جھوٹی قسم

گناہان کبیرہ ۔ شھید آیۃ اللہ عبدالحسین دستغیب شیرازی 26/04/2022 288

قسم کسی بات یا خبر کوثابت کرنے کے لئے یا اسے تاکید کے ساتھ بیان کرنے کے لئے کھائی جاتی ہے۔ جھوٹی قسم کھاکر کوئی خبر دینا اور خاص طور پر خدا کی قسم کسی جھوٹی بات میں کھانا ایک انتہائی بڑا گناہ ہے۔ روایتوں میں ہے ایسا شخص گناہوں میں ڈوبا ہوا رہتا ہے, اور جہنم میں بھی آگ میں گھرار ہے گا۔ جھوٹی قسم سے متعلق روایت میں موجود ہے کہ وہ آدمی کے دین کو اس طرح ختم کردیتی ہے جس طرح کوئی تیز دھار چیز بدن سے بالوں کو اکھاڑ دیتی ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السَّلام نے یہ آیہ شریفہ اس بات کی دلیل کے طور پر تلاوت فرمائی تھی کہ جھوٹی قسم ایک گناہ کبیرہ ہے۔

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ ٱللَّهِ وَأَيْمَـٰنِهِمْ ثَمَنًۭا قَلِيلًا أُو۟لَـٰٓئِكَ لَا خَلَـٰقَ لَهُمْ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ ٱللَّهُ وَلَا يَنظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (آل عمران ۔ 77)
بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اللہ تعالیٰ نہ تو ان سے بات چیت کرے گا نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السّلام ہی سے مروی ہے:
جھوٹی قسم ایمان کو خراب کردینے والی ہوتی ہے۔ (بحاالانوار)

جھوٹی قسم کا عذاب

امراُءالقیس اور ایک آدمی کے درمیان ایک زمین کے سلسے میں جھگڑا ہوگیا۔ ہرکوئی کہتا تھا کہ وہ اس کی زمین ہے۔  یہ دونوں حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی خدمت میں یہ جھگڑا لے کر حاضر ہوئے۔  آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے امُرء القیس سے فرمایا: آیا تم دو عادل گواہ پیش کرسکتے ہو؟ اس نے کہا : جی نہیں  آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا:  پس تمہارے خلاف دعویٰ کرنے والے شخص کو قسم کھالینی چاہیئے۔  امُرء القیس نے کہا:  وہ تو جھوٹی قسم کھا کر میری زمین لے لے گا! آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا : اگر وہ جھوٹی قسم کھائے گا توایسے لوگوں میں شامل ہوجائے گا جس پر کل قیامت کے دن خدا نظر رحمت نہیں ڈالے گا اور اسے گناہوں سے پاک نہیں کرے گا۔ اس شخص کے لئے درد ناک عذاب ہوگا! جب اس شخص نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا یہ بیا ن سُنا تو بہت ڈرگیا اور امُرء القیس کی زمین کے سلسلے میں اپنے جھوٹے دعوے سے باز آیا۔ (امالی, شیخ صدوق) امام جعفر صادق علیہ السَّلام کا ارشاد ہے:

وہ جھوٹی قسم جو جہنم میں جا نے کا سبب بنتی ہے، یہ ہے کہ آدمی کسی مسلمان شخص کے حق کو مارنے کے لئے یا اس کا مال چھین لینے کے لئے کھائے۔  (کتاب کافی, باب ایمان وکفر)
آپؑ ہی کا ارشاد ہے:
جو شخص کوئی قسم کھائے اور وہ جانتا ہوکہ وہ جھوٹا ہے تو گویا وہ خدا سے کُھل کر جنگ کرنے والا ہے! (کتاب کافی,  باب ایمان و کفر)

جھوٹی قسم کے بُرے اثرات

امام محمد باقر علیہ السَّلام فرماتے ہیں کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا:

