی اور جو کچھ میرے ذمے تھا اسے معاف کر دیا اور مجھے ادائیگی کی رسید دے دی اس کے بعد اس نے اپنے مال کے صندوق منگوائے اور اس میں سے آدھا مال مجھے دیا پھر اپنے گھوڑے منگوائے اس میں سے ایک مجھے دیتا تھا اور ایک اپنے لئے رکھتا تھا پھر اپنے کپڑے منگوائے ایک جوڑا خود لیتا اور دوسرا مجھے دے دیتا۔ یہاں تک کہ اپنے تمام مال میں سے آدھا مجھے عطا کیا اور مسلسل یہ کہتا جاتا تھا اے بھائی آیا میں نے تمہیں خوش کر دیا۔ میں نے کہا جی ہاں خدا کی قسم۔

جب حج کا زمانہ آیا تو میں نے کہا میں اس کے احسان و مہربانی کی ہرگز تلافی نہیں کر سکتا سوائے اس چیز کے جو خدا اور اس کے رسول کے نزدیک سب سے بہتر ہو۔ اس کے بعد حج کے لئے روانہ ہوا تاکہ اس کے لئے دعا کروں اور اپنے امام اور مولا کی خدمت میں جانے کا ارادہ کیا تاکہ ان کے سامنے اس کی تعریف کروں اور امام سے اس کے لئے دعا کراؤں۔ مکہ کے بعد جب میں امام کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہیں بہت خوش پایا۔ امام نے فرمایا, اے یقطین وہ آدمی تمہارے ساتھ کیسا پیش آیا؟ جب میں نے وہ تمام باتیں امام کے گوش گزار کیں تو امام کا چہرہ خوشی سے دمکنے لگا۔ اس کے بعد میں نے کہا, اے میرے مولا کیا اس کے اس عمل سے آپ خوش ہیں؟ امام نے فرمایا ہاں خدا کی قسم اس نے میرے آباواجداد کو خوش کیا خدا کی قسم اس نے امیرالمومنین کو رسول خدا صلوات الله علیہم کو اور عرش پر خدا کو خوش کیا۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اور علی بن یقطین

علی بن یقطین امام کے خاص صحابیوں میں سے تھے اور امام ہی کے حکم ہی سے انہوں نے ہارون رشید کے وزیر کے عہدہ کو قبول کیا اور ان پر امام کی اس قدر عنایت تھی کہ عید قربان کے دن امام نے فرمایا کہ, علی بن یقطین کے سوا اس دن میرے دل میں کسی کا خیال نہ آیا اور میں نے اس کے لئے دعا کی۔

ابراہیم جمال نے علی بن یقطین سے ملاقات کرنا چاہی لیکن اسے اجازت نہیں ملی اور اسے منع کر دیا گیا۔ اسی سال علی بن یقطین حج سے مشرف ہوئے اور مدینہ گئے اور جب امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام کی زیارت کے لئے اجازت چاہی تو امام نے انہیں اجازت نہیں دی اور دوسرے دن انہوں نے امام سے ملاقات کی اور عرض کیا اے میرے مولیٰ میرا ایسا کونسا گناہ ہے کہ کل آپ نے مجھے ملنے کی اجازت نہیں دی تھی امام نے فرمایا کیونکہ تم نے اپنے بھائی کو اجازت نہیں دی اسی لئے خداوند تمہاری کوشش کو قبول نہیں کرے گا۔ جب تک ابراہیم جمال تمہیں معاف نہ کردے انہوں نے عرض کیا میرے مولا اس وقت ابراہیم جمال یہاں کہاں وہ تو کوفہ میں ہے اور میں مدینہ میں اسے اپنے آپ سے کیسے راضی و خوشنود کر سکتا ہوں۔

