دلالی اور بھاڑو پنا

گناہان کبیرہ ۔ شھید آیۃ اللہ عبدالحسین دستغیب شیرازی 20/11/2022 70

د لالی

مرد اور عورت کو زنا کے لیے اور دو مردوں کو اغلام کے لیے بلانا دلالی (کٹناپا) کہلاتا ہے جس کے لیے معتبر بیانات میں عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے اور اسلام کی مقدس شریعت میں اس کے لیے حد مقرر کی گئی ہے۔ دلالی کرنے والا شخص نہ صرف نہی از منکر کو ترک کرتا ہے بلکہ منکر کے لیے کوشش کرتا ہے اور جب نہی از منکر کا ترک کرنا ہی گناہ کبیرہ ہے تو پھر منکر کے حکم دینے یا منکر کے لیے کوشش کرنے کا گناہ تو اس سے بھی بڑا ہو گا۔ پیغمبر اکرم ص فرماتے ہیں:

جو شخص کسی مرد اور عورت کے زنا کا ذریعہ بنے گا خدا اس پر بہشت حرام کر دے گا اور وہ دوزخ میں رہے گا اور دوزخ بُرا ٹھکانا ہے اور وہ شخص مرتے وقت تک برابر خدا کے عتاب میں رہے گا۔ (وسائل الشیعہ کتاب نکاح باب 27)

حضرت امام جعفر صادق ع فرماتے ہیں:

رسول خدا ص نے فلاں کرانے والی عورت اور وہ عورت جو اس کام کا واسطہ بنتی ہے دونوں پر لعنت بھیجی ہے۔ (وسائل الشیعہ کتاب نکاح باب ۲۷)
رسول خداؐ نے چار گروہوں پر لعنت کی ہے:
  1. اوّل عورتوں کے بال کاٹنے والی اور وہ جو بال کٹوانے پر آمادہ ہوتی ہے۔
  2. دوسرے جو عورتوں کے دانت اکھاڑتی ہے اور وہ جو اس پر آمادہ ہوتی ہے۔
  3. تیسرے ملانے والی (کٹنی) اور ملنے (زنا کرانے) والی۔
  4. چوتھے جسم گود کر نقش ونگار بنانے والی عورت وہ جو اپنے جسم کو گدوا کر نقش بنواتی ہے۔ (معانی الاخبار)

دلالی کی حد

خود اس شخص کے دو مرتبہ اقرار کرنے یا دو عادل گواہوں کی گواہی سے دلالی ثابت ہو جاتی ہے۔ دلالی ثابت ہو جانے پر 75 کوڑے مارنا چاہئیں, چاہے وہ مرد ہو چاہے عورت۔ اور بعض فقہاء نے فرمایا ہے کہ اگر مرد ہو تو اس سزا کے علاوہ اس کا سر مونڈ کر اسے رسوا کریں اور شہر سے باہر گھمائیں اور بعض نے فرمایا ہے کہ دوسری بار ایسا کرنے پر اسے جلا وطن کر دیں۔

بھا ڑو پنا

بھاڑو اس شخص کو کہتے ہیں کہ جس کی بیوی زنا کراتی ہو اور یہ بات اس کے علم میں ہو۔ پیغمبر اکرم ص فرماتے ہیں:

خدا نے اپنے عزت وجلال کی قسم کھا کر فرمایا ہے, بہشت میں شرابی، چغل خور اور قرم ساق داخل نہیں ہوں گے۔
بہشت کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت پر بھی پہنچ جاتی ہے لیکن جس کو والدین نے عاق کر دیا اور قرم ساق دونوں اس سے محروم رہیں گے۔ جب پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ! قرم ساق کون ہوتا ہے تو آپؐ نے فرمایا وہ شخص جس کی بیوی زنا کراتی ہو اور یہ بات اس کے علم میں ہو۔ (وسائل الشیعہ)

امام جعفر صادق ع فرماتے ہیں: تین گروہ ایسے ہیں جن سے خدا قیامت میں بات نہیں کرے گا۔ ان پر رحمت کی نظر نہیں ڈالے گا۔ ان کو پاکیزہ نہیں کرے گا اور ان پر دردناک عذاب ہو گا۔

  1. زنا کرنے والا بڈھا،
  2. قرم ساق (بھاڑو)
  3. اور وہ بیاہی عورت جو زنا کراتی ہے۔ (وسائل الشیعہ کتاب نکاح باب 16)

متعلقہ تحاریر