جھوٹی قسم سے پرہیزکرو۔ اس لئے کہ یہ آبادیوں کو برباد کردیتی ہے۔ اور جھوٹی قسم کھانے والے کو بے سہارا بنا دیتی ہے۔ (کتاب کافی  باب ایمان وکفر)
امام جعفر صادق علیہ السَّلام فرماتے ہیں:
جھوٹی قسم کھانے والا شخص چالیس راتوں کے اندر تنگدست ہوجاتاہے! (کتاب کافی  باب ایمان وکفر)
آپؑ کا یہ بھی ارشا د ہے کہ:
یعنی جب کوئی شخص کہتا ہے خدا جانتا ہے حالانکہ وہ جھوٹ بول رہا ہو تو خدائے تعالٰے اس سے کہتا ہے!  کیا تمہیں میرے علاوہ کوئی اور نہیں ملا جس پر تم جھوٹ باندھ سکو! (کتاب کافی, باب ایمان و کفر)
امام جعفر صادق علیہ السَّلام یہ بھی فرماتے ہیں کہ
یعنی جو شخص کہتا ہے کہ خدا جانتا ہے، حالانکہ خدا کے علم میں اس کے برخلاف بات ہوتو خدا کی عظمت و ہیبت دیکھ کر عرش خدا لرز اٹھتا ہے! ( کتاب کافی )

قسم کھا نا کب واجب ہے ؟

اگر جان یا عزّت کی حفاظت کا مسئلہ ہو تو آدمی کو اپنی خاطر یا کسی مسلمان کی خاطر قسم کھا لینا واجب ہے۔  اسی طرح اگر اپنے مال کی یا ایسے مال کی حفاظت کا مسئلہ ہوجس کی حفاظت واجب ہو اور جو قسم کھائے بغیر ممکن نہ ہو تو وہاں بھی قسم کھانا واجب ہے۔ حتیّٰ کہ کبھی جان، عزت یا خطیر مال کی خاطر جھوٹی قسم کھانا بھی واجب ہوجاتا ہے۔ البتّہ آدمی کوکوشش کرنی چاہیئے کہ وہ جھوٹی قسم کھانے کے بجائے توریہ کرے اوراس طرح احتیاط سے کام بھی چلالے۔

قسم کھا نا کب مستحب ہے؟

بعض مقامات پر قسم کھانا مستحب ہوتا ہے اور بعض مقامات ایسے بھی ہیں جہاں قسم نہ کھانا مستحب ہے۔ اگر اپنے یا کسی مسلمان کے مال کی حفاظت کا ایسا مسئلہ ہو جو واجب نہ ہو، یعنی ایسا مال ہو جس کی حفاظت واجب نہ ہو تو اس کے لئے قسم کھانا مستحب ہے۔ یہ وہ مال ہے جو بہت کم ہو اور جس کی قیمت تیس درہم سے کم ہو۔

زرارہ نے حضرت امام محمد باقر علیہ السَّلام سے کہا: ظالم حکّام ہم سے زبردستی ٹیکس اور خراج وصول کرتے ہیں۔  اگر ہم جھوٹی قسم کھائیں کہ ہمارے پاس ٹیکس دینے کو کچھ نہیں ہے اور ایسی قسم کے بغیر مال کی حفاظت ممکن نہ ہو تو کیسا ہے؟  امام علیہ السَّلام نے فرمایا, ظاہر ہے ایسی قسم کھجور اور مکھن سے زیادہ لذیز ہے (وسائل الشیعہ، کتاب الایمان)

یعنی ایسی قسم ظالم کے ظلم سے نجات کا باعث ہے۔
البتہ اگر تھوڑے سے مال کے لئے قسم نہ کھانا مستحب ہے۔ حضرت امام جعفر صا دق علیہ السَّلام یہ حدیث نبوی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نقل فرماتے ہیں کہ:
جو شخص خداکی بزرگی اور عظمت کا لحاظ کرتے ہوئے قسم نہ کھائے گا تو خدا وند تعالٰی اسے ایسا مال عطا فرمادے گا جو ہاتھ سے گئے ہوئے مال سے بہترہوگا۔  (فروع کافی، کتاب الایمان )
حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام فرماتے ہیں کہ:
اگر تمہارے خلاف کچھ مال کو دعوی کیاجائے لیکن دعویٰ کرنے والے کا تم پر کوئی حق نہ ہو اور وہ تم سے قسم کہلوانا چاہے تو یہ دیکھو کہ اگر مال تیس درہم کی حد میں ہے تو اسے عطا کردو اور قسم نہ کھاو۔ اور اگر مال تیس درہم سے زیادہ کا ہو تو قسم کھالو اور اسے کچھ نہ دو۔  (فروغ کافی)
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) فرماتے ہیں کہ
جو شخص اپنے قرض دار کوبادشاہ کے پاس پیش کرے اور بادشاہ اس سے قسم کھلوانا چاہے لیکن وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ قسم کھانے کا حق رکھتا ہے خدا کی عظمت کا لحاظ رکھتے ہوئے قسم نہ کھائے تو قیامت کے دن خدائے تعالیٰ ایسے شخص کو حضرت ابراہیم خلیل الله سے کم کا درجہ دینے پر راضی نہیں ہوگا! (وسائل الشیعہ )