امام نے فرمایا جب رات ہوجائے تو اکیلے بقیع میں جاؤ اس طرح کہ تمہارا کوئی دوست سمجھ نہ سکے وہاں ایک گھوڑا ہوگا اس پر سوار ہو جانا۔ علی بن یقطین نے ایسا ہی کیا تھوڑی ہی دیر میں انہوں نے اپنے آپ کو ابراہیم جمال کے گھر کے دروازے پر پایا۔ دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا میں علی بن یقطین ہوں۔ ابراہیم نے گھر کے اندر ہی سے کہا علی بن یقطین کا مجھ سے کیا تعلق ہے؟ علی نے فریاد کی مجھے تم سے بہت ضروری کام ہے اور اسے قسم دی کہ مجھے گھر میں داخل ہونے کی اجازت دے۔ جب وہ داخل ہوئے تو کہا اے ابراہیم میرے مولیٰ نے مجھے اس وقت تک قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے جب تک کہ تم مجھے معاف نہ کر دو۔ ابراہیم نے کہا خدا تمہیں بخشے علی بن یقطین نے اسے قسم دی کہ اپنے پیروں کو میرے چہرے پر رکھو۔ ابراہیم نے قبول نہ کیا علی نے دو مرتبہ اسے قسم دی ابراہیم نے ایسا ہی کیا تو علی بن یقطین نے کہا خدا یا گواہ رہنا۔ بعد میں گھوڑے پر سوار ہوئے اور اپنے آپ کو امام کے دروازے پر پایا۔ دروازہ کھٹکھٹایا امام نے انہیں داخل ہونے کی اجازت دے دی۔

خود اس شخص کی حاجت بھی پوری ہو جاتی ہے

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی مظلوم پر سے ظلم دور کرنے یا مومنوں کی حاجت پوری کرنے ی کوشش کرتا ہے تو آخرت کے ثواب کے علاوہ اس دنیا میں بھی اس کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کی اپنی حاجتیں بھی پوری ہوتی ہیں۔

کتاب محاسن کے مصنف عالم جلیل احمد بن محمد بن خالد البرقی جو حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانے میں اور غیبت صغریٰ میں بھی موجو د تھے فرماتے ہیں کہ میں شہر رے پہنچا اور کوتکین کے منشی ابوالحسن مادرانی کا مہمان ہوا۔ اس کی طرف سے میرے لئے سالانہ وظیفہ مقرر تھا جو میں کاشان میں واقع ایک علاقے کے ٹیکس سے محسوب کر لیتا تھا لیکن اچانک مجھ سے ٹیکس کا مطالبہ کیا گیا اور وہ اپنے کچھ کاموں کی وجہ سے میری طرف سے غافل ہو گیا۔ ایک روز جب کہ میں سخت فکر و پریشانی میں مبتلا تھا کہ یکایک میرے پاس ایک پاکیزہ بزرگ آدمی آیا جو بہت کمزور تھا اور لگتا تھا کہ اس کے بدن میں خون بالکل نہیں۔ اس نے مجھ سے کہا اے ابو عبدالله میرے اور تمہارے درمیان وجہ اشتراک دین کی پاکیزگی اور آئمہ طاہرین کی دوستی ہے۔ خدا کی خوشنودی اور ہم سادات کی دوستی کی خاطر میرے لئے انہی ایام میں کچھ نہ کچھ کرو۔ میں نے دریافت کیا آخر آپ کی حاجت کیا ہے؟ وہ بولا لوگوں نے میرے متعلق یہ مشہور کر دیا ہے کہ میں نے کوتکین کے خلاف سلطان کو خفیہ طور سے کچھ لکھ دیا ہے اسی لیے انہوں نے میرا مال ضبط کر لیا۔ میں نے اس سے وعدہ کیا کہ میں آپ کی حاجت پوری کروادوں گا اور وہ چلا گیا میں نے کچھ سوچ کر اپنے دل میں کہا کہ اگر اپنی اور اسکی حاجت بیک وقت طلب کرتاہوں تو دونوں پوری نہیں ہو سکتیں اور اگر اس کی حاجت طلب کرتا ہوں تو اپنی حاجت پوری نہیں ہوتی اس کے بعد میں اپنی لائبریری میں گیا تو مجھے حضرت صادق علیہ السلام کی ایک حدیث ملی کہ اگر کوئی خلوص دل سے اپنے مومن بھائی کی حاجت پوری کرنے کی کوشش کرے تو خدا اس کے ذریعے اس کی حاجت پوری کرتا ہے اور اگر خود اس کی بھی کوئی حاجت ہو تو وہ بھی پوری ہو جاتی ہے۔ بس میں اسی وقت اٹھ کھڑا ہوا اور ابوالحسن مادرانی کے دروازے پر جا پہنچا اور جب میں اجازت لے کر اس کے پاس آیا تو دیکھا کہ وہ اپنی جگہ کرسی پر تکیہ لگائے بیٹھا ہے اور اس کے ہاتھ میں ایک چھڑی ہے۔ میں نے سلام کیا اس نے سلام کا جواب دیا اور کہا بیٹھو پس خدا نے میری زبان پر یہ آیت جاری کر دی جسے میں نے بلند آواز سے پڑھا:

وَٱبْتَغِ فِيمَآ ءَاتَىٰكَ ٱللَّهُ ٱلدَّارَ ٱلْـَٔاخِرَةَ ۖ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ ٱلدُّنْيَا ۖ وَأَحْسِن كَمَآ أَحْسَنَ ٱللَّهُ إِلَيْكَ ۖ وَلَا تَبْغِ ٱلْفَسَادَ فِى ٱلْأَرْضِ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْمُفْسِدِينَ (قصص ۔ 77)
اور جو کچھ اللہ تعالی نے تجھے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ  اور اپنے دنیوی حصے کو بھی نہ بھول  اور جیسے کہ اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی اچھا سلوک کر  اور ملک میں فساد کا خواہاں نہ ہو، یقین مان کہ اللہ مفسدوں کو ناپسند رکھتا ہے
ابوالحسن نے کہا تمہارا یہ آیت پڑھنا اس بات کی دلیل ہے کہ تمہیں کوئی حاجت ہے۔ تو کھل کر بیان کرو۔ میں نے کہا لوگوں نے فلاں شخص کے خلاف اس طرح کی باتیں کی ہیں۔ اس نے پوچھا کیا وہ شیعہ ہے جو تم اسے جانتے ہو۔ میں نے کہا ہاں اس پر وہ کرسی سے اتر آیا اور غلام سے کہا, رجسٹر اٹھا لاؤ وہ رجسٹر لایا جس میں اس شخص کا مال درج تھا اور وہ بہت زیادہ تھا۔ پھر اس نے حکم دیا کہ اسے سب رقم لوٹا دی جائے اور اسے ایک لباس اور خچر دیا جائے اور اسے اس کے اہل و عیال کے پاس عزت و احترام کے ساتھ واپس بھیج دیا جائے۔ پھر کہا اے ابو عبدالله تم نے نصیحت کرنے میں کوتاہی نہیں کی اور میرے کام کی اصلاح کر دی۔ پھر اس نے ایک پرچہ اٹھا کر اس پر لکھا احمد بن محمد بن خالد البرقی کو دے دیا جائے اور یہ کاشان میں اس کی کاشت کے محاصل میں شمار کیا جائے۔ پھر کچھ دیر رکا اور کہنے لگا اے ابو عبدالله خدا تمہیں اس کی جزا دے کیونکہ تم نے اس ظلم کو جو اس بے چارے پر ہوا تھا اس سلسلے میں میری ہدایت کی۔ پھر وہ دوسرا رقعہ لکھا کہ اسے دس ہزار درہم دئیے جائیں, کیونکہ اس نے ہمیں نیکی کی راہ دکھلائی۔ احمد نے کہا میں نے اس کے ہاتھ چومنا چاہے تو وہ کہنے لگا میرے عمل کو ضائع نہ کرو۔ خدا کی قسم اگر تم میرے ہاتھ چومو گے تو میں تمہارے پاوں چوموں گا۔ یہ بات اس کے حق میں کم تھی کیونکہ وہ آل محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی رسی تھامے ہوئے ہے۔

متعلقہ تحاریر