حق بات پر زور دینے کے لئے قسم

حق بات پر زور دینے اور اس کی اہمیت بتانے کے لئے قرآن مجید میں اور معصومین کی روایت میں کئی مقامات پر قسمیں کھائی گئی ہیں۔ جیسے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) قسم کھا تے ہوئے فرماتے ہیں:

خدا کی قسم! خدا مغفرت دینے میں دریغ نہیں کرے گا اگرچہ یہ ممکن ہے کہ تم لوگ مغفرت طلب کرنے میں کوتاہی کرو! (کتاب مسالک، باب ایمان )
اسی طرح قسم کی ایک اور مثال حضرت امیر لمومنین علی علیہ السَّلام کا یہ قول ہے:
خدا کی قسم! اگر لوگ وہ جانتے ہوتے جو میں جانتا ہوں، تو بہت کم ہنسا کرتے اور بہت زیادہ رویاکرتے۔ (کتاب مسالک۔  باب ایمان )
ایک شخص نے حضرت امام محمد باقر علیہ السَّلا م کو ایک خط لکھا اس خط میں اس نے امام محمد باقر علیہ السَّلام سے پوچھا تھا کہ آپ سے جو بات جھوٹ منسوب کی جارہی ہے اس سلسلے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ امام علیہ السَّلام نے جواب میں لکھا:
خدا کی قسم جو بات منسوب کی جارہی ہے وہ حقیقت نہیں ہے، لیکن میں اس کو جھٹلانے کے لیے کسی بھی حال میں وَالله کہنا پسند نہیں کرتا, لیکن مجھے اس بات کا افسوس ہوتا ہے کہ ایسی بات کہی جارہی ہے جو واقع نہیں ہوئی۔ (مستدرک الوسائل)

قسم کھا نا مکروہ ہے

عام طور پر قسم مکروہ ہوتی ہے کہ جب آدمی غیر ضروری طور پر سچ بات پر قسم کھائے مثلاً کل ایسا ہوا تھا, یا اس وقت ہے۔ مستحب اور واجب قسموں کا بیان گذرا۔ ان واجب یا مستحب قسموں کے علاوہ کی دیگر حالتوں میں کلی طور پر قسم کھانا مکروہ ہے اور اگر جھوٹی بات پر قسم کھائی جائے تو یقیناً حرام ہے۔

سیّد سّجاد ع قسم نہیں کھاتے

کتاب کافی میں یہ روایت موجود ہے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السَّلام کی بیوی کا تعلّق قبیلہ بنی حنیفہ سے تھا۔ امام علیہ السَّلام کے ایک شیعہ نے سیّد الساجدین کو خبر دی کہ یہ عورت آپ کے جد حضرت امیر المومنین علیہ السَّلام کی دشمن ہے۔ تحقیق کے بعد امام علیہ االسَّلام نے اسے طلاق دے دی۔ وہ عورت پہلے ہی مہر لے چکی تھی، اس کے باوجود اس نے امام زین العابدین علیہ السَّلام کے خلاف مہر کا جھوٹا دعویٰ حاکم مدینہ کے سامنے پیش کردیا! اس نے چار سو دینا ر مہر کا مطالبہ کیا تھا۔ سید سجاد ع سے حاکم مدینہ نے کہا یا تو آپ قسم کھا لیجئے آپ نے مہر کی رقم ادا کر دی حضرت سَّید سجاد علیہ السَّلام نے قسم نہیں کھائی، بلکہ اپنے بیٹے حضرت محمد باقر علیہ السَّلام کو حکم دے دیا کہ وہ اس عورت کو چار سو دینا ر دے دیں۔  حضرت محمد باقر علیہ السَّلام نے عرض کیا آپ پر قربان جاوں، کیا حق آپ کے ساتھ نہیں ہے؟ امام علیہ السَّلام نے فرمایا:  کیوں نہیں، لیکن میں خداکو اس امر سے زیادہ بزرگ اورلائق احترام سمجھتا ہوں کہ اس کے نام سے کچھ دنیوی مال کی خاطر قسم کھا بیٹھوں!

حضرت عیسٰی ع کی ہدایت

فروغ کافی میں یہ حدیث بھی موجود ہے جو حضرت امام جعفرصادق علیہ السّلام نے بتائی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام کے حواریوں (شاگردوں) نے ان کے پاس جمع ہو کر عرض کیا: اے خیر سکھانے والے! ہم کو کچھ نصیحت کیجئے۔ کہا: بے شک خدا کے نبی موسیٰ علیہ السَّلام نے تم کو خدا کی جھوٹی قسم نہ کھانے کا حکم دیا تھا, اورمیں تم کو حکم دیتا ہوں کہ خدا کی نہ تو جھوٹی قسم کھاؤ نہ سچی! (فروغ کافی، قسم کا باب)

قابل احترام چیزوں کی قسم

کوئی سچی بات بتانے کے لئے جہاں خدا کی قسم کھا سکتے ہیں وہاں دیگر قابل احترام، شخصیتوں اور مقدس چیزوں کی قسم کھانا بھی جائز ہے۔ ایسے مقامات پر مثلاً قرآن مجید کی قسم، کعبہ کی قسم یا پیغمبر اکرم اور آئمہ کی قسم بھی کھانا جائز ہے۔ اسی طرح ہر قابل احترام ذات یا چیز کی قسم بھی جائز ہے۔ مثلاً آدمی اپنے باپ یا بیٹے یا کسی بھی آدمی کی قسم کھا سکتا ہے۔

البتہ جب اپنا حق ثابت کرنے کے لئے قسم کھانا ضروری ہو تو شرعی طور پر خدا ہی کی قسم کھانی چاہیئے۔ کسی اور ذات یا چیز کی قسم ایسی صورت میں صحیح نہیں ہے۔ شرعی لحاظ سے اس طرح معاملہ ختم نہیں ہوتا۔ اسی طرح اگر مستقبل میں کوئی کام کرنے کا ارادہ ہو اور اس کے لئے کوئی قسم کھانی پڑے تو اس میں بھی خدا ہی کی قسم کھائی جا سکتی ہے۔ کوئی اور قسم شرعی حیثیت نہیں رکھتی۔

وہ قسم کہ جس کا کھانا ہمیشہ حرام ہے

وہ قسم جو ہر حالت میں حرام ہے اور اسے کبھی بھی نہیں کھاسکتے ، وہ خدا اور اس کے دین سے بیزاری اور دوری اختیار کرنیکی قسم کھانا ہے مثلًا آدمی کہے, اگر میں ایسا کام نہ کروں تو خدا سے بیزار ہوجاوں گا یا دین اسلام چھوڑدوں گا! اس قسم کی بات یقینا حرام ہے۔ اسی طرح اگر آدمی کہے: اگر میں نے فلاں کام نہیں کیا توپیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا انکا رکر بیٹھوں گا یا حضرت علی علیہ السَّلام کی ولایت سے باہرنکل جاوں گا، یا یہودی بن جاؤنگا وغیرہ وغیرہ۔

اس قسم کی شرط بھی حرام ہے۔ ایسی بات ہر حال میں حرام ہے خواہ اپنا حق ثابت کرنا ہو یا نہ کسی سچی بات پر زور دینا ہو خواہ مستقبل میں کیس کام کے کرنے یا نہ کرنے کا عہد ہو، یا حال اور ماضی میں ایسا ہو، بہر صورت حرام ہے۔

نبی کریم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے ایک شخص کو کہتے سنا:  میں دین محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے بیزار ہوجاوں گا! رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے یہ سُن کر فرمایا:  تجھ پر وائے ہو! اگر تو دین محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے بیزار ہوجائے گا۔ تو پھر کس کا دین ختیار کرے گا؟ راوی کہتا ہے کہ پھر رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اس شخص سے بات چیت نہیں کی یہاں تک کہ آنحضرتؐ اس دنیا سے چل بسے۔  (کتاب کافی، قسم کاباب)

یونس ابن ظبیان سے حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام نے فرمایا:
اے یونس ہم سے بیزاری کی بات قسم میں استعمال مت کیا کرو۔  جو شخص ہم سے بیزاری کی بات قسم میں استعمال کربیٹھتا ہے، خواہ وہ سچا ہو یا جھوٹا، ہم سے بیزار ہوجاتا ہے! (کتاب کافی، قسم کا باب )

حرمت والی قسم کا کفّارہ

جو قسم حرام ہے، خصوصًا ایسی قسم جس میں مقدّس ہستیوں سے بیزاری کی بات کی گئی ہو، اس کا کفّارہ ظہار یا نذر توڑنے کے کفّارے کی مانند بتایا گیا ہے۔ البتہ کتاب مسالک میں منقول امام حسن عسکری علیہ السَّلام کے ایک خط سے اس کا کفّارہ  دس غریبوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلانا یا ہر مسکین کو ایک مد طعام دینا اور خدا سے استغفار معلوم ہوتا ہے۔

مد طعام سے مراد سات سو پچاس گرام گندم، آٹا، جَو، چاول، یا پکی پکائی کوئی غذا ہے۔

جھوٹی قسم سے توبہ

اگر آدمی ماضی یا حال کی کسی بات پر جھوٹی قسم کھا بیٹھے تو اس کی توبہ یہ ہے کہ آدمی اپنے کہے پر سخت پشیمان ہو۔ یہ جان لے کہ اس نے خداوند عالم کے نام مبارک کو کھلونا سمجھ رکھا تھا اور ایک گناہ کر بیٹھا تھا۔ جس قدر آدمی پشیمان ہوگا، اپنے گناہ کو بڑا سمجھے گا اور استغفار کرے گا اتنا ہی وہ خدا کی رحمت و مغفرت سے نزدیک ہوتا جائے گا۔ اگر جھوٹی قسم کھانے کے باعث کسی مسلمان کو مالی نقصان پہنچا ہو یا اس کو ذلت کا سامنا کرنا پڑا ہو تو جھوٹی قسم کھانے والے شخص کو چاہیئے کہ وہ مالی نقصان کو پورا کر دے، مظلوم شخص سے معافی مانگ لے اور جس طرح بھی ہوتلافی کرے۔

لغو قسم

ارشاد رب العزت ہے:

لَا يُؤَاخِذُكُمُ ٱللَّهُ بِٱللَّغْوِ فِىٓ أَيْمَـٰنِكُمْ وَلَـٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ ٱلْأَيْمَـٰنَ ۖ فَكَفَّـٰرَتُهُۥٓ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَـٰكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍۢ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَـٰثَةِ أَيَّامٍۢ ۚ ذَٰلِكَ كَفَّـٰرَةُ أَيْمَـٰنِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ ۚ وَٱحْفَظُوٓا۟ أَيْمَـٰنَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمْ ءَايَـٰتِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (مائدہ ۔ 89)
اللہ تعالیٰ تمہاری قسموں میں لغو قسم پر تم سے مؤاخذہ نہیں فرماتا لیکن مؤاخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو مضبوط کردو۔ اس کا کفاره دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے اور جس کو مقدور نہ ہو تو تین دن کے روزے ہیں یہ تمہاری قسموں کا کفاره ہے جب کہ تم قسم کھا لو اور اپنی قسموں کا خیال رکھو! اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے واسطے اپنے احکام بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو۔
اس آیہ کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ لغو قسم, شرعی نہیں ہے اور نافذ نہیں ہوتی۔ مثلاً اگر آدمی واجب یا مستحب کام کو ترک کر دینے کی، یا حرام اور مکروہ کو انجام دینے کی قسم کھائے تو یہ قسم لغو ہے۔ پس اگر آدمی استطاعت رکھنے کے باوجود حج پر نہ جانے کی، اپنے عیال کو خرچ نہ دینے کی، اپنی ماں سے یا کسی اور رشتہ دار یا مومن سے بات چیت بند کر دینے کی یا اپنے رشتہ داروں سے صلئہ رحمی نہ کرنے کی، یا دو آمیوں کے درمیان آئندہ جھگڑا دور نہ کرنے کی قسم کھا بیٹھے تو ایسی قسم شرعی حیثیت نہیں رکھتی ہے۔ آدمی کو چاہئیے کہ اگر ایسی کوئی قسم کھا بیٹھا ہو تو استغفار کرے۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام فرماتے ہیں:
اگر آدمی کوئی کام نہ کرنے کی قسم کھا بیٹھے، حالانکہ وہ کام ایسا ہو جسے کرنا نہ کرنے سے بہتر ہو تو اسے چاہیئے کہ ایسا کام ضرور کرے جو بہتر ہے۔ ایسی قسم توڑنے کا اس پر کوئی کفارہ بھی نہیں ہے۔ یہ تو صرف شیطان کا ڈالا ہوا وسوسہ ہے۔ (کافی قسم کا باب)

سعید اعرج نامی راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام سے ایک ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے ایسا کام کرنے کی قسم کھا لی ہے، حالانکہ جس کا نہ کرنا بہتر ہے اور اب وہ قسم توڑنے سے بھی ڈر رہا ہے۔ امام علیہ السَّلام نے فرمایا, کیا تم نے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا یہ قول نہیں سُنا کہ جب بھی تم دیکھو کہ تمہاری قسم کے خلاف کام کرنا بہتر ہے تو ایسی قسم کی پرواہ نہ کرو۔ اور چھوڑ دو۔ (کتاب کافی)

صحیح قسم

قسم کے صحیح ہونے کی کچھ شرطیں ہیں۔ اگر ان شرطوں پر قسم پوری اترتی ہو تو ایسی قسم توڑنا حرام ہے اور توڑنے کی صورت میں کفارہ دینا واجب ہے۔

صحیح قسم کے لئے جس کام کی قسم آدمی کھائے وہ واجب یا مستحب ہونا چاہئیے۔ مثلاً آدمی یہ قسم کھا سکتا ہے کہ وہ جان بوجھ کر صبح کی نماز قضا نہیں کرے گا یا نماز شب ترک نہیں کرے گا۔ اسی طرح اگر کوئی کام چھوڑ دینے کی آدمی قسم کھائے تو وہ کام حرام یا مکروہ ہونا چاہیئے۔ مثلاً آدمی یہ قسم کھا سکتا ہے کہ وہ آئندہ جھوٹ نہیں بولے گا۔ یا مسجد میں نہیں تھوکے گا۔ کسی مباح کام کو ترک کرنے کی قسم اس وقت صحیح ہے جب اس کا کوئی معقول فائدہ ہو۔

واجب، مستحب، حرام، مکروہ یا مباح، ان پانچوں احکام والے کاموں کی قسم اس وقت درست ہے جب کہ خدا کا نام زبان سے لیا جائے، اور کام کے کرنے یا نہ کرنے کا عزم ہو، محض کھیل کھیل میں خدا کی قسم آدمی نہ کھائے۔ آدمی اپنی عادت کے تحت اگر کہے کہ والله میں ایسا کام کر بیٹھوں گا یا خدا کی قسم میں ایسا بُرا کام نہیں کروں گا اور واقعی اس کا عزم ایسا ہو تو وہ قسم میں نافذ ہو جاتی ہے، ورنہ نہیں۔

قسم کی قسمیں

کتاب کافی ہی میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام نے فرمایا, قسم کی تین قسمیں ہیں:

  1. ایسی قسم جس کے سبب سے جہنم واجب ہو جاتا ہے وہ ایسی جھوٹی قسم ہے جس سے دوسرے مسلمان کو مالی نقصان یا زحمت کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ جیسے یمین غموس (یعنی جھوٹی قسم جو ارادة کھائی جائے۔)
  2. ایسی قسم جس کے توڑنے کے سبب سے کفّارہ واجب ہو جاتا ہے وہ کار خیر کو بجا لانے یا بُرے کام کو چھوڑ دینے کی قسم ہے۔ کفّارے کے ساتھ ساتھ توبہ اور پشیمانی بھی واجب ہو جاتی ہے۔
  3. اور ایسی قسم جو نہ جہنم کی موجب ہے اور نہ کفّارے کی موجب ہے وہ ایسی قسم ہے جو کسی حرام کام کے انجام دینے یا کسی واجب کام کے ترک کے سلسلے میں زبردستی حاکم، والدین یا شریک زندگی کے سامنے آدمی کو کھانی پڑی ہو۔ (مثلاً جبکہ قسم نہ کھانے کی صورت میں انسان کو ناقابل برداشت نقصان کا سامنا کرنے کا خطرہ ہو۔ محرر)

متعلقہ تحاریر